سارک ممالک یورپین یونین سے سبق سیکھیں

دنیا کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان کچھ خواب دیکھے لیکن شعور جب غم ذات کی سطح سے بلند ہو کر غم کائنات میں ضم ہوتا ہے تو خواب دیکھنے کیلئے نیند کا ہونا ضروری نہیں رہتا۔ چند ممالک پر مشتمل یورپین یونین اب 28 ممالک پر مشتمل ایک بلاک ہے۔ دس نئے ممبرز قبرص، چیک ری پبلک، ایسٹونیا، ہنگری، لتھویا، لتھوانیا، مالٹا، سلواکیہ اور استووینیا نے ای یو (یورپی یونین) میں شامل ہو کر اسے 45 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اقتصادی اور سیاسی گروپ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک ایسا گروپ جس سے ابھی نہیں تو آنے والے وقت میں امریکہ جیسا ملک ضرور خوفزدہ رہے گا۔ اس بلاک کی ایک علیحدہ شناخت تشکیل دی گئی ہے کہ ہر جغرافیہ کی اپنی شناخت ہوتی ہے۔ اس کی ایک پارلیمنٹ ہے ایک آئین ہے۔ اس پارلیمنٹ اور آئین کو اپنی موجودہ شکل میں آتے آتے قریباً 65 برس لگے ہیں۔

کچھ لوگوں نے ایک خوبصورت خواب دیکھا تھا یورپ کو خوبصورت سے خوبصورت ترین بنانے کا۔  اپریل 1951 میں اس کی ابتدا فرانس، جرمنی، اٹلی، لکسمبرگ، بلجیم اور پھولوں کا دیس ہالینڈ نے کی۔ سٹیل اور کوئلے کی مشترکہ مارکیٹ وجود میں لانے کیلئے یورپین کول اسٹیل کمیونٹی (ECSC) کی بنیاد رکھی گئی۔ یہی بنیاد ی اینٹ مارچ 1957 میں معاہدہ روم کے تحت یورپین اکنامک کمیونٹی (EEC) بن گئی جس کا مقصد رفتہ رفتہ زرعی اور صنعتی مارکیٹ کو عالم وجود میں لانا تھا۔ جولائی 1967 میں اس EEC نے اپنی ایک ای کو خیرباد کہتے ہوئے صرف ای سی یعنی یورپین یونین رہ گئی۔ 1973 میں ہمیشہ آخری ریل کا ڈبہ پکڑنے والے برطانیہ اور ڈنمارک و آئرلینڈ اس کے ممبر بن گئے۔ چھ سال کے بعد مارچ 1979 مشترکہ کرنسی کی تشکیل کیلئے پہلا قدم یورپین مانیٹری سسٹم لیا گیا ۔ دو سال بعد جنوری 1981 میں یونان یورپین کمیونٹی کا دسواں ممبر بن گیا۔ جنوری 2002 میں ای یو کے بارہ ممالک میں ”یورو“ کرنسی کے طور پر قبول کر لی گئی اور جون 2004 میں یورپ کا سب سے اہم واقعہ اس کے انتخابات ہیں۔

یورپین یونین میں منعقدہ عام انتخابات میں رائے دہندگان کا رجحان انتہائی حیرت انگیز رہا۔ عوام نے برسراقتدار پارٹیوں کو تباہ کن شکست سے دوچار کر دیا۔ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے شعوری یا لاشعوری طور پر اپنا حق استعمال نہ کرکے مزید حیرت انگیز رویہ کا اظہار کیا اور جن افراد نے اپنے اس حق کا استعمال کیا انہوں نے اپنی ان برسراقتدار حکومتوں کو سزا دی جنہوں نے عوام کی مرضی کے خلاف عراق پر امریکی حملے کی تائید یا مدد کی تھی۔ علاوہ ازیں حکومتوں کی معاشی و سماجی پالیسیوں پر بھی عوام نے حکمرانوں کے کان کھینچتے ہوئے مخالفانہ رائے کا اظہار کیا۔ جہاں تک کمیونسٹ ممالک کا تعلق ہے جنہوں نے یورپی یونین میں شرکت کی وہاں کے عوام نے ایسے رہنماﺅں کو مسترد کر دیا کہ ان ممالک میں بے روزگاری، سماجی مسائل، مہنگائی اور غربت نے کمیونسٹ حکومتیں ختم ہونے کے بعد اپنے پھن پھیلا رکھے ہیں۔ مشرقی یورپ کے عوام اپنے اس غصے کا اظہار یورپین یونین پر کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محض ایک ماہ کے بعد ہی مشرقی یورپ کے عوام نے یورپین یونین میں شرکت کی مخالفت شروع کر دی تھی۔ اس ناراضگی کا اظہار کا سب سے بڑا ثبوت عام انتخابات میں حکمرانوں کے خلاف کھل کر برہمی کا مظاہرہ تھا۔ یورپی یونین میں ”یوم مئی“ کو شرکت کرنے والے کمیونسٹ ممالک نے مغربی یورپ کے ”یورپی بھائی چارے“ کے جذبے کو ٹھکرا دیا۔

برطانیہ میں یو کے انڈی پینڈنس پارٹی نے حیرت انگیز طور پر 17 فیصد اضافہ کیا۔ اس وقت کی برسراقتدار ٹونی بلیئر کی لیبر پارٹی اور اپوزیشن ٹوری پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار کر دیا تھا۔ IP پارٹی نے 9 اضافی نشستیں حاصل کر لیں جو کہ ٹونی بلیئر کیلئے ایک دردسر ثابت ہوا۔ اور پھر یورپ کے سب سے بڑی آبادی والے ملک جرمنی میں رائے دہندگان نے چانسلر شروڈر کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کا تیا پانچہ کر دیا اور اسے بری طرح شکست سے دوچار کر دیا تھا۔ سوشل ڈیموکریٹ کے حامیوں کو صرف 22 فیصد ووٹ مل سکے جو کہ اپوزیشن پارٹی کرسچن ڈیموکریٹ کے نصف کے برابر بھی نہیں تھے۔ اسی طرح فرانس کے صدر جیک شیراک کی پارٹی شکست سے ہمکنار ہو کردوسرے نمبر پر رہی۔ ہالینڈ میں برسراقتدار حکمرانوں کو بھی شکست سے کوئی نہ بچا سکا۔ اس کی ایک وجہ ان کی عدم دلچسپی بھی رہی کیونکہ ان دنوں فٹ بال کی وبا پھیل رہی تھی۔ لوگ سارا دن اور رات ٹی وی پر فٹ بال میچ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اسپین اور یونان کی سوشلسٹ حکومتیں اس شکست سے بال بال بچ گئیں۔ شاید اس کی ایک وجہ اسپین کا عراق سے اپنی فوجوں کو واپس بلانا بھی رہا ہو۔ مجموعی طور پر یورپین یونین کے 350 ملین ووٹروں کے ووٹ استعمال کرنے کی شرح 45.2 فیصد رہی اور الیکشن کا ہنگامہ چار روز تک جاری رہا تھا۔

یورپ کے دوسرے ممالک میں اٹلی کی حکمران پارٹی 25 فیصد عوامی تائید کے نشانے کو حاصل کر سکی اور اٹلی کے وزیراعظم سلیوبراسوکونی کو یورپین پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن ان کے برسراقتدار اتحاد کو دوسری یورپی حکومتوں کی طرح تذلیل برداشت نہیں کرنی پڑی۔ حالانکہ برلسکونی کی اپنی پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا تاہم ان کی تین حلیف پارٹیوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی بہتر نتائج حاصل کئے۔ نتائج کے باعث اتحادی جماعتوں میں اعتدال پسندی کا موقف مستحکم ہوا ۔ سویڈن میں نئی یوروسپٹک پارٹی نے حیرت ناک و بہترین انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پولینڈ جو یورپین یونین میں چند برس قبل شامل ہوا تھا یہاں کی برسراقتدار ڈیموکریٹک الائنس کو شکست ہو گئی۔ اسی طرح سابق کمیونسٹ ملک چیک جمہوریہ میں بھی برسراقتدار پارٹی کو انتخابی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جمہوریہ چیک میں وزیراعظم ولادیمیر اسپیڈلا کو اپوزیشن کی دائیں بازو کی پارٹیوں نے شکست دے دی۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے اسپین کی نئی سوشلسٹ حکومت ان چند ایک برسراقتدار پارٹیوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے حریفوں کو پچھاڑ دیا تھا اس کے برعکس یونان میں قدامت پسند حاوی رہے۔

یورپی یونین کے ان 28 ممالک کے اس بھائی چارے کے انتخابات کی ایک خوبی اور خصوصیت یہ رہی کہ عوام نے عراق پر امریکہ کے حملے کی تائید کرنے والی حکومتوں کو سزا دی، وہیں عراق سے فوجیں واپس طلب کرنے والے ممالک کی حکومتوں کو کامیابی دلائی۔ 28 یورپین یونین کی جملہ 750 نشستوں میں دائیں بازو کی پارٹیوں کو 247 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان انتخابات میں ”عراقی تیل کی سیاست“ کا مسئلہ عوام کے ذہنوں پر چھایا رہا اور ہالینڈ کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ مزید 8 ماہ تک اپنی افواج کو عراق میں رکھے گا۔

حرف آخر کے طور پر یہ بات قابل غور ہے کہ یورپی خطے میں آباد لوگوں نے مسائل کے حل کیلئے ہتھیاروں کے آپشن پر زور نہیں دیا۔ یہ وقت ہے کہ سارک کے دو اہم ترین ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اپنے تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کیلئے اور یورپین یونین کی طرز پر کوئی بلاک بنانے کیلئے مزید تاخیر نہ کریں۔

نقشہ الٹا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہوگئی