منی ٹریل

  • تحریر
  • منگل 20 / جون / 2017
  • 4623

فیض احمد فیض نے تو کسی اور رنگ میں کہا لیکن ہمیں اس میں آج کا عکس دکھائی دیا۔
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گذر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
کہاں تو یہ عالم تھا اورہے کہ ملک کی معیشت کا ساٹھ فی صد غیر دستاویزی ہے ۔ اس بلیک اکونومی میں ہارڈ کیش ہی کے سر سہرا ہے۔ ٹیکس کی جھنجھٹ نہ کوئی اثاثے ظاہر کرنے کی پابندی۔ اس کیش اکونومی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پراپرٹی میں تھی اور ہے۔

بھلے وقت تھے ، پراپرٹی میں منافع تو سب حاضر دام کے حساب سے لیتے لیکن سرکار کے خزانے کے لئے سرکار ہی نے ایک عنایت کر رکھی تھی ، ڈی سی ریٹ کی۔ لاکھوں کی پراپرٹی ہزاروں میں سرکار کے کھاتے میں درج ہوتی۔ بارہ چودہ برس قبل پراپرٹی کی قیمتوں کو پر لگے تو لاکھوں کی اڑان کروڑوں میں ہونے لگی۔ ایسے میں سرمایہ کاروں کو اس قدر کیش اٹھانے کی جھنجھٹ ستانے لگی۔ مسئلہ اہم اور تقریباٌ سب ہی بالا دست طبقوں سے متعلق تھا۔ اس کا حل پانچ ہزاری نوٹ کے تعارف سے بخیر و خوبی طے پایا۔ دوسری طرف ڈالرز کی آمد ورفت کو بھی اس اکونومی کے لئے اس قدر سود مند پایا گیا کہ اس کے بارے میں ایک قانون کے ذریعے پوچھ گچھ کی بھی مناہی کر دی گئی۔

ایسے کاروباری و تجارتی ماحول میں جب دل ہی سارا درد ہو تو درد کی دوا کی ضرورت تھی نہ حاجت ، سو راوی اس دور میں سکھ چین لکھ کر لمبی تان کر سونے کا عادی ہو گیا۔ مگر پھر کرنا خدا کا مگر یوں ہوا کہ کرپشن وغیرہ کی کچھ باتیں ماضی قریب میں سیاسی مچانوں سے نکلیں اور عدالتوں میں جا پہنچیں۔ اس کی بھی نوبت نہ آتی اگر پانامہ لیکس کا احوال یوں بر سرِ عالم نشر نہ ہوتا۔ پانچ سو کے لگ بھگ پاکستانیوں کے ناموں کا ذکر ہوا۔ ان کی آف شور شیل کمپنیوں کی سن گِن سامنے آئی۔ اس کے بعد کی کہانی ہم سے زیادہ بچے بچے کو معلوم ہے۔ کہاں یہ عالم کہ کیش اکونومی میں سب ہی محمود و ایاز کو کبھی ضرورت نہ پڑی لیکن اب یکایک منی ٹریل کی باتیں شروع ہو گئیں۔ بات وزیر اعظم کے خاندان سے شروع ہوئی تو اب اس کی لپیٹ میں عمران خان اور ان کی پارٹی بھی آ گئی ہے۔ کہاں یہ کہ ہم کیش اکونومی میں کوہِ گِراں بنے ستر سال حال مست بنے رہے اور کہاں یہ عالم کہ ایک ایک روپے دھیلے کی منی ٹریل کی ڈھنڈیا پڑ گئی۔

پختہ کارجمہوری ملکوں میں انفرادی اور جماعتی سطح پر آمدن اور خرچ کا حساب اور ٹیکس گوشوارے فطرت ثانیہ کے طور پر جمع ہوتے ہیں۔ کرنے والے وہاں بھی اونچ نیچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر گرفت میں آ گئے تو عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ چھن جاتی ہے۔ پارٹیاں موروثی نہ ہونے کے سبب ایسے ایسے نابغہ روزگار لیڈرز ایک ہی جھٹکے میں پارٹی قیادت سے محروم ہوئے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ ہم جو رکنے میں ستر سال تک کوہِ گِراں تھے اب چلنے پہ آئے ہیں تو جانے کس کس کو جاں سے گزارنے کا عزم لے کر چل پڑے ہیں۔

ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو دنیا کا جغرافیہ کچھ یوں تھا کہ دنیا عملاٌ دو حصوں میں منقسم تھی۔ سرمایہ دارانہ بلاک اور سوشلسٹ بلاک۔ 1989 میں سرمایہ دارانہ بلاک اور سوشلسٹ بلاک کے درمیان حائل دیوار برلن دھڑام سے نیچے آن گری۔ کون سوچ سکتا تھا کہ اب مشرقی اور مغربی جرمنی کا جغرافیہ تبدیل اور متحدہ جرمنی کا نیا سفر شروع ہو رہا ہے۔ اس ناممکن کو ممکن بنانے والی قیادت کے سربراہی کرنے والے کا نام ہیلمٹ کوہل تھا جو اس وقت مغربی جرمنی کے چانسلر تھے۔ دیوارِ برلن گری تو اس وقت کے چانسلر ہیلمٹ کوہل نے جرمنی کو پھر سے متحد کرنے کا ڈول ڈالا۔ ایک نا ممکن کام تھا جو ان کی قیادت میں انجام پایا ، موصوف سولہ سال تک طویل ترین چانسلر رہے ۔

ہیلمٹ کوہل کا دوسرا بڑا کارنامہ یورپی یونین کی موجودہ ساخت میں ان کاکلیدی کردار تھا۔ یورو کرنسی کا اجراء بھی ان کی کامیابیوں کا حصہ ہے۔ اقتدار کے ساتھ جمہوری اقدار کا پہرہ ہو تو ایسی قد آور شخصیات کا بھی اگر قدم ڈگمگایا تو پوری بازی کو الٹتے دیر نہ لگی۔ ان بڑی کامیابیوں کے باوجود انہیں انتخابات کے سلسلے میں عطیات کے ایک اسکینڈل نے بے آبرو کیا اور یوں ان کی اپنی پارٹی نے ان سے بغاوت کر دی۔ ان کے ہاں کیش اکونومی کی سہولت ہماری طرح میسر ہوتی تو اپنے ملک کے لئے اس قدر کامیابیاں سمیٹنے والے کا بھلا کوئی بال بھی بیکا کر سکتا تھا اور یوں ان کی ریٹائرمنٹ کی صورت بیکاری کی نوبت ہی نہ آتی۔
یورپی ممالک کے جمہوری نظام میں پارٹیاں ایک ادارے کے طور پر قائم ہوتی ہیں۔ بنیادی ممبرشپ اور پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ نیچے تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ پارٹی کا منشور اور بنیادی خیالات اسے دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں ۔ پارٹی قیادت کا فیصلہ بھی پارٹی ممبران کرتے ہیں۔ بعض اوقات بھلی چنگی کامیاب قیادت کسی ایک بحران یا غلط فیصلے یا اسکینڈل کے ہاتھوں دیکھتے ہی دیکھتے ہی اپنے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ برطانیہ کے ڈیوڈ کیمرون نے گزشتہ سال یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے لئے ریفرنڈم کروایا تو نتیجہ الٹ نکل آیا۔ گو اس اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے تھے کہ کامیابی کے سوا دوسرا آپشن بھلا کیا ہوگا۔ پارٹی کی طرف سے باقاعدہ گوشمالی سے پہلے ہی موصوف نے استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی نے ان کے بعد ٹیریسا مے کو وزیراعظم کے لئے منتخب کر لیا۔

یورپ اور امریکہ میں پارٹیاں الیکشن کے لئے قانونی طور فنڈز اکٹھا کر سکتی ہیں۔ انفرادی طور پر اور مختلف گروپس قانونی طور پر فنڈز دیتے ہیں۔ پارٹیاں ان فنڈز کا باقاعدہ حساب رکھتی ہیں۔ اگر کوئی بے ضابطگی سامنے آجائے تو بیشتر اوقات پورا سیاسی کیریئر داؤ پر لگ جاتا ہے۔ یوں پارٹی کے ڈھانچے کے نچلے سطح تک پھیلاؤ ، فنڈز جمع کرنے کے ذرائع اور استعمال میں شفافیت مستحکم جمہوری نظام کا خاصا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں جمہوری ڈھانچہ تو موجود ہے لیکن اس کے باقی بنیادی عناصر تقریباٌ غائب ہیں۔ بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار ہے اس کے سیاسی نظام میں روپے پیسے کا دھڑلے سے استعمال ہوتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں بھی سیاست میں روپے پیسے اور اثر ورسوخ کاخوب زور شور ہے۔ سری لنکا کی کہانی بھی زیادہ مختلف نہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جہاں جہاں پارٹی فنڈنگ کے ذرائع اور استعمال میں شفافیت نہیں ہے وہاں کرپشن اور سیاسی اقربا پروری عروج پر ہے۔

پاکستان میں الیکشن کمیشن پارٹیوں سے ان کے اثاثوں کے گوشوارے ہر سال جمع کرتا ہے ۔ ممبران پارلیمنٹ کے گوشوارے بھی جمع کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کے دوران اخراجات کی حد بھی مقرر ہے لیکن اس کے باوجود اخراجات کئی گنا زیادہ کئے جاتے ہیں۔ پڑتا ل کا نظام فعال نہیں۔ چند دن قبل الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ ممبران کے اثاثوں کی تفصیلات عام کی ہیں تو اکثر اثاثوں کی تفصیلات سے ممبران کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ شب و روز سیاسی معاملات کے لئے متحرک لیڈرز میں سے کچھ کے بقول ان کے پاس گاڑی نہیں ہے۔ سیاست کی ڈیرہ داری مہنگا کام ہے۔ ورکرز کی ایک کثیر تعداد کو متحرک کرنے، جلسے جلوسوں، ریلیوں، دھرنوں اور الیکشن کے دنوں میں پانی کی طرح سرمایہ بہتا نظر آنے کے باوجود پارٹیوں اور زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کے انفرادی گوشوارے عموماٌ مفلسی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق ہر پارٹی  اپنے ہاں الیکشن کرواتی ہے ۔ یہ انٹرا پارٹی الیکشن کچھ اس انداز سے منعقد ہوتے ہیں کہ بلا مقابلہ ہی سب منتخب ہو جاتے ہیں۔ نہ بنیادی ممبرشپ کا جھنجھٹ، نہ قیادت کے لئے کوئی چیلنج۔

پاکستان کی سیاست میں بنیادی تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہوسکے گی اگر پارٹیاں بنیادی ڈھانچہ بنائیں اور اس پر کاربند رہیں۔ پارٹی کے اندر موروثیت کی بجائے اکثریت کی رائے سے قیادت کا فیصلہ ہو ۔ پارٹی فنڈز کے ذرائع اور استعمال میں شفافیت کا اہتمام ہو۔ اگر مروجہ معمولات کے مطابق پارٹیاں اپنے معاملات چلانے پر مصر رہیں تو اصل جمہوری روح کے مطابق نظام چلے گا نہ قیادت کی تبدیلی اکثریت کے بل پر ہوگی۔

موروثیت کا علم اتنا ہی بلند ہوگا جتنا اس کے خلاف بظاہر تنقید ہوآگی۔ کیش اکونومی کی بہتی گنگا میں کون منی ٹریل کے تردد میں اپنی جان ہلکان کرے گا۔ ایسے میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک کی جمہوریت کی مثالیں تو دوہرائی جاتی رہیں گی لیکن عملاٌ معاملہ کچھ یوں ہی رہے گا کہ وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں!