قید فرنگ میں گزرے ماہ رمضان کی یادیں!

ماہ فروری 1984 ۔ ملک برطانیہ۔ کیس بھارتی سفارکار مہاترے کی ہلاکت۔ ہائی رسک اور موسم سرد تر ین تھا۔ ایک طرف برطانیہ کو اپنی غیر معمولی سیکورٹی کی ناکامی کا غصہ تھا جس کی وہ ہمیں سزا دینا چاہتا تھا۔ دوسری طرف ہماری بے خوف جوانی اور جذبہ حریت تھا۔ برمنگھم انوسٹیگیشن سنٹر سے دس دن کے بعد بیس سالہ طالب علم ریاض ملک سنتیس سالہ صدیق بھٹی اور راقم کو ونسن گرین جیل برمنگھم کے ٹاپ سیکورٹی بلاک ڈی کے اندر الگ الگ سیلوں میں بند کر دیا گیا۔

سیل میں لیٹرین اور کھڑکی نہ تھی۔ ایک روشن دان  اونچائی پر تھا اور سیل میں ایسی کوئی چیز بھی نہ تھی جس پر چڑھ کر ہم باہر دیکھ سکتے۔ ہم سے گھڑیاں بھی لے لی گئیں جس کی وجہ سے ہمیں وقت کا بھی کوئی خاص اندازہ نہ ہوتا۔ ایک طرف جیل انتظامیہ نے ہمیں جیل مینیول دیا جس پر قیدیوں کے حقوق اورذمہ داریاں لکھی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف جب ہم کسی چیز کی درخواست کرتے تو بعض افسران کہتے تم یہاں چھٹیاں منانے نہیں آئے۔ انہوں نے ہمیں سبق سکھانے اور ہم نے مزاحمت کی ٹھان لی۔ انتظامیہ کی پشت پر مارگریٹ تھیچر کی وہ مغرور حکومت تھی جس نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کشمیریوں کو ایسا سبق سکھائے گی کہ آئیندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ اسی لیے ہمیں خفیہ سزائیں دی گئیں لیکن یورپی کورٹ نے ہماری درخواست پر برطانوی وزیر داخلہ سے خفیہ سزا دینے کے اختیار ہی واپس لے لئے۔ اسی قسم کے فیصلوں سے تنگ آ کر برطانیہ نے یورپی یونین کی رکنیت ہی چھوڑ دی۔ جو قانونی سبق ہم نے برطانوی حکومت کو سکھایا وہ تاج برطانیہ بھی کبھی نہیں بھولے گا ۔ اگر کوئی انگریز ایسا کرتا تو پوری دنیا اس کی بازگشت سنتی۔ لیکن پاکستان کے کسی ٹی وی چینل کو ہم سے بات کرنے کی بھی جرات نہ ہوئی۔

جیل انتظامیہ کو ہوم افس نے کہا کہ وہ صورت حال کے مطابق ہم سے برتاؤ کرے۔ جیل افسران نے اس ہدایت کو من مانی کرنے کا لائسنس تصور کر لیا۔ آئرلینڈ کے سیاسی قیدیوں کی زندگی کو جیل کے اندرمحدود کرنے کے لیے ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات پر جیل میں کیٹیگری اے متعارف کی گئی تھی جو سیاسی قیدیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ہم پر بھی یہی کیٹیگری عائد کرکے ملاقاتوں، خطوط اور اخبارات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ہم نے بھرپور مقابلہ کیا۔ جہاں جبر تھا وہاں جبر کو چلینج کرنے کے قانونی طریقے بھی موجود تھے۔ جس کا کریڈٹ بھی برطانوی نظام کو ملنا چائیے۔

جیل کے اندر پہلا رمضان آیا تو پتہ چلا وہاں سحری و افطاری کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ گورنر سے بات کی تو اس نے انگریزوں کی روایتی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ اپنے سر سے اتار کر اسلامی سنٹر پر ڈال دیا ، جہاں سے ایک نام نہاد سکالر نے ہمیں ایک امام کے ذریعے پیغام بجھوایا کہ قیدیوں پر روزے فرض ہیں نہ حرام گوشت کھانا گناہ ہے ۔ ہم نے موقف اختیار کیا کہ دوسرے مذاہب کے قیدیوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اگر سہولت موجود ہے تو مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں۔ تو کوئی معقول جواب نہ ملا۔ ہم نے پتہ کرایا کہ یہ نام نہاد سکالر کون ہے تو معلوم ہوا یہ کوئی سعودی عرب کا باشندہ ہے ۔ سعودی ہر جگہ غیر مسلم کے آگے جھکنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کی گردن صرف مسلمانوں کے سامنے اکڑتی ہے۔ ہم نے اس سکالر کے مشورہ کو رد کرتے ہوئے سحری و افطاری کی سہولتوں کا مطالبہ جاری رکھا۔ ہم نے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تو محدود سہولتوں کا وعدہ کیا گیا ۔ ہماری افرادی قوت بہت کم تھی۔ ہائی رسک بلاک میں ہم صرف تین قیدی تھے۔  مگر تھے تینوں کشمیری فریڈم فائٹر۔ حکام کو معلوم تھا کشمیری کمیونٹی ہماری پشت پر ہے اور ہم بھی کوشش کرتے کہ صرف قابل عمل مطالبے کیے جائیں تاکہ کشمیری کمیونٹی کو شرمندگی نہ ہو۔

اجتماعی طور پر تراویح ادا کرنے کا مطالبہ مسترد کرکے ہمیں اپنے اپنے سیلوں کے اندر سحری و افطاری کے لیے کھانے کے پیکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ مگر ہم نے گوشت کے بجائے صرف دال سبزی پر اکتفا کیا کیونکہ ہمیں یقین نہیں تھا کہ گوشت حلال ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم نے کئی سال جیل کے اندر رمضان گزارنے ہیں اس لیے ہم نے سوچا کہ کسی لانگ ٹرم جیل میں منتقل ہونے کے بعد کوئی مستقل حل تلاش کریں گے۔ سترہ ماہ بعد ہم تینوں کو الگ الگ لانگ ٹرم جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ مجھے برطانیہ کے آخری کونے پر فرینک لینڈ جیل بھیجا گیا۔ وہاں مسلمانوں کے لیے اخبارات، کتب اور دیگر سہولتیں نہ تھیں۔ میں نے گورنر کو کہا کہ انگلش ویڈیو فلمیں بے حیائی پھیلاتی ہیں ہم نہیں دیکھیں گے۔ ہمارے لیے الگ ویڈیو روم کا بندوبست کرو۔ گورنر نے مذاق کرتے ہوئے پوچھا بے حیائی کیا ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا جرم کیا ہوتا ہے۔ اس نے کہا قانون کی خلاف ورزی۔ میں نے کہا آپ صرف انسان کے بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کو جرم کہتے ہیں لیکن ہم قانون فطرت کی خلاف ورزی کو بھی جرم تصور کرتے ہیں اور یہی بے حیائی ہوتی ہے۔ گورنر مسکرایا اور کہا مجھے آپ کی دلیل پسند آئی ہے۔

فرینک لینڈ جیل میں ایک قطری پی ایچ ڈی طالب علم عبدالرحمن امامت کے لیے آنا شروع ہوا۔ اس نے مقامی مسجد کمیٹی سے بات کی جس نے ہمیں ماہ رمضان کے لیے آٹا گوشت اور چاول دئے جبکہ باقی اشیاء بمع فروٹ جیل گورنر نے دینے کا وعدہ کیا۔ اب سوال تھا کہ حلال گوشت اور راشن تو مل گیا مگر جب غیر مسلم پکائیں گے تو وہ جو برتن حرام گوشت کے لیے استعمال کریں گے وہی حلال کھانے کے لیے۔ تو حلال حرام کا فرق مٹ جائے گا۔ ہم نے درخواست کی کہ ماہ رمضان میں دو مسلمان قیدیوں کو کچن تک رسائی دی جائے۔ یہ مطالبہ بھی پورا ہو گیا۔ جب افطاری آنا شروع ہوئی تو ہمارے کچھ مسلمان بھائیوں نے اپنے انگریز ساتھیوں کے ساتھ بھی شئیر کی۔ انگریزوں نے جب ہمارے چٹ پٹے کھانوں کا مزہ لیا تو ان میں سے چند ایک گورنر کے پاس گئے اور کہا وہ بھی مسلمان ہو گئے ہیں اور انہیں بھی افطاری ملنی چائیے۔ یہ مطالبہ پورا ہونا تھا کہ جیل کے گیارہ سو قیدیوں میں سے نصف نے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ جیل گورنر پریشان ہو گیا۔ اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ تمہیں مذہبی سہولتیں دینے کا مجھے یہ صلہ ملا ہے۔ اب میں اتنے نقلی مسلمانوں کو کیسے افطاری کرواؤں۔ گورنر نے کہا اس نے قیدیوں کو بتایا کہ صرف لسٹڈ مسلمان کو افطاری ملے گی مگر قیدیوں نے بھی  تیاری کی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا گورنر کی لسٹ کی ضرورت نہیں۔ اسلام کا معاملہ اﷲ اور انسان کے درمیان ہے ۔ کوئی بھی فرد کسی بھی وقت مسلمان ہو سکتا ہے۔

گورنر مزید پریشان ہو گیا اور مجھے پوچھا بتاؤ اب ان فوڈ مسلم سے کیسے جان چھڑائیں۔ میں نے کہا میرے پاس تو ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ جو بھی فوڈ مسلم آپ کے پاس آئے اسے کہیں پہلے جیل ڈاکٹر کے پاس جا کر ختنہ کرواؤ۔ گورنر کھل کر ہنسا اور کہا گڈ آئیڈیا۔ لیکن جان نہیں بچے گی۔ یہ تو خیر میرے اور گورنر کے درمیان ہنسی مذاق تھا لیکن یہ بھی ایک اور مثال ہے کہ بعض اوقات مفاد پرست لوگ دنیا میں صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ اسلام جیسے عالمگیر دین کا بھی استحصال کرتے ہیں ۔