پاکستان میں صفائی کا ایک کامیاب منصوبہ

کیاصفائی کا نظام بہتربنا کرپاکستان کو ایک صحت مند معاشرہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس سوال کا جواب یوں دیاجاسکتاہے: صفائی ستھرائی کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکتاہے بلکہ ان بیماریوں پر خرچ ہونے والے رقوم بھی بچائی جاسکتی ہیں۔  آج کے جدید دور میں تو صفائی سے حاصل ہونے والے کوڑا کرکٹ سے توانائی اور فصلوں کے لئے کھاد بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

واقعاً صفائی ستھرائی انسان کی زندگی کا لازمی جز  ہے۔ انسان کا تعلق کسی بھی معاشرے اورطبقے یا مذہب سے ہو، بلاتفریق مذہب و نسل ایک اچھی اور صحت مند زندگی کے لئے صفائی ستھرائی لازمی ہے۔ اگراسلام کی بات کی جائے تو اس آفاقی دین کے نزدیک صفائی نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ جو پہلے پہل صفائی کا خیال نہیں رکھتے تھے لیکن اب شعور آنے پر اس بات پر خاص توجہ دیتے ہیں کہ صفائی کے بغیر وہ اپنی زندگی کو سہل اور صحت مند نہیں بناسکتے۔ ہمارے ملک پاکستان کا یہ حال ہے کہ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے عوام متعدد بیماریوں کا شکارہورہے ہیں۔ اگر گھرسے شروع کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اکثر گھروں میں خواتین ہی صفائی کا خیال رکھتی ہیں۔ اکثراوقات دیکھنے میں  آیا ہے کہ مرد صفائی ستھرائی میں عورتوں کا ہاتھ نہیں بٹاتے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات مرد گھروں میں خواتین کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے بجائے ، ان کی مشقت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔  بعض مرد تو ایسے ہیں کہ اٹھ کر پانی پینا بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ چارپائی یا کرسی پر بیٹھ کر عورت کو بادشاہوں کی طرح حکم دیتے ہیں کہ وہ ایک گلاس پانی اس کے لئے لے آئے۔

پاکستانی معاشرے میں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ فالتو چیزیں، کوڑا کرکٹ اپنی گلیوں اور سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ حتیٰ بعض لوگ پارکوں سمیت دیگر صاف ستھری جگہوں پر کوڑا پھینکنا اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔ پوری قوم کو تربیت اور رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ جو لوگ خود سیکھ چکے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کو سمجھائیں۔ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ پہلے تو گندگی سے ان کا اپنا نقصان ہے اور پھر اس سے پورے معاشرے پر مضراثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے شہروں کی نالیاں اورگلیاں بے شمار بیماریاں پھیلارہی ہیں۔ ندی نالے بھی فالتو پلاسٹک بیگ اور دیگر ناکارہ اشیاء سے بھرچکے ہیں۔ اس ماحول نے ملک کے دریاؤں اور سمندروں کو بھی آلودہ کردیاہے۔ قدرتی ماحول بہت متاثرہوچکاہے۔ ندی نالوں اور دریاؤں میں آلودگی کے علاوہ خوبصورت پہاڑ اورمیدانی زمینیں درختوں سے خالی ہوتی جارہی ہیں۔ درخت کاٹنے والے بہت اور لگانے والے کم ہیں۔

صفائی کے حوالے سے پاکستان میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ صفائی کرنے والے کی کوئی خاص عزت نہیں اور نہ ہی کوئی معقول معاوضہ ملتاہے۔ پاکستان میں اکثر صفائی کا کام مسیح برادری کے لوگ کرتے ہیں جن سے کوئی احترام کے ساتھ بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ حالیہ دنوں سندھ کے علاقے عمرکوٹ میں ایک صفائی والے شخص عرفان مسیح کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا سلوک ہوا اور اسی غفلت کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔ ان تمام مایوسیوں کے باوجود کچھ پاکستانی ایسے ہیں کہ جو اپنے ملک کے لئے کچھ کرناچاہتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نارویجن پاکستانی محمد طارق اشرف ہیں جنہوں نے ضلع جہلم کے ایک چھوٹے شہرسوہاوہ میں روشنی کی ایک شمع روشنی کی۔ محمد طارق کے والد محمد اشرف المعروف جنرل اشرف سترکی دہائی میں ناروے آگئے تھے اور اس لئے ان کی تعلیم و پرورش بھی ناروے میں ہوئی لیکن جب بھی وہ پاکستان جاتے تو ان کو یہ خیال ہمیشہ ستاتا تھا کہ پاکستان جیسا خوبصورت ملک کیوں صاف ستھرانہیں۔ لہذا انہوں نے چند سال قبل سوہاوہ میں اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کا ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ۔ پوری  ٹیم بنائی، اس کی تربیت کی جو جدید طریقے اپناتے ہوئے لوگوں کو گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کی طرف راغب کرتی ہے ۔

ان کی ٹیم نے گھر گھرجاکر کوڑا کرکٹ جمع کرناشروع کردیا۔ پلاسٹک اور دیگر قابل استعمال اشیا کو کوڑے سے الگ کیا گیا تاکہ کسی دوسرے کام آسکے۔ یہ پراجیکٹ سوہاوہ کے علاوہ دینہ کے علاقے میں بھی پھیلایا گیا ہے۔ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی خاص حوصلہ افزائی نہیں ملی لیکن سوہاوہ اور دینہ کے لوگ یہ سمجھ گئے کہ صفائی کے بغیروہ ایک صحت مند زندگی بسرنہیں کرسکتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرحکومت پاکستان سرپرستی کرے تو اس طرح کے منصوبوں کو پورے ملک میں پھیلایا جاسکتا ہے۔ محمد طارق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ انتہائی قابل اور ذہین ہیں لیکن سرپرستی اور رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی قابلیت ضائع ہورہی ہے۔ محمد طارق کی باتیں بالکل درست ہیں اور ان کی کاوشیں بہت قابل ستائش ہیں ۔ گزشتہ دنوں ناروے کے سفر کے دوران راقم نے موصوف کے ساتھ ایک مکالمہ کیا۔ راقم نے محسوس  کیا کہ محمد طارق جن والد محمد اشرف مرحوم بھی اپنے وطن سے بہت محبت کرتے تھے، پاکستان کے حوالے سے مایوس نہیں لیکن پریشان ضرور ہیں۔

محمد طارق کہتے ہیں کہ جب انہوں نے چند سال قبل اپنے علاقے سے صفائی کا کام شروع کیا تو لوگوں نے بہت طنز کیااور کہنا شروع کردیا کہ صفائی بھی کوئی کام ہے، یہ تو چوڑے لوگ کرتے ہیں۔ بالآخر آہستہ آہستہ لوگوں کو سمجھ آنا شروع  ہو گیا کہ صفائی ان کی صحت اور ماحول کے لیے لازمی ہے۔ اس پراجیکٹ سے سوہاوہ اور دینہ میں پچیس افراد کو روزگار ملا۔ اب یہ پراجیکٹ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوچکا ہے۔ اس سے ماحول بہتر ہوگیا ہے اور ساتھ ہی لوگوں کونئی سوچ بھی ملی ہے۔

باہرکی دنیا میں محمد طارق کی طرح بہت سے اورپاکستانی بھی ہیں جو پاکستان آکر اپنے تجربات اور صلاحیتوں  سے ملک کو سنوارنا چاہتے ہیں۔ لیکن سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہچکچاہت کا شکار ہیں۔ باہررہنے والے پاکستانی تقریباً ہرشعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔ خدا را اس ملک کی قابلیت کو ضائع ہونے سے بچایاجائے۔ کچھ تو خیال کیاجائے۔ اپناخیال نہیں تو آنے والی نسلوں پر رحم کیاجائے۔