قطر سعودی تنازعہ اور پاکستان

بعض اوقات اخبارات میں چھپنے والی ہیڈ لائن اور سرخی  اسی اخبار میں چھپنے والی ایک چھوٹی اور غیر اہم خبر تمسخر کا اڑا رہی ہوتی ہے۔  ایسی ہی صورتحال کا سامنا مجھے آج صبح کرنا پڑا جب میں نے  مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق پالیسی بیان پڑھا۔ سرتاج عزیز کے سینٹ میں دئیے گئے پالیسی بیان کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور قطر تنازعہ میں غیر جانبدار رہے گا۔ موجودہ بحران میں پارلیمنٹ کی قرارداد خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے اور جنرل (ر) راحیل شریف کی اسلامی سربراہی اتحاد میں ملازمت ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ دفعتاً اخبار پڑھتے ہوئے  ایک چھوٹی سی خبر پر نگاہ ٹھہر گئی  جو اخبار میں غیر نمایاں جگہ شائع ہوئی تھی۔ میں حیران رہ گیا ۔

پاکستان ٹوڈے کے رپورٹر راجہ فیصل کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بھی سعودی عرب قطر تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ قطر کے سفارت خانہ کی ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ وہ اسلامی یونیورسٹی کے طالب علموں اور اساتذہ کو ماہ رمضان میں افطار کی دعوت دہتا ہے۔ لہذا اس سال بھی یونی ورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو یونیورسٹی کے صدر  احمد درویش  نے (جو سعودی شہری ہیں) قطر کے سفارتخانہ کو افطار دینے کی اجازت دینے سے معذرت کرلی۔

اسلامی یونیورسٹی کو جنرل ضیاء کے دور میں چارٹر دیا گیا۔ یونی ورسٹی کے دو اہم انتظامی عہدے مقرر کئے گئے۔ ریکٹر اور صدر۔ اس وقت یونی ورسٹی کے ریکٹر قائداعظم یونیورسٹی کے سابق وی سی ڈاکٹر معصوم یٰسین  ہیں جبکہ صدر احمد درویش ہیں۔ ابتدا میں صرف دین اسلام سے متعلق چند شعبہ جات پر یونیورسٹی مشتمل تھی جن میں اصول دین، فقہ، شریعہ اسلامیہ اور عربی زبان شامل تھے۔ آج اس یونیورسٹی میں سماجی اور سائنسی علوم کے مختلف شعبہ جات قائم ہیں۔ طالب علموں کی تعداد بیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اسے جنرل ضیاء دور سے باہر نکالنے پر آمادہ نہیں اور یوں یہ یونی ورسٹی کم اور اکوڑہ خٹک مدرسے کی تو برانچ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اسامہ بن لا دن کے ممدوح اور مصلح عبداللہ عزام اسی یونیورسٹی سے منسلک رہے تھے۔ افغان جہاد کے وقت یہ عرب اور افریقی طلبہ کی نظریاتی تربیت کا مرکز تھی۔ 1996 میں اسلام آباد میں واقع مصری سفارتخانہ میں خودکش دھماکہ ہوا۔ یہ پاکستان میں ہونے والا پہلا خودکش حملہ تھا اور اس میں اسلامی یونیورسٹی کے مصر سے تعلق رکھنے والے ملازمین ملوث تھے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت نے بہت سے غیر ملکی ملازمین کو واپس اپنے ملکوں میں بھجوایا۔ سعودی عرب اور دیگر ملک اس یونیورسٹی​ کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔ لیکن یہ سلسلہ نائن الیون کے بعد منقطع ہو گیا۔ 2010 میں یونی ورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے روشن خیال پروفیسر ڈاکٹر ضیا پر خودکش حملہ کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب تو بچ نکلے لیکن دہشت گردی کے اس واقعہ میں بہت سے بے گناہ طالب علم شہید​ ہو گئے۔ اس وقت کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک یونی ورسٹی میں روشن خیالی کو فروغ دے رہے تھے۔ فارسی اور ترکی زبان کے شعبہ جات قائم کئے گئے۔ ادب اور فنون لطیفہ کو فروغ دیا گیا۔ انگریزی ادب کے طلبا کو تربیت دینے کے لئے مشہور ناول نگار محمد حنیف کو مدعو کیا گیا تو اسلامی جمعیت طلبہ ان کو یونیورسٹی مدعو کرنے پر احتجاج کررہی تھی۔ اسی طرح شعبہ اردو کے زیرِ انتظام ہونے والے مشاعرے میں خواتین شعراء کی شمولیت پر بھی احتجاج کیا گیا۔

بھلا ہو وکی لیکس کا جس نے ان سارے واقعات کا پردہ چاک کیا اور بتایا کہ کس طرح سعودی دباؤ پر حکومت پاکستان نے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ ایک سعودی شہری کو ریکٹر مقرر کردیا۔ یونی ورسٹی میں پروفیسروں​ کی نمائندہ تنظیم کے مطابق ان کی انتظامی امور میں کسی جگہ نمائندگی نہیں۔ یونی ورسٹی کے بورڈ میں دیگر ماہرین کے علاوہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر خورشید بھی گورننگ بورڈ کے ممبر ہیں۔ اس وقت یونی ورسٹی ہائر ایجوکیشن کے مالی تعاون سے چل رہی ہے لیکن نہ ہماری حکومت پاکستان اور نہ ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اتنی سکت ہے کہ برادر اسلامی ملک کو یہ بتا سکیں کہ یہ پاکستان کی پبلک سیکٹر یونی ورسٹی ہے۔ یہاں پاکستان کا قانون لاگو ہوگا۔ اور قانونی طور پر یونی ورسٹی کے چانسلر صدر پاکستان ممنون حسین ہیں۔ جو حکومت یہ سب کچھ کہنے کی ہمت اور سکت نہ رکھتی ہو، اس حکومت کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا یہ بیان کہ پاکستان سعودی عرب اور قطر تنازعہ میں غیر جانبدار رہے گا ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔