سیاسی پنچھیوں​ کی ہجرت کا موسم

پاکستانی سیاست میں سیاسی پنچھیوں کی ہجرت کا موسم ہے۔ قومی انتخابات کی آمد  ہے لہذا سیاسی راہنما اپنا قبلہ درست کر رہے ہیں۔ شنید ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان جمعتہ الوداع کے روز پیپلز پارٹی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ بابر اعوان کہوٹہ کے نواحی گاؤں ہوتھلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔  وکالت کرنے کے بعد مسلم لیگی راہنما راجہ ظفر الحق کے  چیمبر سے منسلک ہو گئے۔ سیاسی طور پر مسلم لیگ سے وابستہ تھے ۔ بابر اعوان میں تحریر و تقریر کی بے پناہ صلاحیتیں تھیں۔ لہذا جلد ہی مختلف سیاسی جلسوں میں خطابت کے جوہر دکھانے لگے۔

آزاد کشمیر کے سیاسی راہنما سردار قیوم خان وہ پہلی سیاسی شخصیت تھیں جنہوں نے بابر اعوان کو جلسوں میں متعارف کروایا۔ راجہ ظفر الحق جنرل ضیاء کی کابینہ میں وزیر اطلاعات تھے کہ ریفرنڈم کا مرحلہ آن پہنچا۔ راولپنڈی کے قرب و جوار میں ہونے والے جلسوں میں بابر اعوان جنرل ضیاء کو اسلام کا عظیم سپاہی قرار دیتے تھے۔ چند سال بعد انہیں سعودی عرب کی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لئے حکومت پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا اور پھر جب جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثہ میں ہلاک ہوگئے تو بابر اعوان شہداء بہاولپور کے سیاسی پلیٹ فارم پر نمودار ہوئے۔ اعجازِ الحق کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ ایسی ہی ایک یادگار تقریر استاد محترم عرفان صدیقی کے گاؤں ڈھوک بدھال میں منعقدہ جلسے میں کی گئی۔ عرفان صدیقی بھی ان کی شعلہ بیانی پر داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

نوے کی دہائی میں جب محترمہ بینظیر بھٹو سیف الرحمن کے بے رحمانہ احتساب کا شکار تھیں، سیاسی انتقام کے تحت بنائے جانے والے مقدمات کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیا گیا تو بابر اعوان ناہید خان اور حاجی نواز کھوکر کے توسط سے محترمہ بینظیر بھٹو کی لیگل ٹیم کا حصہ بنے۔ اور پھر پیپلز پارٹی میں بھی شاملِ ہوگئے۔  بابر اعوان اس دوران محترمہ بینظیر بھٹو کا عدالت کے اندر اور باہر زبردست دفاع کرتے رہے۔ انہیں کئی مقدمات میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ انہی دنوں انہوں نے وکالت نامہ کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کیا۔ صحافت کی جانب مائل کرنے میں مرحوم خلیل ملک اور خورشید ندیم جیسے دوستوں کا اہم کردار تھا۔ بابر اعوان مطالعہ کے شوقین اور اہل علم لوگوں کی صحبت پسند کرتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو جب پاکستان آئیں تو بابر اعوان ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے تھے۔  لیاقت باغ کے تاریخی جلسے میں محترمہ بینظیر بھٹو کو امام ضامن بھی انہوں نے ہی باندھا تھا۔  جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید ھو گئیں تو راولپنڈی کے جنرل ہسپتال میں عالمی اور قومی میڈیا کے سامنے اس خبر کو انہوں نے ہی بیان کیا​۔

بعد ازاں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جانے لگے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی وصیت کا اعلان بھی بابر اعوان نے کیا تھا۔  پیپلز پارٹی کی حکومت میں سینٹر اور وفاقی  وزیر قانون بنائے گئے۔ پیپلز پارٹی افتخار چودہری کے متعصبانہ انصاف کا شکار تھی اور بابر اعوان عدالت کے اندر اور باہر حکومت کا دفاع بھرپور انداز میں کرتے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے گھر میں پریس کانفرنس کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہال بنوایا۔ اسی دوران بابر اعوان کو تاریخی بھٹو کیس بھی سونپ دیا گیا۔  پیپلز پارٹی اس کیس پر نظر ثانی چاہتی تھی جس کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ بابر اعوان وزارت سے اس کیس کے لئے مستعفی ہو گئے اور ان کے بھائی فاروق اعوان کو وزارت قانون کا مشیر بنا دیا گیا۔ ان دنوں سپریم کورٹ میں این آر او کیس بھی  چل رہا تھا۔ وزیراعظم گیلانی کے حق میں بیان حلفی دینے کے معاملے پر آصف علی زرداری ان سے ناراض ہو گئے۔ اور یوں پیپلز پارٹی کی قیادت اور بابر اعوان میں فاصلے بڑھتے چلے گئے۔

تحریک انصاف کے دھرنے میں انہوں نے عمران خان کے موقف کی بھرپور تائید کی اور پھر کچھ مقدمات میں وہ عمران خان کے وکیل بھی مقرر کئے گئے۔ بنیادی طور پر بابر اعوان درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی درمیانے طبقے کے سیاسی کارکنوں کو سیاسی راہنما اور وزیر بنانے کا زبردست پلیٹ فارم ہے۔ ہمارے دوست خورشید ندیم انہیں مولانا کوثر نیازی سے تشبیہ دیتے ہیں اور رؤف کلاسرا بھی ان کے مداحوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کوثر نیازی بھی ایک اہم مرحلے پر پیپلز پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ ویسے بھی جنرل مشرف کے وزیر قانون زاہد حامد کو مسلم لیگ کی حکومت میں وزیر قانون بنانے والی نون لیگ بابر اعوان پر کیا تنقید کر سکتی ہے۔  رہی پیپلز پارٹی تو وہ بھی ایک دن فیصل صالح حیات کی طرح بابر اعوان کو خوش آمدید کہے گی۔ باقی عوام تو وہ ٹی وی سکرین پر بابر اعوان کی تصویر کے نیچے سینئر راہنما تحریک انصاف لکھا دیکھیں گے۔