الوداع اے ماہ رمضان
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 23 / جون / 2017
- 9133
ہر اسلامی مہینے کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے مگر رمضان کے مہینے کے دن رات کا مزاج ہی کچھ اور ہے۔ رمضان میں مسجدیں بھرپور طریقے سے آباد ہوتی ہیں، فضاؤں میں قرآن کی تلاوت کسی مہک کی مانند طاری رہتی ہے اور دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندے کیلئے ایک اور آسانی بھی پیدا فرما دیتے ہیں۔ اس ماہ مبارک میں شیاطین کو قید کردیتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان کسی کو بھی اس مبارک اور سعادت والے مہینے میں تنگ نہ کر سکے ۔ رمضان کا مہینہ آتے ہی ہر طرف رونق ہی رونق نظر آتی ہے ۔ حقیقت میں اس رونق کی اہم ترین وجہ تلاوتِ قرآن ہے جو اس ماہ کے دوران کثرت سے کی جاتی ہے۔
آج کل ٹیلی میڈیا کے کم و پیش ہر چینل پر انعامات کی برسات جیسے پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں جن میں میزبان کسی بھی بات پر وہاں موجود لوگوں میں کسی بھی قسم کے انعامات تقسیم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بہت انہماک اور شوق سے ان پروگراموں کو دیکھتے ہیں اور اس تگ و دو میں رہتے ہیں کے کسی طرح ان پروگراموں تک رسائی مل جائے ۔ ان پروگراموں میں دنیا کی آسائشیں تقسیم ہوتی ہیں اور ان آسائشوں کے لئے تو ہم دن رات بھاگ دوڑ میں سرگرداں ہیں۔ دوسری طرف رمضان کے مہینے میں اللہ اپنے بندوں کو ایک نیک عمل کے بدلے دس نیک اعمال کا ثواب دیتے ہیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ ۔ مگر افسوس ہم اپنی حقیقی زندگی سے بے خبر ایک پل میں ختم ہونے والی زندگی کی آسائشوں میں مگن ہوئے جاتے ہیں۔ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے خود کو دور کئے رکھتے ہیں۔
رمضان کا مہینہ درحقیقت مسلمانوں کی تربیت کا مہینہ ہے ۔ سارا سال آپ نے کس طرح نظم و ضبط سے کام لینا ہے ، کس طرح آپ نے صبر کا دامن تھامے رکھنا ہے ، کس طرح برداشت کرنا ہے اور کس طرح اپنے ارد گرد لوگوں کا خیال رکھنا ہے۔ رمضان کا مہینہ دعاؤ ں کی قبولیت کا مہینہ ہے کیوں کہ اس مہینے کی ساری ذمہ داری اللہ رب العزت نے لے رکھی ہے۔ تو پھر دعاؤں کی قبولیت بھی یقینی ہوتی ہے۔ مگر اللہ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت حقیقی معنوں میں کب ہے۔ اس لئے دعاؤں کی مقبولیت کا مخصوص وقت ہے اور وہ اس وقت میں قبول ہوجاتی ہے۔ رمضان میں جہاں گراں فروشی اپنے عروج پر ہوتی ہے تو خریدار کا ہاتھ بھی اتنا ہی کھول دیا جاتا ہے ۔ مہنگائی کا رونا سارا سال رہتا ہے مگر رمضان میں بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔
ہم ہیں تو جنت کے متوالے و متلاشی اور ہم اپنی بخشش بھی کروانا چاہتے ہیں لیکن اس کیلئے اپنے رب کو منانا نہیں آتا۔ رمضان تو وہ ماہِ مبارک ہے کہ صرف نیکیاں کرتے جائیں، رب تمہارے کھاتے میں نیکیاں ڈالتا جائے گا۔ تم عبادت کرتے جاؤ تمہارا رب نیکیاں بڑھاتا جائے گا۔ خیرات ، زکوۃ اور صدقات کی اتنی فراوانی ہوتی ہے کہ کیا کہیے ۔ معلوم نہیں ہم کس طرح کے مسلمان ہیں کہ اپنے پیارے نبی ﷺ کی اتباع کرنے سے گریزاں ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی بنی نوع انسان کیلئے عملی نمونہ ہے مگر ہم نے ثواب کیلئے تو آپ ﷺ سے محبت کر رکھی ہے مگر آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہمارے لئے بہت مشکل دکھائی دیتاہے۔ ہماری زندگیوں سے ایک اور قیمتی رمضان کا مہینہ گزر گیا۔ ہم کسی گیم شو کے پاس نہ ملنے پر سوائے ہاتھ ملتے رہنے کے اور کچھ بھی نہیں کر سکے۔ ہم رمضان کے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں مصروف رہے اور ہم کرکٹ کی چیمپئن ٹرافی میں مگن رہے اور رمضان کا رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ گزرتا چلا گیا۔ ہم اس مہینہ کا حق ادا کرنے سے قاصر رہے۔ جبکہ سارا سال یہی سوچتے ہیں اب کی دفعہ رمضان میں خوب عبادت کریں گے۔ خوب اپنے رب سے انعام و اکرام پائیں گے۔ مگر آہ ایک اور رمضان ہماری زندگیوں سے نکل گیا۔
ایسا بھی نہیں کہ ہم لوگ رمضان کے روزے نہیں رکھتے۔ روزے پورے رکھتے ہیں افطاری کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔ سحری کرنے کہیں باہر بھی چلے جاتے ہیں۔ مگر بات وہیں آکے ختم ہوجاتی ہے کہ ہم دنیاوی ضروریات کی تکمیل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہماری نمازیں چھوٹ جاتی ہیں۔ ہم سے دعاؤں کا وقت دور ہوجاتا ہے ۔ شیاطین کی قید سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ وہ ہمیں نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے پیچھے لگائے رکھتا ہے ۔ ہم کسی بھی بات پر لڑنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم اب شیطان کے بنائے ہوئے راستے کہ اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ رحمٰن کے راستے پر چلنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ رمضان بھی گزر گیا ۔ جیسے جیسے حالات ناموافق ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے اجر میں بھی یقیناً اللہ پاک اضافہ کئے جا رہے ہیں۔
اس رمضان میں جن باتوں پر خصوصی طور پر زور دیا گیا وہ موجودہ دور کا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم معاشرتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہ ہے والدین کی نافرمانی۔ دوسری جس بات پر علمائے کرام زور دیتے رہے ہیں اور ان رمضان میں بھی زور دیتے رہے ہیں، وہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ استغفار کیا جائے۔ اب رمضان گزر گیا ہے۔ اب مہمان چلا گیا ہے۔ اب ہمیں ان کاموں پر عمل پیرا ہونے کی سعی کرنی ہے جس کی تربیت رمضان کے ماہ مبارک میں دی گئی ہے۔ ان کاموں سے اپنے آپ کو روکنا ہے جن سے روزے کی حالت میں رکنے کو کہا گیا ہے ۔ اس تربیت کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھال لیجئے نافرمانیاں بھی ختم ہوجائیں گی اور استغفار کی کثرت بھی بڑھ جائے گی۔ رزق میں برکت بھی آجائے گی۔ دعا کیجئے کہ اگر ہمیں اگلا رمضان میسر آیا تو ہم بھرپور محنت اور لگن سے اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہ سیاسی اور معاشی مسائل کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی ہمارے دفتروں کے کام کبھی ختم ہوں گے۔ یہاں تک کہ ہم اس دارِ فانی سے کوچ کرجائں گے۔
آخر میں اپنے تمام قارئین کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے (آمین یا رب العالمین)۔