کرکٹ میں جذباتیت اور جنونیت کا رجحان

جب بھی دنیا کے کسی بھی ملک میں دو روائتی حریفوں کے درمیان کوئی بڑا کھیل کا مقابلہ ہو تو اس میں دونوں اطراف میں جذباتیت کا رجحان غالب نظر آتا ہے ۔ یہ فطری امر ہے اور اس کو آسانی سے نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کرکٹ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان عملا ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدگی سے سیاسی وجوہات اور تنازعات کے باعث کرکٹ  کھیلی نہیں جارہی ۔ اب جب بھی بھارت اور پاکستان کا مقابلہ ہوتا ہے تو اس میں ہمیں عالمی سطح کے بڑے مقابلوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور کئی برسوں کے انتظار کے بعد کوئی مقابلہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ہوتا ہے تو اس میں جذباتیت ، جنونیت اور جوش قابل دید ہوتا ہے ۔

کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل میں پرجوش ہونا اور اپنی ٹیم سے سمیت ملک کی حمایت کرنا اور اس کے لیے جذباتی ہونا کوئی بری بات نہیں ۔ لیکن ایک بنیادی بات سمجھنی ہوگی کہ کھیل عمومی طور پر کھیل ہی ہوتا ہے۔  ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔ جو بھی ٹیم اس دن اچھا کھیلتی ہے، کامیابی اس کا مقدر ہوتی ہے ۔ لیکن کیونکہ اس مقابلہ میں دونوں ملکوں کے درمیان جیت محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی دونوں ملکوں میں دیکھے جاتے ہیں ، جو اپنے اندر کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے بڑے مقابلوں میں سیاست دان، بیوروکریٹ ، سفارت کار، اداکار، سابق کھلاڑیوں سمیت پورا معاشرہ اوربالخصوص نوجوان طبقہ کی دلچسپی نمایاں ہوتی ہے ۔ جب بھی بڑے ایونٹ میں دونوں ٹیموں کا ٹاکرا ہوتا ہے تو یہ کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے اندر پوری سیاست کا منظر نامہ بھی پیدا کرتا ہے ۔ اب جبکہ دونوں ملکوں میں ریاستی میڈیا کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ میں میڈیا کی نئی جہتوں بشمول سوشل میڈیا کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ ایک مقابلہ ٹیموں کے درمیان میدان میں کھیلا جاتا ہے تو دوسرا مقابلہ میڈیا کے محاذ پر مختلف فریقین کے درمیان سجایا جاتا ہے ۔ اس کھیل میں میڈیا کرکٹ پر تبصرہ سے زیادہ مقابلہ کی فضا میں حد سے زیادہ  جوش کا مظاہرہ کرتا ہے۔  نجی میڈیا چونکہ مقابلہ بازی میں ریٹنگ  کا محتاج ہے تو اس وجہ سے زیادہ سے زیادہ گلیمر ، نمود نمائش، بلاوجہ کا جذباتی رنگ بھرنا ، کھیل کو سیاسی جنگ میں تبدیل کرنا ، مخالفانہ مہم میں شدت لانا ، ایک دوسرے کی ٹیموں کی کمزوریوں کا مذاق آڑانا ، تضحیک پر مبنی جملہ بازی ، ترانے ، نقل اتارنا ، ایک دوسرے کو کمزور ہونے کا احساس دلانا ، شکست او رفتح پر کھیلوں میں سپورٹ مین سپرٹ کی کمی دکھانا ، غالب نظر آتا ہے ۔

یہ سارا عمل ہمیں  لاشعوری طور پر مختلف فریقین میں نظر آتا ہے بلکہ شعوری طور پر بھی اس ماحول کو ایک باقاعدہ حکمت عملی کے تحت پیدا کیاجاتا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ آج کل کرکٹ کے کھیل میں جس خوفناک حد تک میچ پر پیسے لگانا ، سٹہ یا جوا کھیلنا عام ہوگیا ہے تو اس میں ٹیموں کے درمیان جنگی جنون پر مبنی ماحول کو پیدا کرنا اس جوا کے کاروبار کی بھی ضرورت ہے ۔ مہذہب اور باشعور طبقہ میچ یا کھلاڑیوں کے درمیان تنقید اور تضحیک کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کا اپنا بھی احترام باقی رہے ۔ لیکن اب جو کرکٹ کے محاذ پر میڈیا اور اس میں بیٹھے ہوئے سابق کھلاڑی جو اب کھیلوں کے ماہر تجزیہ نگا ربن گئے ہیں، انہوں  نے اپنا طوفان بدتمیزی پر مبنی  میدان سجا یا ہوتا ہے جو ماحول میںر زیادہ تلخ پیدا کرتے ہیں۔  دونوں ملکوں میں جاری میڈیا شوز میں موجود  ماہرین، سابق ماہر کھلاڑی ، تجزیہ نگاروں کا ب شدت پر مبنی ماحول بنانا کھیل کی ضرورت بن گیا ہے ۔

جیت پر کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ہیرو بنا کر پیش کرنا اور شکست پر ان کی بدترین کردار کشی ، تضحیک اورمذاق بنانا اب ہمارے میڈیا میں یہ سب کچھ عام نظر آتا ہے ۔ یہی مزاج پھر ہمیں مجموعی طور پر پورے معاشرے کے مزاج میں  دیکھنے کو ملتا ہے ۔ شکست پر کھلاڑیوں کے گھروں پر حملے ، ٹی وی توڑنے ، سڑکیں بلاک کرنا ، ہنگامہ کرنا او رپوری ٹیم کے پتلے چلانا ، نمائشی پھانسیوں کو دینا ، غلیظ گالیاں دینے کا عمل اب عام ہوتا جارہا ہے ۔ اسی لئے دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں پر جیت کر بڑا دباؤ ہوتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ہر ٹیم سے ہارا جاسکتا ہے  لیکن روائتی حریفوں میں شکست قوم کو قبول نہیں ۔ شکست پر بڑے بڑے کھلاڑیوں کو جس انداز سے زیر کیا جاتا ہے وہ بھی ان بڑے کھلاڑیوں کے شان شایان نہیں ۔ رہی سہی کسر ہمیں ویڈیو کلپس، اور دیگر تبصروں کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوری کردی جاتی ہے جو بلاوجہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے

حالیہ آئی سی سی چیمپین ٹرافی کا فائنل پاکستان اوربھار ت کے درمیان کھیلا گیا جو ایونٹ کا سب سے بڑا مقابلہ دو بڑی روائتی حریفوں کے درمیان تھا ۔ اس مقابلہ سے پہلے ، مقابلے کے دن اور مقابلے کے بعد جو ماحول پیدا کیا گیا اس پر بڑے غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ بھارت جیسی مضبوط ٹیم کو بھی اس شکست پر بھارت میں اپنے خلاف بدترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑا  حالانکہ ایک بڑی ٹیم بڑے مقابلے میں مقابلہ نہ کرسکے تو اس میں اس کا برا دن سمجھا جاتاہے ۔ کوہلی جو بھارت کی بلے بازی کا سب سے اہم ستون ہے اوراس کی بلے بازی کو عالمی سطح پر بڑی شہرت حاصل ہے ، لیکن وہ بھی اس شکست پر اپنے خلاف ردعمل کو نہیں روک سکا ۔ اسی طرح کوہلی کی جانب سے شکست کے بعد میڈیا انٹرویومیں پاکستان ٹیم کی جیت پر کھلاڑیوں اوران کے کھیل کی تعریف سمیت یہ کہا کہ آج پاکستان کا دن تھا اس پر بھی کوہلی کو پاکستان کی ٹیم کی تعریف پر بھارتی میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کرکٹ کے کھیل کو  دونوں ملکوں کی حکومتیں اور سول سوسائٹی کے بڑے طبقہ میں ’’ کرکٹ ڈپلومیسی ‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ یہ منطق دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں کرکٹ اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ لیکن مجھے یہاں بھی بڑی تقسیم نظر آتی ہے ۔  لوگ فتح و شکست کو بنیاد بنا کر جو ہنگامہ پیدا کرتے ہیں اس کے بعد یہ سوچنا کہ کرکٹ دوستی کا ماحول پیدا کرسکتی ہے ، ممکن نہیں ۔ اسی طرح ہمارے یہاں ایک طبقہ ایسا بھی دیکھنے کو ملا جس نے پاکستان کے میڈیا پر تو کھل کر اور سخت الفاظ میں تنقید کی  لیکن بھارت کے میڈیا کے بارے میں ان کا عمومی رویہ مصلحت پسندی کا ہے ۔ کیونکہ یہ جو میڈیا کے محاذ پر کرکٹ کا جنون ، شدت سمیت ایک دوسرے کے بارے میں نفرت پیدا کی جاتی ہے ، اس کا بانی خود بھارت کا متعصب میڈیا بھی ہے ۔ اسی کی نقالی میں پاکستان کا میڈیا بھے سامنے آیا ہے ۔ جو شدت ہمیں بھارت کے میڈیا میں نظر آتی ہے وہ زیادہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے ۔ خاص طور پر وہاں بلاوجہ پاکستان کی جیت پر سخت گیر ہندووں کو اکسایا جاتا ہے کہ بھارت کے مسلمان پاکستان کی جیت پر خوش ہوتے ہیں اور ان کو بھارت کی شکست کا کوئی غم نہیں ۔ اسی طرز کے رویہ کی وجہ سے بھارت میں موجود مسلمانوں کو ہندووں کے سخت گیر ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح پاکستان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اس انتہا پسندی کو کرکٹ جیسے کھیل میں بھی اپنے مخالف یعنی بھارت کے خلاف استعمال کرتا ہے ۔ دونوں اطراف کی حکومتوں، سیاسی جماعتوں ، میڈیا اور عوامی رائے بنانے والے لوگوں کو اس مسئلہ کا کوئی علاج تلاش کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اگر ہم واقعی دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں تو اس میں ہمیں مثبت انداز میں کھیل کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہیے ۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ دونوں ممالک بالخصوص بھارت پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے کھیل کو ازسر نو بحال کرے۔  باقاعدگی سے میچز دونوں ملکوں میں کھیلے جائیں۔ میڈیا لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے آپس میں جوڑے اور کھیل کو کھیل کی سطح پر ہی لظف لیا  جائے۔