رحمتوں کا مہینہ ، اپنے حصے کی خیرات اور حقیقی خوشیاں
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 25 / جون / 2017
- 5807
ہم ایک تماشا گاہ میں رہتے ہیں اوراس تماشاگاہ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تماشائی ہونے کے باوجود تماشائی نہیں ہیں۔ تماشائی بھی دراصل تماشا دکھانے والے خود ہیں۔ ہمیں گمان ہے کہ ہم یہاں تماشہ دیکھنے کے لیے آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس تماشا گاہ میں تماشا بننے کے لیے دھکیلا گیا۔ تماشا بھی ایسا کہ جس میں ہرمداری اپنے اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کررہاہے۔ کوئی ہاتھ چھوڑ کر سائیکل چلاتا ہے۔ تو کوئی بندوق چلائے بغیر گولی مارنے کے ہنر سے واقف ہے۔ شاہ دولا کے بہت سے چوہوں نے اپنے سروں پر دستاریں سجارکھی ہیں۔ کچھ غلام اپنی حکمرانی کاتماشہ دکھا رہے ہیں اور حکمران خادموں کا روپ دھارکر رعایا کا تماشہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔
تماشا گاہ میں ہمیں سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں ۔ بعض کرتب دیکھ کر بہت سے سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں لیکن یہاں سوال کرنا منع ہے۔ سوال بھی مداری خود کرتے ہیں اورپھر اس کاکوئی مناسب سا جواب بھی ہم تک پہنچا دیتے ہیں۔ سوال غلط ہو تو ہم اسے غلط نہیں کہہ سکتے اور جواب غلط ہو تو ہماری کیا مجال کہ اس پر کوئی اعتراض کریں۔ سو ہم مطمئن ہو کرتماشا گاہ میں چپ چاپ تماشا بنتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو تماشا دیکھ رہے ہیں۔ تماشے کے دوران مداری جب ہماری حالت زار پر تالیاں بجاتے ہیں تو ہم بھی نعرہ ہائے تحسین بلند کرتے ہیں اورمداریوں کے ہنر کو داد دیتے ہیں۔ تماشے کے دوران بعض اوقات ہم جیسوں کو قتل بھی کردیاجاتا ہے کہ تماشے کو خوبصورت اور دلچسپ بنانے کے لیے بعض اوقات قتل کا سامان بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ ہم خاموشی سے قتل ہوتے ہیں اوراپنے ساتھیوں کے قتل پر صدائے احتجاج بھی تو بلند نہیں کرتے۔ تماشا گاہ میں قتل بھی 100طرح کے ہیں۔ انسانوں کا قتل توخیر اب قتل میں شمارہی نہیں ہوتا۔ جس اسلامی جمہوری تماشا گاہ میں اقدار ، روایات اور عقائد بھی قتل کردیئے جائیں وہاں انسانوں کے قتل کی بھلا کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ تماشا گاہ میں گناہ و ثواب کی تمیز کچھ ایسے ختم ہوئی کہ رحمتیں زحمتوں میں تبدیل ہوگئیں، مفتیوں کی پارسائی سوالیہ نشان بنی اور وہ جو خودکو عالم کہتے تھے گالم گلوچ پر اتر آئے۔ رحمتوں کامہینہ اس تماشا گاہ میں صرف ان لوگوں کے لیے باعث رحمت قرارپایا جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اورلوٹ مار وناجائز منافع خوری جن کامسلک ہے۔ ایسے لوگوں نے ماہ مقدس کے آغاز سے قبل ہی چھریاں تیز کیں ۔ منہ مانگے دام وصول کیے اور اپنی تجوریاں بھرلیں۔ ماہ مقدس کا پہلا عشرہ ایسے لوگوں کے لیے بے شمار ”رحمتیں“ لایا۔ تماشائی اور تماشا بننے والے حیرت سے انہیں دیکھتے رہے۔
دوسرے عشرے میں ان لوگوں نے اسی لوٹ مار کے پیسے سے صدقہ و خیرات کیا۔ خیراتی اداروں کی مدد کی۔ غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور بیواﺅں میں زکوة تقسیم کی۔ مفلوک الحال لوگ جوق درجوق ان کے دروازے پر آئے ۔ اپنی ہی لٹی ہوئی رقم میں سے اپنے حصے کی خیرات لی اور ظالموں کے لیے درازی عمرکی دعائیں کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ یوں دوسرا عشرہ ایسے لوگوں کے لیے ”مغفرت “ کاعشرہ بھی بن گیا۔ پیٹ کادوزخ بھرنے والے ان لوگوں کو معلوم تھا کہ مغفرت کے باوجود ان کی دوزخ سے نجات نہیں ہوگی ۔سو دوزخ سے نجات کے لیے انہوں نے اپنے بچوں اور بھائیوں کواپنی دکانوں پر بٹھایا اور خودجاکر اعتکاف میں بیٹھ گئے۔ ان کے عزیزواقارب اوراولادیں عید تک عید شاپنگ کرنے والوں سے عید بٹوریں گی ۔ پھرعید کاچاند نظرآئے گا۔ شیطان آزاد ہوجائے گا اوریہ سب لوگ عید کی ”حقیقی“ خوشی حاصل کریں گے ۔
اسلامی جمہوری تماشا گاہ کایہی چلن ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں اورآنے والے دنوں میں بھی دیکھتے رہیں گے ۔ سوال کرنے کی ہمیں بھی اجازت نہیں اورہم یہ اجازت آپ کوبھی نہیں دینا چاہتے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)