ہم عید کس طرح منائیں گے!
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- سوموار 26 / جون / 2017
- 7055
بیس جون 2017 ! یہ دنیا بھر میں مہاجروں اور پناہ گزینوں کا عالمی دن تھا، گزرگیا۔ یعنی عالمی یومِ مہاجرت۔ اِس دن جنگوں سے، سیاسی دباؤ سے، مذہبی عصبیت اورنسلی تعصبات سے، اقتصادی بحرانوں سے، امتیازی سلوک سے، ماردھاڑسے، پکڑدھکڑ سے، بھوک اور پیاس سے، تشدد اور قتل عام سے مختصراً تمام تر ظلم اور ظالموں سے رہائی حاصل کرنے کے لیے اپنے گھر بار، اپنے رشتہ دار، اپنے دوست یار، اپنے شہر اور بلکہ اپنے وطن سے دُور ہونے پر مجبور ہونے والے کروڑوں معصوموں کی روزمرہ کی تکالیف اور مشکلات سے آگاہی فراہم کرنے اور اجتماعی شعور پیدا کرنے کے لیے منایا جانے والا ایک دن ہے۔
مگر یہ عالمی دن بھی دوسرے عالمی دنوں کی طرح آتا ہے اور کوئی بھی تأثر چھوڑے بغیر گزرجاتا ہے۔ کچھ بیانات، کچھ لیکچرز، کچھ اجلاس، کچھ مگرمچھ کے آنسو اور پھر؟ اور پھر کچھ بھی نہیں! سبھی کا کہنا یہ ہے کہ:
مَیں سلامت رہوں ہزار سال باقیوں کے ساتھ جو ہونا ہے ہونے دو!
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے چھ کروڑ مہاجر اور پناہ گزین ہیں۔ اِن میں سے نصف فی صد سے زیادہ مہاجرین اٹھارہ سال سے چھوٹے عمر کے لوگ ہیں یعنی ایک لحاظ سے بچے ہیں۔
سب سے زیادہ مہاجروں کا تعلق مندرجہ ذیل تین ملکوں سے ہے:
1) شام: پچپن لاکھ
2) افغانستان: پچیس لاکھ
3) جنوبی سوڈان: چودہ لاکھ
سب سے زیادہ مہاجر قبول کرنے والے ملکوں کے نام یوں ہیں:
1) ترکی: پچیس لاکھ سے تینتیس لاکھ تک
2) پاکستان: پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ تک
3) لبنان: دس لاکھ
4) ایران: نو لاکھ اسی ہزار
5) یوگینڈا: نو لاکھ چالیس ہزار
6) ایتھوپیا سات لاکھ بانوے ہزار
یعنی زیادہ تر مہاجر اور پناہ گزین اُن ملکوں میں رہتے ہیں جو ترقی پذیر یا غیرترقی یافتہ کہلاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں یا خلیجی ممالک یا سعودی عرب میں نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کے دعویدار اور جمہوریت کے چیمپئین مغربی ممالک اِس دفعہ بھی اپنے دعووں میں فیل ہوگئے ہیں اورمہاجروں کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلو تہی کرنے کے لیے ہزار بہانے پیش کرتے ہیں۔ تمام یورپین ممالک اپنے مہاجرت کے قوانین سخت سے سخت تر بنارہے ہیں اور اپنی سرحدیں خاردار تاروں سے سجارہے ہیں اور مہاجروں کو روکنے کی غرض سے بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس فوجی اور پولیس سرحدوں پر کھڑے کردیتے ہیں۔ جیسے سامنے سے اپنی بیوی بچوں کو لئے بے خانماں مہاجر نہیں ایک دشمن فوج ٹینکوں اور جنگی طیارے لے کر آرہے ہوں۔ کچھ لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں آئے گا کہ ترکی دنیا میں سب سے زیادہ مالی امداد کرنے والے ملکوں میں دوسرے نمبر پر ہے اور اپنی فی فرد سالانہ آمدنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اوّل نمبر پر کھڑا ہے۔
خیر فی الوقت ہماری اِس تحریر کا مقصد ترکی کی مہاجروں کے لیے دی ہوئی مالی امداد کے بارے میں اعداد و شمار فراہم کرنا نہیں ، بس یہ ہے کہ دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ مہاجر اور پناہ گزین بادِل نخواستہ اپنے گھر بار اور وطن چھوڑ کر ہجرت کرتے ہیں۔ اور جس طرح کے اکثر و بیشتر مغربی حکومتیں اور یورپ اور امریکہ میں آباد ہونے کے بعد اپنے آپ کو گوروں سے زیادہ بہتر گورے سمجھنے والے ایشیائی خیال کرتے ہیں، مہاجر اور پناہ گزین لوگ یورپ کی چمک دمک اور جدید قسم کی زندگی سے مرغوب ہوکر نہیں۔ زیادہ تر نہ مرنے کے لیے اور دہشتگردوں کے تشدد سے بچنے کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف اور پھر یورپ کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ ثبوت چاہئے تو شام کو دیکھئے، شام کی سرزمین پر جن علاقوں کو ترک فوج کے ساتھ آزاد شامی فوج نے داعش سے واپس لیا ہے، اُن علاقوں کے لوگوں کو جب یہ اطمینان ہوا کہ ترکی اور آزاد شامی فوج اُن کی حفاظت کریں گی تو شامی مہاجر اپنے اپنے شہروں، قصبوں اور گاؤں میں واپس جاکر آباد ہوئے ہیں۔ حالانکہ ترکی میں اُن کے ساتھ بہترین سلوک ہوتا ہے اور اُن کو کھانے پینے کے سامان کے ساتھ، تعلیم اور طبی امداد بھی مفت ملتی ہے۔ اِس کے باوجود وہ لوگ ترکی سے گزرکر یورپ کی طرف جانے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنے وطن میں واپس پہنچے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اُن کے ملک میں صلح و امن قائم ہوگا اُن میں سے اکثر اپنے ملک میں واپس جانے پر ترجیح دیں گے۔
یہ تو ہے دنیا کے ساڑھے چھ کروڑ مہاجروں کا حال! اب دیکھئے ہم عید منانے رہے ہیں۔ اِن معصوم اور بے چارے مہاجروں کے حالات کو سوچتے ہوئے میرے دِل و دماغ پر قابو نہیں رہتا اور دِل کو سکون دینے کے لیے رونا چاہتا ہوں لیکن اب دلاسہ کے لیے آنسو بھی نہیں بچے میری آنکھوں میں!۔ پھر صرف عالمِ اسلام میں نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور انسانیت پرور اور حقوقِ بشر کی حامی مغربی دنیا کے درپردہ لالچ اور مادی اور سیاسی عزائم کی زد میں آکر برباد ہونے والے بہت سے ملک، منہدم ہونے والے شہر اور قصبے اور قتل کے بغیر قتل کئے جانے والے لاکھوں کروڑوں معصوم بچے، مرد و زن، بوڑھے جوان۔ واقعی اِن تمام خاک و خاشاک سے ملائے ہوئے اور ملبہ جیسے بنے ہوئے شہروں کو، بے جرم مرے ہوئے انسانوں کے بارے میں سوچ کر کچھ لمحے خود کو دلاسہ دینے کے لئے ہی سہی رونا چاہتا ہوں مگر اب مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے رونے کی صلاحیت بھی چھین لی گئی ہے۔ اور اِس کا بہت ہی وحشتناک صدمہ ہوتا ہے، اِس بچارے دِل کو!۔
افسوس۔ ہم عید منا رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کی اِس خوفناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیسے عید منائیں گے اور کس طرح ایک دوسرے کو عید مبارک دیں گے۔ خیر مبارکباد بھی دیں گے اور عید بھی منائیں گے۔ کیوں کہ ہم سب شترمرغ کی طرح ہیں، نہ دوسروں کا حال دیکھتے ہیں اور نہ جس حالت سے ہم چشم پوشی کرتے ہیں اُس کی تدابیر سوچتے ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے سمجھتے ہیں گویا ہمیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اِس سلسلے میں مَیں نے ایک نظم لکھی تھی اب وہ نظم محل موقع پر قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ لیجئے آپ ہی سوچئے کہ ہم شترمرغ بنے ہوئے ہیں یا اب تک اللہ تعالیٰ اور نبی پاکﷺ کے تابع سرخرو ہونے کے لائق مسلمان ہیں؟
شتر مرغ
شترمرغ ہوں مَیں اِس زمانے میں
سر ریت میں چھپاکر کھڑا سوچتا ہوں
کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا مجھے
کوئی خون نہیں بہائے گا میرا
دوسروں کو جو ہوتا ہے
ہونے ہی دے
مجھے کیا!
مَیں نے جو اپنے تحفظ کی تدبیر نکالی ہے
اپنے بچاؤ کا بندو بست کیا ہے
کچھ نہیں ہوگا مجھے
کوئی کچھ نہیں کہے گا!
یہ سزا جو دوسرے بھگتتے ہیں
اُن کے جرم کی وجہ سے ہے
مجبور ہے تو، تو ہوجا خاموش
کیوں سر اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے؟
تو کمزور ہے تو کمزور ہی رہ
غریب ہے تو غریبی سہہ
تجھے کیا چاہیے بہتر زندگی
آج تک آزادی کس کو ملی؟
بن میری طرح، چھپا اپنا سر
شترمرغی اِس جہان میں بہت بہتر
شترمرغ ہوں مَیں، سرچھپاکر کھڑا سوچتا ہوں
نہیں، نہیں کچھ نہیں ہوگا مجھے
کوئی کیا کرسکتا ہے اُسے
اگر نہیں دیکھتا ہو جسے؟
اگر ہم شترمرغ بنے ہوئے ہیں تو کس طرح عید منائیں گے۔ عید تو مسلمانوں کی ہوتی ہے شترمرغوں کی نہیں۔
خیر مَیں تو الزام کسی دوسرے پر نہیں اپنی ذات پر لگارہا ہوں کہ واقعتا اب دوسروں پر نہیں ہر فرد کو اپنے اوپر الزام لگانے کا موقع آن پہنچا ہے کیونکہ مرحمت سے لیس اور انسانی حقوق کے علمبردار طاقتور ممالک کے مہربان ہاتھ براہ راست اور بالواستہ ایک ایک کرکے تمام مسلمان ریاستوں کے سر پر پھرنے ہی والا ہے۔ ویسے اب تک فلسطین، سوڈان، صومالیہ، لیبیا، عراق اور شام کے سروں پر تو پھرچکا ہے اور اب قطر، پھر معلوم نہیں کون سے مسلمان ملک کی باری ہے۔ اور ہم عید منائیں گے تمام تر خوشی اورذوق و شوق کے ساتھ۔
عید منانے کی بات آئی ہے مجھے اِس سے تقریباً ایک صدی قبل لکھی ہوئی خادم علی خان احضر اکبرآبادی کی ایک مثنوی یاد آئی جنہوں نے ایک صدی قبل ہم مسلمانوں سے یہ پوچھا تھا کہ ہم عید کس طرح منائیں گے۔ جس طرح ایک صدی کے بعد مَیں پوچھتا ہوں کہ ہم آج کس طرح عید منائیں گے۔ صورتحال وہی ہے جو ایک صدی پہلے تھی۔ مسلمانوں کا خون رائگاں بہہ رہا تھا۔ مسلمان اُن مہربان ہاتھوں سے شہید کئے جارہے تھے جو آج بھی اُس کارِ مسلسل میں مصروف ہیں۔ اور ہم مسلمان اُس وقت بھی اپنا رونا رورہے تھے اور آہ و فغان کررہے تھے کہ یہ بلاؤں کا پہاڑ مسلمانوں پر کیوں ٹوٹ رہا ہے۔ مگر ایک صدی گزرگئی، ہم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہی غلامانہ زندگی، وہی غلامانہ سوچ اور وہی غلامانہ خیالات و تصورات۔ منہ پر بھائی چارے کی بڑی بڑی باتیں اور دِل ہی دِل میں ایک دوسرے سے بغض و نفرت۔ کب ہمیں عقل آئے گی۔ شاید ہی کبھی۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ایک دِن خواب گراں سے جاگنے کی ہمت دے!۔
لیجئے احضر اکبرآبادی کی مثنوی حاضر ہے۔ لیکن آپ سے گزارش یہ ہے کہ یہ مثنوی ایک صدی قبل کے پس منظر میں نہیں آج ہی کے پس منظر بلکہ پیش منظر میں پڑھئے گا۔ دیکھئے کہ کیا تبدیلی آگئی ہے ہم لوگوں میں، اگر تبدیلی ملے گی تو تب۔ اللہ ہم مسلمانوں کو شفیعِ روزِ جزا محمد مصطفی ﷺ کی خاطر معاف کرے اور ہم پر رحم کرے۔ آمین
خادم علی خان احضرؔ اکبر آبادی
رویتِ ہلال
پیٹ کاٹو آج ملّت کے شہیدوں کے لیے
عید کا حق بھیج دو آفت رسیدوں کے لیے
اے ہلالِ عید، اے نورِ نگاہِ روزہ دار
اے نشانِ پرچمِ توحید میں تجھ پر نثار
تھا بہت اسلام کی دنیا میں تیرا انتظار
سال بھر کے بعد دیکھا ہے تجھے اے غم گسار
چپ نہ رہ لِلّٰہ کہہ دے کیا خبر لایا ہے تُو
مسلموں کا حال بھی کچھ دیکھ کر آیا ہے تُو
ہاں سنیں ہم بھی کہ ’ٹرپولی‘ میں کیا کیا ہو گیا
کیا ہوا ’درنہ‘ میں ’بنغازی‘ میں کیا کیا ہو گیا
انقلاب ’ایران‘ کی آبادی میں کیا کیا ہو گیا
مغرب ’الاقصیٰ‘ میں کیا ’ٹرکی‘ میں کیا کیا ہو گیا
کتنی رانڈیں ہو گئیں اور ہو گئے کتنے شہید
اِس برس کی عید میں کتنے یتیموں کی ہے عید
غاصبوں کی سینہ زوری کی تجھے کچھ ہے خبر
’روس‘ و ’اٹلی‘ کے مظالم کی ذرا تفصیل کر
گولیوں سے چھن گئے کتنے ضعیفوں کے جگر
دودھ پیتے کتنے بچے چڑھ گئے سنگین پر
بیبیاں کتنی لٹیں اور کتنی بے حرمت ہوئیں
بچیاں کتنی رہینِ لقمۂ آفت ہوئیں
ماؤں سے کتنے وہاں لختِ جگر چھڑوا دیئے
سامنے بہنوں کے بھائی کس قدر تڑپا دیئے
کتنے دلہا ظالموں نے خون میں نہلا دیئے
کس قدر دُلہنوں کو رنڈسالے وہاں پہنچا دیئے
کتنے بے وارث ہوئے کتنے ہوئے بے خانماں
کتنے بچوں کے لیے سر پیٹتی ہیں بیبیاں
خون کتنوں کے بہائے ظالموں کی فوج نے
کس قدر قیدی بنائے ظالموں کی فوج نے
نام کتنوں کے مٹائے ظالموں کی فوج نے
خاک میں کتنے ملائے ظالموں کی فوج نے
کس قدر گولے مسلمانوں پہ برسائے گئے
گھر غریبوں کے وہاں پر کس قدر ڈھائے گئے
کیسی ہوگی ’برقتہ الحمرا‘ میں مظلوموں کی عید
کس طرح ہوگی وہاں بے باپ کے بچوں کی عید
کیسے ہوگی بھائیوں کے سوگ میں بہنوں کی عید
کس طرح عدّت میں ہوگی ہائے اُن رانڈ ں کی عید
جن کے شوہر اُن کے آگے ذبح کر ڈالے گئے
جن کے وارث خاک و خوں میں کھینچ کر ڈالے گئے
تجھ کو اُن آفت زدوں کی بھی خبر ہے اے ہلال
تختۂ مشقِ ستم جن کے ہوئے اہل و عیال
جن کے گھر چھینے گئے ہیں لُٹ چکا ہے جن کا مال
آسماں پر دیکھ کر تجھ کو ہوا کیا اُن کا حال
خوش ہوئے رویت سے یا ہر ایک نے ماتم کیا
عید کا سامان یا بچوں کا اپنے غم کیا
کتنے مسلم نرغۂ پیکار میں ہوں گے وہاں
کتنے مسلم قبضۂ کفار میں ہوں گے وہاں
کتنے مسلم گولیوں کی مار میں ہوں گے وہاں
کتنے مسلم موت کے بازار میں ہوں گے وہاں
زخم خوردہ آج کتنے مر رہے ہیں جنگ میں
اہتمامِ عید کتنے کر رہے ہیں جنگ میں
’مشہد‘ و ’تبریز‘ میں کل عید ہے کتنوں کے گھر
کتنی سیّد زادیوں کا ٹکڑے ٹکڑے ہے جگر
چوڑیاں ٹوٹی ہیں کتنی وارثوں کی لاش پر
ظلم کیا کیا کر چکے ہیں’روسیانِ ‘ بد گہر
ہاتھ سے دشمن کے کتنے بے خطا مارے گئے
کتنے سیّد اور کتنے پیشوا مارے گئے
پھانسیوں پر آج تک کتنوں کو لٹکایا گیا
گولیوں کی آگ سے کتنوں کو جھلسایا گیا
کیوں بھلا کس بات پر ’مشہد‘ کو لٹوایا گیا
’روضۂ معصوم‘ کس الزام پر ڈھایا گیا
خاک میں کیوں عزّتِ اسلام ملوائی گئی؟
کس لیے اسلامیوں پرآگ برسائی گئی؟
زلزلوں نے کردئیے برباد کتنے خانداں
مسجدیں کتنی گریں غارت ہوئے کتنے مکاں
یہ تو کہہ کتنوں کے آخر مٹ گئے نام و نشاں
کردئیے اِس حادثہ نے کس قدر بے خانماں
کتنے مجراحوں کے کل زخموں کو دھویا جائے گا
عید کے دن کتنے معصوموں کو رویا جائے گا
اے ہلالِ عید اسلامیوں کے دلربا
دِل بھر آتا ہے ہر اِک صاحبِ ایمان کا
دیکھ کر تجھ کو کیا کرتے تھے شکرانہ ادا
عید کا دن ہر خوشی کے واسطے مخصوص تھا
اب تو آفت دیکھتے ہیں دیکھنے والے ترے
یہ قیامت دیکھتے ہیں دیکھنے والے ترے
دشمنوں نے کتنی جانوں کا کیا ہے خاتمہ
ظالموں نے کتنی جانوں کا کیا ہے خاتمہ
زلزلوں نے کتنی جانوں کا کیا ہے خاتمہ
اُن سبھوں نے کتنی جانوں کا کیا ہے خاتمہ
کس کو روئیں کس کو پیٹیں اور کس کا غم کریں
صبح ہوتے عید ہے کس کس کا ہم ماتم کریں
ہم مٹائیں عید اور پیاروں پہ واں چھریاں چلیں
ہم منائیں عید، دینداروں پہ واں چھریاں چلیں
ہم منائیں عید، بیماروں پہ واں چھریاں چلیں
ہم منائیں عید، بے چاروں پہ واں چھریاں چلیں
اِس سے بڑھ کر کونسا رنج و الم کا وقت ہے
یہ خوشی کا دن نہیں اظہارِ غم کا وقت ہے
ہم یہاں بچوں کو اپنے دیکھ کر ہوں شادماں
روتے روتے اُن کے بچوں کی بندھی ہوں ہچکیاں
عید کے دن ہم تو پہنیں اُجلی پوشاکیں یہاں
بے کفن پاماں ہوں لاشیں شہیدوں کی وہاں
ہم یہاں کھائیں پئیں آپس میں دلداری کریں
وہ خدا کی راہ میں مرنے کی تیاری کریں
اِس طرح ہو اِس برس سارے مسلمانوں کی عید
اِس طرح ہو شمعِ دینِ حق کے پروانوں کی عید
اِس طرح ہو’ وادیِ یثرب‘ کے دیوانوں کی عید
ہو رہی ہے جیسے کعبہ کے نگہبانوں کی عید
پیٹ کاٹو آج ملّت کے شہیدوں کے لیے
عید کا حق بھیج دو آفت رسیدوں کے لیے
(*) زمیندار، جلد ۲، نمبر ۲۰۸۔