سیاسی کارکنوں کی تربیت اور قیادت کا بحران
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 26 / جون / 2017
- 10255
پاکستان کا سیاسی اور جمہوری کلچر ہر لحاظ سے قابل تنقید ہے ۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف کی جماعتیں یا مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کا سیاسی طرز عمل ہے جمہوری او رسیاسی اخلاقیات کے برعکس ہے۔ یہ توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ مجموعی طور پر ہماری سیاسی جماعتوں کی تنظیم میں جو گرواٹ ہے اس نے سیاسی جماعتوں کے مجموعی کلچر کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ، ان کی قیادت اور کارکنان اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر اچھے اور بہتر طرز عمل کی طرف بڑھتے ہیں ۔ لیکن یہاں دو مسائل غالب رہے ۔ اول سیاسی اورجمہوری نظام اپنے اندر تسلسل برقرار نہیں رکھ سکا او ربار بار کی فوجی مداخلت نے سیاسی نظام کو کمزور کیا ۔ دوئم سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان ہی غلطیوں کو مزید شدت سے دہرایا ہے۔
جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ کوئی بھی جمہوری نظام بغیر مضبوط سیاسی جماعتوں کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ذریعے ہی اس کے کارکنوں کی تربیت ممکن ہوتی ہے۔ سیاسی قیادت میں جمہوری فہم ، سوچ، تدبر اور فکر ہونی چاہئے۔ ایسا ہو تو اس کا اثر سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے طرز عمل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی کارکنوں میں غیر جمہوری مزاج، غصہ ، نفرت اور ایک دوسرے کے بارے میں نازیبا الفاظ کی ادائیگی ، لعن طعن کرنا ، عورتوں کی کردار کشی ، پرتشدد رجحانات ہماری ماضی کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہے ہیں ۔ اس ملک میں ہم نے بھٹو دشمنی اور بھٹو محبت کے تناظر میں جو سیاست دیکھی ہے اس کے بدنما واقعات بھی ہم سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔
ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی تنظیم ، ڈھانچہ تو موجود نہیں ہوتا اور فیصلوں کا سارا اختیار صرف قیادت تک محدود ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیای جماعتیں ادارے نہیں بن سکیں ۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کی سطح پر ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ جماعت اسلامی میں موجود ہے ۔ اس جماعت میں قیادت بھی عملی طو رپر جماعت کی شوریٰ کو جوابدہ ہوتی ہے ۔ لیکن جماعت اسلامی اپنی اس خوبی کے باوجود بھی سیاسی محاذ پر منفی سیاست کا حصہ رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی میں دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی بیشتر جماعتوں میں داخلی محاذ پر سیاسی کارکنوں کی تربیت کے سٹڈی سرکل ہوا کرتے تھے ۔ یہ سٹڈی سرکل واقعی سیاسی کارکنوں کی تربیت اوربالخصوص سیاسی معلومات اور سیاسی کردار میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ لیکن اب سیاسی جماعتوں کے سٹڈی سرکل ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ سیاسی قیادت بھی اس کام کو اہم نہیں سمجھتی۔ ہماری سیاست بنیادی طور پر سیاسی محاذ آرائی میں گھری رہی ہے اور یہاں ایشوز کی سیاست بجائے شخصیت کی حمایت اور مخالفت پر سیاست کی گئی ۔ سیاسی کارکنوں کا طرز عمل اور الفاظ کا استعمال، غیر شائستگی اور غیر اخلاقی طریقے عام لوگوں کے لئے شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حالیہ سیاسی کلچر میں طوفان بدتمیزی عمران خان اور تحریک انصاف کا پیدا کردہ ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں سمیت قیادت کی سطح پر کافی مسائل دیکھنے کوملتے ہیں ۔ لیکن ہمیں سیاسی تاریخ کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ماضی میں ہماری دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ اور اسلامی جمہوری اتحاد کی صورت میں جو سیاسی طرز عمل اور رویہ مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے مسئلہ محض عمران خان یا تحریک انصاف کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر سیاست کلچر کا ہے ۔ اب بھی حکومت اورحزب اختلاف کی سطح پر لفظوں کی جو جنگ دیکھنے کو ملتی ہے اس میں شائشتگی کی سیاست کہیں بھی موجود نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں سیاسی کارکنوں کی تربیت کا معقول انتظام ہونا چاہیے ۔ لیکن یہ غور نہیں کرتے کہ یہ مقصد کیسے حاصل کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت ان معاملات میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے جو بجائے خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ سیاسی قیادت کو سمجھایا جاتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو معاملات سے لاعلم رکھنا اور انہیں حقیقی سیاسی ورکرز میں تبدیل نہ کرنا ہی، ان کی ذاتی سیاست کے لئے سود مند ہے۔ اسی لئے سیاسی جماعتوں کی قیادت سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات کو مضبوط کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی۔ سیاسی قیادت کو پڑھے لکھے اور سمجھ دار سیاسی کارکن کی بجائے جذباتی اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک خرابی ہمیں ٹی وی ٹاک شوز میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جہاں ریٹنگ کی سیاست کی وجہ سے سیاسی پروگرامز دکھائے جاتے ہیں۔ اس میں بھی سیاسی افراد کا انداز گفتگو مہذہب نہیںہوتا اور ان کا طرز عمل اشتعال پھیلاتا ہے ۔
اس مسئلہ کا ایک حل تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کوڈ آف کنڈکٹ بنائیں۔ جس پر سختی سے عملدرآمد ہو۔ اور قیادت کے علاوہ کارکنوں کو بھی اس سے آگاہ کیا جائے۔ لیکن ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کے کارکن تو کجا ارکان اسمبلی کو بھی اپنی جماعتوں کی طرف سے بنائے گئے انتخابی منشور تک سے آگاہی نہیں ہوتی ۔ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ پہلے خود سیاسی جماعتوں کی قیادت پر لاگو ہو تاکہ کارکن بھی خود کو جوابدہ بناسکیں ۔ اسی طرح سے ہمیں سیاسی جماعتوں کی سطح پر پولٹیکل پارٹیز ایکٹ میں بھی ضروی ترمیم کرنی چاہیے تاکہ اس رجحان کا خاتمہ ہو سکے۔ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اور کارکن بد اخلاقی سے گریز کرنے کا شعار اپنائیں۔ ورنہ ملک میں جمہوری عمل میں اصلاح ممکن نہیں ہو سکے گی۔