آسیب کا سایہ اور ٹائی ٹینک کا منظر

ابھی پارہ چنار کے شہیدوں کے غم و الم کے آنسو ہی نہ سوکھے  تھے کہ نئے حادثہ میں ہلاک ہو نے والوں کے جنازے آن پہنچے۔ کھبی دہشت گردی، کھبی کوئی سانحہ۔ منیر نیازی کے بقول آسیب کا سایہ پاکستان سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ابھی چند روز پہلے پنجاب میں صحت کی حالت زار اور  چالیس ہسپتالوں کے لئے صرف چھ ارب روپے کے فنڈز پر کالم لکھا تو پنجاب حکومت کے ترجمان نے ناکافی فنڈز تسلیم کرتے ہوئے یہ فنڈ بڑھا کر 20 ارب روپے کرنے کی خوشخبری سنائی۔

میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ پھر بھی پنجاب جیسے بڑے صوبے کے لئے یہ رقم کسی ایک شہر کے میٹرو منصوبے کے کل بجٹ سے بھی کم ہے۔ ہمارے ہسپتال جدید سہولیات تو چھوڑیں، گردے جگر اور کینسر جیسے موذی امراض کا علاج کرنے کی سہولیات سے محروم ہیں اور ہر سال لاکھوں پاکستانی جگر کی پیوندکاری کے لئے انڈیا جاتے ہیں۔ چند ماہ پہلے لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ سٹنٹ کے سیکنڈل کی خبریں آئیں تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان خبروں کا نوٹس لیا۔ 

 میرے دوست ڈاکٹر آشر اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے برن سنٹر میں خدمت خلق کے جذبے سے مآمور ڈاکٹر طارق اقبال کی سرپرستی مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کر رہے ہیں۔ اکثر ان کے پاس جانا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا  کہ پورے خیبر پختونخوا کشمیر​ سے لے کر جہلم تک یہ واحد برن سنٹر ہے جس پر مریضوں کا بے پناہ دباؤ ہے۔  صرف بائیس بیڈ کے اس برن سینٹر میں موسم سرما شروع ہوتے ہی ناقص اور غیر معیاری سیلنڈر پھٹنے کے واقعات  میں زخمی ہوئے والے مریضوں کا علاج کرنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ سیٹھ میڈیا کے پاس ان ہمسائل کو اجاگر کرنے کا وقت نہیں۔ ریٹنگ کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں بھلا ان ایشوز کو کون پوچھتا ہے۔  

پمز ہسپتال سے باہر نکلتے وقت اسلام آباد کا بہت بڑا شاپنگ مال اور اسی شاہراہِ پر اربوں روپوں کی لاگت سے بننے والی میٹرو بس سروس پر اور اس بے جوڑ ترقی​ پر ماتم کا کرنے کو دل کرتا ہے۔  حادثات اور سانحے دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی قیادت قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا وزیر اعظم عید بھی لندن مناتا ہے۔  غریب لوگ مہینوں پیسے جمع کرکے اپنوں کے ساتھ  عید منانے بسوں اور ٹرینوں کی چھتوں پر لٹک کر آبائی علاقوں میں جاتے ہیں۔ مجھے اپنی حکمران اشرافیہ کا رہن سہن دیکھ کر مشہور زمانہ انگریزی فلم ٹائی ٹینک یاد آتی ہے۔  جس میں  جب بحری جہاز برف کے تودے سے ٹکراتا ہے تو جہاز کے نچلے حصے میں سوراخ ہونے کے باعث پانی جہاز میں داخل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جہاز ڈوبنے کو ہے لیکن  امرا طبقہ فرسٹ کلاس میں موج مستی اور عیاشیوں میں مصروف ہوتا ہے۔