گؤ رکھشا کے نام پر معصوم لوگوں کا قتل
کئی مہینے سے اس خبر سے ہندوستانی مسلمان پریشان ہیں اور انتظامیہ کان بند کئے گؤ رکھشا کی انتہا پسندی کوروکنے میں ناکام ہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت بھی ’گؤ رکھشک‘ کے ناپاک ارادوں سے خوش ہیں اور اس معاملے پر وہ چپ سادھے ہوئے ہے۔ اب تو یہ شرمناک خبر ہندوستانی سرحد پار کرکے برطانیہ کے اخباروں میں شائع ہورہی ہے اور اسے ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا جارہا ہے۔
جس ’مہان بھارت‘ کے بارے میں ہم نے ہمیشہ یہی سنا تھا کہ ’ ڈال ڈال پر سونے کی چڑیا کرتی ہے بسیرا وہ بھارت دیش ہے میرا‘، تو اس بھارت پر کن لوگوں کا قبضہ ہوگیا ہے جہاں نفرتوں کے درندے آئے دن خون خرابہ کر رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ واقعی ہندوستانی ہیں جو اس پاک اور پَوِتر دھرتی پر سوائے خون بہانے کے اور کچھ نہیں سوچ رہے ہیں۔ ان انتہا پسند ہندوؤں کے مسلسل نفرت بھرے بیان اور پالیسی سے ہندو اور مسلمان میں ایک ایسی دراڑ پیدا کر دی ہے جس سے ہر امن پسند ہندوستانی تشویش میں مبتلا ہیں۔ جب ہم ہندوستانیوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے تو مجھے بہت فخر ہوتا ہے۔ لیکن کیا واقعی ہم اس ہندوستان پر فخر کر رہے ہیں جس کی آزادی کے لئے گاندھی نے اپنی جان دے دی۔ کیا ہم اس ہندوستان پر فخر کر رہے ہیں جس کے لئے مولاناابوالکلام آزاد نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا۔ کیا ہم اس ہندوستان پر فخر کر رہے ہیں جہاں گوتم بدھ نے شانتی کا پیغام دیا۔ کیا ہم اس ہندوستان پر فخر کر رہے ہیں جہاں صوفیوں اور سنتوں نے بھائی چارے کی عمدہ مثالیں پیش کی ۔ کیا ہم اس ہندوستان پر فخرکر رہے ہیں جس کے آئین نے تمام مذاہب کو یکساں طور پر زندگی جینے کا حق دیا ہے۔
نہیں۔ بالکل نہیں ۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو ہماری آنکھیں جنید خان کے قتل سے نم نہیں ہوتیں۔ کیوں جنید خان کو مارا گیا۔ آخر کیا قصور تھا جنید خان کا۔ لیکن مجھے پتہ ہے۔ جنید خان ایک مسلمان اور اکثریتی ہندوؤں کے ملک میں رہنے والا ایک کمزور لڑکا تھا ۔ جسے مٹھّی بھر گؤ رکھشکوں نے اپنے شیطان گرو کے اشارے پر جان سے مار ڈالا۔ لیکن مارنے والے بزدل شاید یہ بات بھول گئے کہ انہوں نے ایک بے قصور جنید کو مار کر کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کو صدمہ پہنچایا ہے۔ جس کے لئے ہندوستانی مسلما ن ان گؤ رکھشکوں کو کبھی معاف نہیں کر یں گے۔ جنید خان اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ دلّی سے لوٹ رہا تھا۔ ٹرین میں کسی بات پر چند لوگوں سے بحث ہوئی اور ان لوگوں نے جنید پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ حملہ کرنے والے جنید اور ان کے ساتھیوں کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے ’ ان لوگوں کے پاس گائے کا گوشت ہے‘۔ تاہم جنید اور اس کے ساتھیوں نے بار بار ان سے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور ہمارے پاس گائے کا گوشت نہیں ہے۔ ابھی گائے کے گوشت پر بحث ہو ہی رہی تھی کہ اوکھلا سے چڑھے ہوئے لوگوں نے جنید کو دھکّا دے کر گرا دیا۔ جنید اور اس کے بھائی شاکر نے ان لوگوں سے پوچھا کہ انہیں کیوں دھکّا دے کر گرایا گیا ہے تو انہوں نے جنید کے سر کی طرف اشارہ کیا ۔ یعنی کہ جنید کے سر پر لگی مذہبی ٹوپی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے غصّہ میں کہا کہ ’تم لوگ مسلم ہو، ملک کے غدّار ہو، پاکستانی ہو اور گائے کا گوشت کھاتے ہو۔‘
ظلم کی انتہا یہی نہیں ہوئی بلکہ ا ن لوگوں نے جنید اور اس کے بھائی شاکر کو ڈرایا اور دھمکایا اور انہوں نے شاکر کے سر سے ٹوپی کو اتار پھینکا۔ اس کے بعد وہ شاکر کی داڑھی نوچنے لگے۔ شاکر ان بے حِس درندوں کے سامنے بے بس محسوس کرنے لگا۔ یہ ہے میرے بھارت مہان کی داستان جہاں ایک مسلمان کو محض اس لئے زد وکوب اور قتل کیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ہندوستان شہری کی حیثیت سے ان لوگوں سے اپنے اوپر جھوٹے الزام کی تردید کی ۔ لیکن انتہا پسند ہندوؤں کا بس ایک ہی مقصد تھا کسی طرح گؤ ماتا کی آڑ میں ایک مسلمان کا خون کیا جائے۔ جنید کے گاؤں میں لوگوں نے عید نہیں منائی اور احتجاج کے طور پر مسلمانوں نے کالی پٹّی باندھ رکھی تھی۔ جنید کے والد جلا الدین خان کا کہنا ہے کہ پولیس معاملے کو دبانے کے لئے غلط طور پر بیان دے رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے بیٹے کو مذہبی شناخت اور مسلمان ہونے کی وجہ سے مار ڈالا گیا۔
ہندوستان میں 2016 سے گائے کا گوشت کھانے یا اس کی تجارت کرنے کے نام پر آئے دن لوگوں کی جان لی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گؤ رکھشا گروپ کو کھلے عام طور پر تلوار اور بندوق لے کر لوگوں کو دھمکاتے دکھایا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ گؤ رکھشا گروپ قانون کی دھجّیا ں اڑاتے ہوئے خاص طور سے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں ہی گؤ رکھشا گروپ کے خلاف کسی قسم کے کارروائی کرنے میں ناکام ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس پورے معاملے میں شاید حکومت ملوث ہے۔ تاہم 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے گؤ رکھشا والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ مجھے ان لوگوں پر غصّہ آرہا ہے جو اپنے ناجائز دھندے کو چھپانے کے لئے گؤ رکھشا کی ذمّہ داری اپنے کاندھے پر لے کر گھوم رہے ہیں‘۔ اب یہ بیان مودی کی من کی بات تھی یا میڈیا کی بات تھی کہنا مشکل ہے۔ (Global Citizen) گلوبل سیٹیزن کے مطابق گائے کی بڑی تعداد ہونا دراصل زمین کے لئے کافی خطرے کی بات ہے۔ کیونکہ گائے کی ریاح سے کافی گیس پھیلتی ہے جو انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔ گلو بل سیٹیزن کے مطابق ایک گائے 55 گیلن میتھین گیس (Methane) ایک دن میں خارج کر سکتی ہے۔ میتھین گیس ایک ایسی خطرناک گیس ہے جسے کاربن ڈائی اکسائیڈ سے بھی خطرناک گیس مانا جاتاہے۔
یوں تو گائے دنیا کے ہر حصّے میں پائی جاتی ہے۔ تاہم ہندوستان میں 330 ملین گائے پائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد برازیل کا نمبر آتا ہے جہاں 210ملین گائے ہیں۔ پھر چین کا نمبر آتا ہے جہاں 100میلین گائے پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان ممالک کا رقبہ کافی بڑا ہے اور یہ دنیا کے دوسرے ممالک میں گائے کا گوشت بر آمد کرنے میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ گائے کا زندہ رہنا کئی معنوں میں نقصان دہ ہے اور گؤ رکھشکوں کو اپنے ارد گرد کے ماحول کا خیال بھی رکھنا چاہئے۔ ہندوستان میں گؤ رکھشا والے اس سر زمین پر مذہبی عقائد کا نا جائز فائدہ اُٹھا کر اپنی درندگی دکھا رہے ہیں ۔ ایک طرف وہ گائے ماتا کا نام لے کر ان معصوم مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں جن کا قصور شاید یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں تو دوسری طرف ہندوؤں کو اس بات سے لبھا یا جا رہا ہے کہ وہ گائے ماتا کے رکھشک ہیں۔
میں ہندوستانی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ گؤ رکھشک گروپ کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کرے تاکہ مزید کوئی جنید خان مارا نہ جائے۔