درسگاہِ بے نصاب
عمارت پختہ اینٹ، گارے سے اور چھت لکڑی کے بالے اور سرکیوں سے بنی ہوئی۔ عمارت کا داخلی دروازہ ایک ہال نما کمرے میں کُھلتا ہے جس کے بائیں جانب ایک در ہے جو بغلی کمرے کا داخلی دروازہ ہے۔ ہال کے سامنے والی دیوار کے قدرے بائیں ایک اور در جس سے آپ اس عمارت کے تیسرے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کمرے میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب پھر ایک کمرہ ، یعنی اس عمارت کا چوتھا کمرہ جس سے منسلک غسل خانہ ہے۔ ایک بار پھر داخلی ہال میں چلتے ہیں۔ سامنے والی دیوار کے دائیں جانب پسِ دیوار اس عمارت کا باورچی خانہ ہے جس کے ایک کونے میں جہازی قد و قامت کا خنک ساز رکھا ہے۔ اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ عمر میں یہ کہنہ سال ہے یا یہ عمارت، پہیلی بوجھنے سے کم نہیں۔
عمارت کے ہر کمرے میں ، کمرے کی جسامت کی مناسبت سے سیاہی مائل کتھئی رنگ کی لکڑی کی مضبوط میز کرسیاں رکھی ہیں۔ کرسیاں بید کی تاروں سے بُنی گئی ہیں۔ چائے کے برتن جیسے چائے دانی، شکر دانی اور دودھ دانی بھاری بھرت کی ہیں۔ کپ پرچ اور پلیٹیں چینی کی جبکہ گلاس کانچ کے ہیں۔ پانی کے جگ، چمچ اور چٹنی کے استعمال کی چھوٹی پلیٹیں بھاری سٹیل سے بنی ہیں۔ فہرستِ طعام میں سموسے، شامی کباب، بکرے کی چانپ اور ڈبل روٹی۔ مشروبات میں چائے اور سیون اپ، کوک وغیرہ میّسر ہیں۔ سموسے دو اقسام کے تیار کئے جاتے ہیں ۔ قیمہ بھرے اور آلو والے، آلو والے سموسوں میں سبز دھنیا اور سبز مرچ کے علاوہ موسم کے اعتبار سے مٹر کے دانے بھی نظر آتے ہیں ۔ سموسوں کے ساتھ دہی کا رائتہ جس میں سبز مرچ کی چٹنی اور ہلکا نمک شامل ہوتا ہے، دی جاتی ہے۔ ان سموسوں کی میدے کی کھال قدرے موٹی ہوتی ہے۔ قیمہ بھرے سموسوں کی یہ کھال باریک ہوتی ہے ۔ چانپ کٹی ہوئی باریک پیازاور سبز مرچ جس میں سرکہ شامل ہوتا ہے، اس اہتمام سے پیش کی جاتی ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے چائے کی تعریف میں اس کی رنگت اور مہک کا تذکرہ اس طور کیا ہے کہ پڑھنے والا بے اختیار چائے کی طلب محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہاں کی چائے بلا مبالغہ اس معیار پر پوری اُترتی ہے ۔ یہ سموسے اور چانپ جس کسی نے کھائے اور چائے پی ہے، وہ اس بات کی تائید کرے گا کہ یہ ذائقہ کہیں اور نہیں ملا۔
یہ ساہیوال کا کیفے ڈی روز ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں آنے والے مخصوص لوگ ہیں جو اپنے اپنے وقت پر آتے ہیں اور گھنٹوں بیٹھتے ہیں۔ چرچ روڈ کے اختتام پر دائیں کونے میں کیفے ڈی روز ہوا کرتا تھا جس جگہ سے دائیں کچہری کی طرف اور بائیں سٹیڈیم ہوٹل کے سامنے سے ریلوے اسٹیشن کو جانے والی سڑک سٹیدیم روڈ کہلاتی ہے۔ دن میں یہاں آنے والوں میں وکلأ اور ان کے مؤکل خاص گاہک ہوتے کہ مؤکلوں کی جیب سے خرچ کو ناپنے تولنے کی کیا ضرورت۔ کچہری کے اوقاتِ کار کے بعد شام کو یہاں آنے والوں میں شاعر، ادیب، محقق، دانشور، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن، شہر کی سماجی سرگرمیوں کی روحِ رواں شخصیات، تعلیم سے فارغ ہونے والے اور روز گار ملنے کے منتظر نوجوان اور وکلأ شامل ہیں۔
کیفے ڈی روز کی فضا علمی و ادبی تھی جہاں شعر و شاعری کی ادبی و تنقیدی نشستوں کی تاریخ بہت قدیم تھی۔ شہر میں مختلف اوقات میں تشکیل پانے والی ادبی تنظیموں کی داغ بیل اسی کیفے میں پڑی۔ صرف ساہیوال نہیں، پاکستان بھر میں شہرت پانے والے شعرائے کرام، افسانہ نگار، نقاد اور ریڈیو ، ٹیلیویژن ، ڈرامے کی دنیا کے بڑے نام والوں کا تعلق ا سی مادرِ علمی سے رہا ہے جنہوں نے کیفے ڈی روز میں اپنا وقت گزارا اور اپنے پیچھے آنے والی نسل کے نوجوانوں میں حصولِ علم اور ذوقِ ادب کی پیاس کو بھڑکایا اور سیراب بھی کیا۔
کیفے ڈی روز کی حیثیت ایک تہذیبی و ثقافتی درسگا ہ کی تھی جہاں سے نوجوانوں کو زندگی کے ادب و آداب ، تہذیب و ثقافت، رکھ رکھاؤ، علم کے حصول کی تڑپ اور مطالعے کا شوق جیسی عادات غیر محسوس طریقے سے ملتی تھیں۔ ملکی سیاست کی آگاہی اور سیاسی شعور کی پختگی کا یہ سکولِ اولیں تھا۔ بہت سے نوجوانوں کو اسی کیفے کی نشستوں نے شعر گوئی کا ذوقِ سلیم بخشا جن کی شہرت آج ملکی سطح پر مسلم ہے۔
کیفے ڈی روز کی حیثیت ایک منی یونیورسٹی کی تھی۔ جہاں بیٹھنے والے ادب، سیاست اور تاریخ کا ایسا علم حاصل کر پاتے تھے جو عموماً روائتی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل نہیں ہوتا۔ کیفے ایک ایسی فضا رکھتا تھا جہاں سے ہر شخص حسبِ توفیق آگہی پاتا ۔ جس جگہ ادیب شاعر اور سیاستدان باقاعدگی سے آتے جاتے ہوں وہاں ’خفیہ‘ والوں کا موجود ہونا امرِ لازم ہے۔ سو ’ایک خفیہ والے صاحب‘ نے ہم ’مجلسِ فکرِ نو‘ کے دوستوں کو سختی سے منع کیا کہ اب کیفے میں آنے جانے اور تنقیدی نشستوں کا سلسلہ موقوف کیا جائے۔ یہ روا داری و محبت کے طور اطوار بھی کیفے کے ماحول کی دین تھی۔
پاک ٹی ہاؤس اور چائنیز لنچ ہوم لاہور بھی ایسی ہی درسگاہیں تھیں جہاں لاہور کے ادیب شاعر و دانشور رونق افروز ہوا کرتے تھے اور نئی نسل کے نمائندہ ہونہار ان سینیئرز سے حسبِ توفیق کسبِ فیض پاتے تھے۔ ایک زمانے میں لاہور کے مال روڈ پر بائیس (22) ’ٹی ہاؤس‘ ہوا کرتے تھے جن کی اپنی روایات تھیں۔ یہ محض رزق روزی کمانے کے اڈّے نہ تھے ۔ یہاں لاہور اور پنجاب کی تہذیب و ثقافت پلتی پنپتی اور پھیلتی تھی۔ افسوس کہ اب پاکستان میں ایسا ماحول ہے نہ ایسے غمگسار لوگ۔ اب نفسا نفسی کا عالم ہے سو بے یقینی اور انجانے خوف میں زندگیاں بیت رہی ہیں۔
سیاست کاروباری لوگوں کیلئے منافع بخش کام بن گیا ہے۔ صحافت اور شعر و ادب ذریعہ ہے اربابِ اقتدار سے راہ و رسم بنانے اور فیض یاب ہونے کا ۔ فنونِ لطیفہ (موسیقی ، رقص، مجسمہ سازی، پینٹنگ وغیرہ) کے فروغ و حوصلہ افزائی کے لئے اگر کوئی ادارے ہیں بھی تو وہ زبوں حالی کا شکار ہیں کہ حکومتوں کو کرنے کے اور بہت دھندے ہیں ۔ ایسے میں کردار سازی کیسے ہو اور کیونکر!!