کوئی بھی پاکستانی کرپٹ نہیں ہو سکتا
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- جمعرات 29 / جون / 2017
- 4775
یہود و ہنود یہ خبریں پھیلاتے ہیں کہ مملکت خداداد میں معمولی کلرک سے لے کر انتہائی اوپر تک رشوت لی جاتی ہے۔ تھانے بکتے ہیں۔ پولیس والے پیسے کھاتے ہیں۔ رشوت لے کر ناجائز ترین کام بھی کر دیے جاتے ہیں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے اور یہ سب جھوٹے الزامات ہیں۔ یہ سرکاری اہلکار تو اتنی محبت اور خوشدلی سے عوام کے کام کرتے ہیں کہ وہ اپنا احساس تشکر دکھانے کی خاطر ان اہلکاروں کو کچھ رقم زبردستی تھما دیتے ہیں۔
اسی سلسلے میں یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ سرکاری ٹھیکے دینے میں بھی رشوت کا عمل دخل ہوتا ہے اور ان پر عمل درآمد میں بھی سرکاری افسران، ٹھیکیدار کے منافع اور اوپر کے دیگر خرچے نکال کر آدھی سے بھی کم لاگت میں انتہائی ناقص کام کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جو سڑک دس سال چلنی چاہیے وہ اگلی برسات میں ہی ادھڑ جاتی ہے۔ ان یہود و نصاری کو ایسا بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے خود ہی شرم کرنی چاہیے۔ ہم نے خود ملاحظہ کیا ہے کہ نہ صرف ٹھیکے نہایت شفاف انداز میں دیے جاتے ہیں بلکہ ٹھیکیدار کوالٹی کے متعلق اس قدر حساس ہوتا ہے کہ اکثر خود اپنی جیب سے پیسہ لگا کر معیار کو ٹھیکے کی شرائط سے بھی دگنا بہتر کرتا ہے۔
یہود و ہنود سب سے زیادہ ہماری اہل اور صاف شفاف قیادت سے گھبراتے ہیں اور اس کی کردار کشی میں جتے رہتے ہیں۔ وہ الزام لگا دیتے ہیں کہ سیاستدانوں کی دولت میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کی آمدنی ان کے طرز زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض ممبران پارلیمنٹ پیسہ لے کر ووٹ ڈالتے ہیں یا پارٹی بدل لیتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے۔ ایسا ہندوستان میں ہوتے تو ہم نے دیکھا ہے مگر کبھی بھی پاکستان میں ایسا کچھ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود بتائیں کہ کیا آپ کو اس بات پر معمولی سا بھی شبہ ہے کہ جناب آصف علی زرداری اور نواز شریف سے زیادہ ایماندار اور دیانت دار کوئی دوسرا سیاست دان روئے زمین پر موجود ہے؟ ویسے تو تمام پاکستانی ہی روِئے زمین پر ذہانت میں تمام انسانوں سے بڑھے ہوئے ہیں لیکن خاص طور پر ہمارے سیاستدان نہایت ہی ذہین ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے کاروباروں میں بھی اتنے ہی زیادہ کامیاب ہو جاتے ہیں جتنے وہ سیاست میں ہوتے ہیں اور یوں ان کی دولت میں ایسا بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے جس کی عقلی توجیہہ بسا اوقات ممکن نہیں ہوتی ہے۔
پاکستانیوں کو بدنام کرنے کی خاطر یہ بے بنیاد الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ پاکستانی دو نمبر کاغذات بنوانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے وہ غیر ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں، دوسرے کی جائیداد پر قبضہ کرتے ہیں، غلط کوائف دکھا کر ملازمت لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس سے زیادہ بعید القیاس اور مضحکہ خیز الزام آپ نے پہلے کبھی سنا ہے؟ ان کفار کی دریدہ دہنی تو دیکھیے کہ ہندوستان کے جرائم ہم پاکستانیوں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ یہ سب کام بھارت کا مکار ہندو بنیا کرتا ہے اور کوئی مسلمان ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ویسے بھی کاغذی کام پکا ہو تو اچھا ہوتا ہے اور پاکستانی ہر ممکن طریقے سے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے ویزے، جائیداد اور ملازمت کے کاغذات وغیرہ ہر لحاظ سے پکے ہوں اور ان میں کوئی نقص نہ نکالا جا سکے، خواہ اس مقصد کے لئے ان میں کچھ تبدیلی ہی کیوں نہ کرنی پڑ جائے۔
(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)