حادثے میں بھی ہدف اپنا اپنا

  • تحریر
  • جمعہ 30 / جون / 2017
  • 4161

اس عید سے قبل دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔ پارہ چنار، کوئٹہ اور کراچی کے واقعات پر غم وغصہ ابھی ابل رہا تھا کہ احمد پور شرقیہ کے نزدیک ایک آئل ٹینکر الٹنے کے بعد اس سے بہتے تیل کا مالِ مفت جمع کرنے کی کوشش میں 165 افراد بَھک سے بھسم ہوگئے۔ اتنے ہی شدید زخمی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

مرنے والے جان سے گئے لیکن میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے تبصرے گردش میں رہے۔ کچھ نے اسے جہالت اور مقامی لوگوں کے لالچ کا شاخسانہ قرار دیا، کچھ نے لوگوں کی غفلت کو مرتکب ٹھہرایا، بیشتر نے غربت کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا۔ بہت سے تبصرہ نگاروں کو اس میں جنوبی پنجاب کی محرومیاں دکھائی دیں۔ اپنی اپنی دانش اور رائے کی سبقت کے لئے دلائل اور طعن و تشنیع کا سلسلہ زوروں پر رہا، اس دوران ہم تباہ حالی کی فوٹیج اور متاثرین کے خاندانوں کی آہ و پکار سن کر سوچتے رہے کہ بقول عدیم ہاشمی:
پوچھ ان سے جو بچھڑ جاتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے؟

مرنے اور زخمی ہونے والوں کی کوتاہیوں سے لوگ باگ جلد ہی فارغ ہو کر سیاست کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اپنی اپنی سیاسی مصلحت کے مطابق طعن و تشنیع کی تلواریں نیام سے باہر نکل آئیں۔ کچھ کو شدید گلہ تھا کہ وطنِ عزیز میں قیامتِ صغریٰ ٹوٹ گئی اور وزیراعظم ہیں کہ لندن کی خوشگوار فضا میں خاندان کے ساتھ عید منا رہے ہیں۔ کچھ کو گلہ تھا کہ جو ہوا سو ہوا اگر نزدیک ہی کہیں برن سنٹر ہوتا تو ہلاکتوں کی تعداد کم ہو سکتی تھی۔ جنہیں برن سنٹر کے لغوی معنی سے تھوڑی بہت بھی شناسائی تھی ، انہوں نے اعدا د و شمار کے انبار لگا دیئے کہ اتنے بڑے صوبے میں فلاں فلاں جگہ فقط اتنے برن سنٹر ہیں جس سے لازمی طور پر حکومت کی نا اہلی اور غلط ترجیحات ثابت ہوتی ہیں ۔ حادثے کی دیگر وجوہات ، مرنے والوں کی شناخت اور زخمیوں کے علاج معالجے کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ برن سنٹر کا ذکربھی خوب گونجا۔

عوامی دباؤ تھا یا وزیر اعظم کا احساسِ فرض شناسی، وہ اگلے ہی روز سیدھے جائے حادثہ پر پہنچے۔ کچھ احباب نے پارہ چنار میں بھی وزیراعظم بلکہ آرمی چیف کے دورے کو حادثے سے بھی اہم مسئلہ بنا ڈالا۔ کچھ ستم ظریف اعداد و شمار کے ماہر نکلے اور تقابلی جائزہ بھی پیش کر ڈالا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو احمد پور شرقیہ میں اتنی امدادی رقم کا اعلان کیا گیا جبکہ پارہ چنار میں اس سے کہیں کم۔ بات چل نکلی تو تاریخ کے شعور میں شرابور کچھ احباب نے چند پچھلے سانحوں کے لئے اعلان کردہ امدادی رقوم کو بھی اس قضیے میں شامل کرکے انسانی اقدار اور انتظامی و سیاسی مصلحتوں کا ایکسرے شروع کر دیا۔ احمد فراز ہی کام آئے اور یوں دِل کو سمجھا پائے کہ:
دلِ تباہ تجھے اور کیا تسلی دیں
تِرے نصیب، تِرے چارہ گر نہ تھے ایسے

ہمیں نہیں معلوم کہ مالِ مفت سمیٹنے کا سنہری موقع سامنے پا کر دیوانہ وار لپکنے اور جان کو داؤ لگانے والے کو غربت نے پاگل کیا ہوتا ہے یا جہالت اس کے اعصاب پر سوار ہوتی ہے، یا غفلت اس کے اوسان خطا کر دیتی ہے یا پھر ایسی صورت میں سراسر انتظامیہ ہی ذمہ دار ہے کہ وہ جنون کے سامنے خِرد کی دیوار کیوں نہ کھڑی کر سکی۔ لیکن اتنا اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ ہم میں سے کچھ کے اندر لالچ اور ہوس اس موقع کو کسی اور نظر سے دیکھتی ہے۔ دمِ تحریر ایک خبر پر ہماری نظر پڑی کہ اس حادثے کے عین چوتھے روز کراچی حیدرآباد سڑک پر ایک آئل ٹینکر اور ٹرک کے تصادم کے بعد بعد مقامی لوگ اس کے بہتے تیل سے اپنے اپنے برتن بھرنے کے لئے اسی جنون کے ساتھ دیوانہ وارٹوٹ پڑے، کسی کو احمد پور شرقیہ میں ٹوٹی چار روز پہلے کی قیامت یاد رہی اور نہ یہ کہ اگر پھر سے کوئی دھماکہ ہو گیا تو نزدیک کوئی برن سنٹر بھی ہے یا نہیں۔

کالم تحریر کرنے سے قبل ہم نے ایسے واقعات کی دیگر ممالک میں مثالیں ڈھونڈنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ ایسے کئی واقعات ایسی ہی تباہی پھیلا چکے ہیں ۔ افریقی ملک موزمبیق میں نومبر 2016 میں ایسے ہی واقعہ میں اسّی سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ 2012 میں کینیا میں111 ، گزشتہ سال نومبر میں سوڈان میں 193 اور کونگو میں 2010 میں ایسے ہی ایک حادثے میں 230 افراد جان سے گئے۔ اس کے علاوہ درجنوں واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد مفت کا تیل جمع کرتے کرتے آگ کی نذر ہو گئے۔ ایک امر البتہ ان تمام واقعات میں یکساں ہے کہ جان ہارنے والوں کی اکثریت غریب کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ کئی ایک واقعات میں انتظامیہ کی باز رکھنے کی کوششیں بھی بیکار گئیں اور دیوانے چند لیٹر آئل کے عوض جان گنوا بیٹھے۔

سنا اور دیکھا یہی تھا کہ حادثے عوام اور دیگر طبقات کو اکٹھا کر دیتے رہے۔ سونامی ہو یا زلزلہ، دہشت گردی ہو یا بم دھماکہ، سیلاب ہو یا کوئی اور تباہ کاری، لوگ باگ وقتی اختلاف بھلا کر تباہ کاری کے آگے بند باندھنے میں جْت جاتےہیں۔  لیکن وطن عزیز میں چند سالوں سے سیاسی تفریق کی خلیج اس طرح وسیع اور گہری ہو رہی ہے کہ دیکھ کر جھر جھری سی آ جاتی ہے۔ احمد پور شرقیہ کے حادثے کے بعد اپنے اپنے سیاسی نقطہ نظر کے مطابق خندقیں کْھد گئیں۔ انتہائی عامیانہ سیاسی طعن و تشنیع اور طنز کے نشتر حادثے کی اندوہناکی پر حاوی نظر آئے۔ کئی حساس دوستوں کو سخت ملول اور برہم پایا کہ اب حادثے بھی سیاست کے تول میں تولے جائیں گے کیا۔

ہمیں بحث کا فن آیا نہ دلیل آزمانے کا ہنر لیکن گزشتہ چند روز کی بحثا بحثی میں یہ ضرور اندازہ ہوا کہ ہر سیاسی طعن و تشنیع کی تان میگا پروجیکٹ پر ٹوٹنے سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تو ضرور ہو تی ہوگی لیکن ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سنجیدگی اور اجتماعی احساس کے ساتھ کسی پیش رفت کا امکان ندارد ہی پایا ۔ معمولی سے وقتی فائدے کے بر عکس ممکنہ نقصان کے ادراک کو میڈیا اور عوامی حلقوں کے ذریعے روزمرہ کی سوچ میں راسخ کرنے کی ضروت ہے۔ غربت ایک محرک ضرور ہو سکتی ہے لیکن غفلت اور لالچ کے دیوانہ پن کے سامنے انتظامیہ اور معاشرے کے ہر شخص کو اس آگ سے کھیلنے والوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ یوں مالِ مفت سمیٹ کر اپنے آپ اور معاشرے کو آگ میں جھونکنے کے اقدام کو قانوناٌ جرم قرار دینے کی ضرورت ہے ۔ مزید یہ کہ سیاست کے میدان میں موضوعات اور واقعات کی کیا کمی ہے، ایسے اندوہناک حادثات پر پہلے سے شدید تقسیم شدہ معاشرے میں مزید دراڑیں ڈالنے کے لئے سیاست سے گریز ہو سکے تو کیا برا ہے۔

اس سانحے پر ایک سرائیکی شاعر ظفر سید نے ایک دلدوز نظم تحریر کی جس نے اس حادثے کے سب کرداروں کا خوب احاطہ کیا ہے :
اساں سڑ گئے ہاں تاں کیا تھی گئے؟
اساں مْلک تیڈے دے کَملے کوجھے
اساں پکھی واس، کْٹانڑے، کمّی
ساڈا جیون کیا، ساڈا مرنا کیا
اساں رْل گٗیں دی توں فکر نہ کر
اساں کیہڑی یار قطار اچ ہیں؟
( ہم آگ میں جَل بْھن گئے تو کیا ہوا؟ ہم تمہارے ملک کے کم عقل اور بدصورت سے لوگ ہیں۔ ہم میں سے کچھ خانہ بدوش، کچھ نوکر چاکر اور کچھ کمّی کمین، ہمارا جینا کیا اور مرنا کیا۔ ہم زبوں حالوں کی تم فکر نہ کرو، ہم کون سا یہاں کسی شمار قطارمیں ہیں ! )