شکست خوردہ بھارتی وزیرِاعظم

برِصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی کے بہت سے اثرات آج تک موجود ہیں۔ جن کی فہرست مرتب کی جائے تو سب سے اول نمبر پر غلامانہ سوچ اور پھر کرکٹ کا نام لیا جا سکتا ہے۔  یہ دونوں چیزیں ایک طویل عرصہ گزرنے کہ باوجود برِصغیر میں میں بسنے والوں کے ذہنوں سے نہیں نکل سکیں ہیں۔ بلکہ اور پختہ ہوچکی ہیں۔  سوچ کی غلامی نے اس خطے میں بسنے والوں کے حالات میں بہتری نہیں آنے دی۔ لکیر کے فقیر بنے کتنے ہی اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور باقی اسی انتظار میں اپنا وقت پورا کر رہے ہیں۔

شکست ایک ایسا دکھ ہے جس کو برداشت کرنا اور اس سے سبق سیکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یا قدرت یہ صلاحیت ہر کسی کو نہیں دیتی۔ بچے جب کسی کھیل میں ہارجاتے ہیں تو کسی بات کا بہانہ بنا کر لڑنا شروع کردیتے ہیں۔  اور کھیل کو ادھورا چھوڑنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ کرکٹ کی چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی  شکست سے دنیا جہان میں بسنے والے پاکستانی اور کرکٹ کو کھیل سمجھ کر اسے پسند کرنے والے بہت لطف اندوز ہوئے۔ مگر بھارت میں  جیسے صف ماتم بچھ گئی۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے بڑے بڑے تجزیہ نگار منہ کی کھا کر رہ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فائنل تو بس  خانہ پوری ہے، جیت تو بھارت کو ملنی ہے۔ کیوں کہ ان کے پاس بہت بڑے بڑے کھلاڑی ہیں۔

اس ہار کا جہاں بھارت کے عام عوام پر بہت گہرا اثر ہوا وہیں بھارتی خواص بھی یہ صدمہ نہیں جھیل سکے۔ ایک طرف مودی حکومت پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے مقابلوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسا ہی منظر گزشتہ دنوں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ وشانگٹن کے دوران بھی دیکھنے میں آیا۔ بھارت اس خطے کا مانیٹر بننے کا خواہش مند رہا ہے۔ یعنی  جو کردار امریکہ پوری دنیا میں ادا کرتا ہے بھارت جنوبی ایشیا میں وہی رول چاہتا ہے۔ امریکہ ، بھارت کے ذریعےافغانستان اور دیگر ممالک میں اپنے لئے سہولتیں حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ 

جنوبی ایشیا  میں عدم توازن کی فضا قائم کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ یک طرفہ فیصلہ کیا ہے۔ اس بار بھی کشمیریوں کے رہنما سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے کر بھارت کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو یکسر نظر انداز کردیا۔ اور آزادی کی تحریک کو دبانے اورنہتے کشمیریوں کی قتل و غارتگری کو قبول کیا گیا ہے۔ ایسے حلیف مل کر اسلامی دہشتگردی کو ختم کرنے کی بھی بات کرتے ہیں۔  اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ دینا کوئی نئی بات  نہیں مگر مسلمانوں کے خلاف بھی دہشت گردی کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ انگلستان میں  ایک ٹرک ڈرائیور نے مسجد سے نکلنے والے مسلمانوں پر ٹرک چڑھا دیا۔ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اسے کی نام دیا جائے گا۔  بھارت سرحدوں پر آئے دن معصوم عورتوں اور بچوں پر گولہ باری کرتا ہے اسے کای نام دیا جائے گا۔ امریکہ اور بھارت کو یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیریوں کو ان کی آزادی کی تحریک چلانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ  وہ لوگ ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آزادی کی جد و جہد کررہے ہیں۔  بھارت، آمریکہ اور اسرائیل پاکستان سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں  پاکستان کی کوئی بھی خوشی برداشت  نہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح ہمیں نقصان پہنچاتے  رہتے ہیں ۔

ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بھارت ایک کھیل کی شکست کو لے کر اتنا پریشان ہوجائے گا ۔  یہ ایک شکست نہیں ہے۔ بھارت کو پاکستان کے ساتھ کھولے ہوئے ہر محاذ پر شکست کا سامنا  ہے ۔ بھارتی وزیرِاعظم اپنی داخلی اور خارجی کی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر لگا کر، اپنی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک شکست خوردہ وزیرِاعظم سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔