گینگ ریپ اور بھارتی فلمیں
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 01 / جولائی / 2017
- 9686
ہندوستان میں حالیہ ہونے والے یکے بعد دیگرے کئی مشترکہ بلادکار، انتہائی شرمناک ہو نے کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ بھی ہے۔ لیکن غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی جو تصویر ہندوستانی فلمیں پیش کر رہی ہیں، وہ اس بدفعلی اور جرم کی واردات سے مختلف نہیں۔ آئیے پہلے ہندوستانی فلمیں اور ان میں پیش کی جانے والی معاشرتی تصویر کا تجزیہ کرتے ہیں۔
ہندوستانی فلموں کی کامیابی کی کیا وجہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان فلموں میں وہی کچھ پیش کیا جاتا ہے جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ جرم و سزا کی دنیا، جس میں قانون مجبوراور مجرم کی دیدہ دلیری، بربریت کی انتہا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرم کی پشت پناہی۔ انصاف اور قانون دونوں مجبور اور لاچار، قانون اپنی ہی بنائی زنجیر میں جکڑا، رشوت اور بدعنوانی کے زیرِ سائے خاموش تماشائی بناہوا ہے۔ یہی وہ تصویر ہے جو ہندوستانی فلمیں پیش کر رہی ہیں۔
ہندوستانی معاشرہ بھلے ایسا نہ ہو مگر عوام کی خواہش ایسے ہی کسی معاشرے کو دیکھنے کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جرم وسزا کی یہ فلمیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ در حقیقت یہ معاشرہ ایسی ہی کسی تصویر سے قریب ترہو رہا ہے۔ ہندوستانی فلموں کا لازمی جز عورت کی غیرت و حمیت کا جنازہ نکالنا ہے۔ عورت ایک جنسی نمائش کا ذریعہ ہے اور اسی لیے ہر فلم میں عورت اپنے جسم کی نمائش کرکے مردوں کا دل بہلاتی نظر آتی ہے۔ یہ معاشرتی سوچ جب فلمساز پردہء سیمیں پر پیش کرتا ہے تو مرد حقیقی معنوں میں نہ سہی تصوراتی (Virtual) معنوں میں اسے اپنے اردگرد پاتا ہے۔ حقیقت میں نہ سہی تصوراتی طور پراپنی ہوس کی تسکین کرلیتا ہے۔ اور فلم سپرہٹ ہوجاتی ہے۔ مرد کی یہی سوچ، عورت کے جسم کی نمائش، اس کی انا اور خوداری کو نیچا دکھانا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنانا، فلموں سے نکل کر معاشرے میں سرائیت کر رہا ہے۔ معاشرے میں پھیلتی برائی اور روز مرہ اس سے متا ثر ہونے کی صورت میں اس اجتماعی زیادتی کی توجیع ہندوستانی فلموں میں تلاش کرنا ایک لوجیکل سوچ ہے اور اس سے انکار حقیقت سے فرار ہے۔
دنیا کے دوسرے فلمی ادارے ہالی ووڈ وغیرہ بھی جرم وسزا کی کہانی پیش کرتے ہیں۔ مجرم کی شاطرانہ چالیں دکھاتے ہیں۔ قانون کی سر توڑ کوششیں دکھاتے ہیں اور مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرتے ہیں۔ یقیناً ان فلموں میں بھی تشدد کا عنصر موجود ہوتا ہے مگر جس پیمانے پرہندوستانی فلموں میں خون بہتا نظر آتا ہے، ریپ کے تفصیلی مناظر پیش کیے جاتے ہیں، پولیس کی کرپشن، سیاستدانوں کی چالبازیاں دکھائی جاتی ہیں۔ اس کی مثال نہ تو مغربی فلموں میں اورنہ ہی مغربی معاشرے میں نظر آتی ہے۔ مغربی فلمیں عورت کو لذت انگیزی، مرد کی ہوس کا شکار دکھاتی ہیں اور نہ ہی معاشرے میں اس کی ایسی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے۔ فلمیں معاشرے سے قریب ترین تصویر پیش کرتی ہیں اور ہندوستانی فلمیں وہی کچھ پیش کر رہی ہیں جو اس معاشرے کا خاصہ ہے۔ اگر ہندوستانی فلمیں اورہندوستانی فلمیں بنانے والے اپنی سوچ نہیں بدلیں گے تو ہندوستانی معاشرہ دن بدن ہندی فلموں میں پیش کیے جانے والے معاشرے کی تصویر سے قریب ہوتا جائے گا۔ تشدد، جرم، سیکس ازم، انفرادی انصاف، جرم کی بادشاہت اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر شان وشوکت کی یہی تصویر پیش کرتا رہا تو معاشرے کے دوسرے اداروں کی سوچ، ان کی کاوشیں اور معاشرے کو مثبت سمت لے جانے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔
ہندی فلموں کی کامیابیاں ہندوستان سے نکل کر جہاں جہاں اپنے جھنڈے گاڑ رہی ہیں وہیں یہ معاشرے کے بگاڑ کا باعث بھی بن رہیں ہیں۔ ان فلموں کو روکنا اور ان فلموں کی بنیادی تصور کو تبدیل کر نا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ یقیناَ بعض ہندی فلمیں ایسی بھی ہیں جو اس عمومی رویہ اور سوچ کے بالکل برعکس موضوعات کو پیش کر نے کی کوشش کر تی ہیں۔ مگر یہ فلمیں دوسرے درجے کے فلمسازوں کی پیش کر دہ ہیں جو کہ لوبجٹ فلموں کی زمرے میں آتی ہیں۔ اور اسی لیے مقبولیت کے اس مقام کو نہیں چھو پاتیں ہیں جہاں تک عام بالی وڈ فلموں کی پہنچ ہے۔
پاکستانی فلمسازوں کو بھی اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اچھی فلموں کے لیے اچھی کہانی ضروری ہے۔ اور اس ملک میں اچھے قلمکاروں کی کمی نہیں ہے۔ صرف ان تک رسائی کی بات ہے۔ بے شمارہندوستانی فلمیں تکنیکی طور پر بہت اعلی ہونے کے باوجود عوام کو رجھا نے میں ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔ مگر موضوعاتی لحاظ سے ان کا درجہ انتہائی کم تر ہے۔ اس وجہ سے دیگر فلمسازوں کو بالی وڈ سے بہت زیادہ دباؤ محسوس کر نے کی ضرورت نہیں۔ اچھے موضوعات پر ڈھنگ سے بنی کو ئی بھی فلم نہ صرف اپنا اچھا تاثر پیش کر ے گی بلکہ اچھا بزنس بھی۔ اس بات کو ثابت کر نے کے لیے پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں کا حوالہ دینا کافی ہے جو اپنے موضوعات کے لحاظ سے اچھوتے رہے ہیں۔