دی کنٹریکٹر اور سوالات
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 02 / جولائی / 2017
- 4301
دی کنٹریکٹر نے منظر عام پر آتے ہی پاکستانی اداروں اور حکمرانوں کو کنٹریکٹر ثابت کردیا۔ ایسے کنٹریکٹر جو اپنے آقا امریکہ سے خوف و ہراس کی وجہ سے پاک وطن کے اعلی عہدیداران ہو کر بھی کنٹریکٹر کا کام کرتے رہے۔ ’دی کنٹریکٹر‘ ایک کتاب کا نام ہے جو سابق امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس آپ بیتی ہے لیکن اس آپ بیتی نے پاکستانی سربراہوں کے پول بھی کھول دیئے۔
اس کتاب نے جہاں حکومتی بے بسی کے پول کھولے وہیں عوام کے دلوں میں افسردگی و سوالات بھی چھوڑے۔ امید کرتے ہیں ہمارے ادارے اور نمائندگان وضاحت ضرور پیش کریں گے۔ 2011 کا یہ باب پھر سے کھل کر سامنے آگیا ہے اور اس بار کچھ زیادہ ہی کھل کر سامنے آگیا۔ ایک بار پھر محب وطن پاکستانی عوام سوالات کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ عوام کے دلوں میں طرح طرح کے سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔ عوام کے دلوں میں ملال ہے کہ وہ اپنی محنت اور کوشش سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے کچھ رقم ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں تاکہ انہیں تحفظ اور انصاف جیسی سہولتیں ملیں۔ مگر افسوس کے قوم کا ہر فرد بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا ہم ان قرضوں کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ آخر ہمیں خودمختاری کب نصیب ہوگی۔
پاکستان تو ایک خودمختار ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا آخر خودمختاری کہاں کھوگئی۔ آیا ہماری خود مختاری ڈالرز کے عوض بک چکی ہے۔ اربوں ڈالرز کے عوض اپنی خودمختاری بیچ کر بھی تعلیم صحت اور غربت میں فرق نہیں آتا تو پھر ایسا کیوں ہے۔ کیا ہمیں اپنی خودمختار رہنے کے لئے صرف روکھی سوکھی میں گزر کرنا بہتر نہیں ہے۔ یہ سوالات برسوں سے چلے آرہے ہیں اور ہماری خودمختاری کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں۔ اربوں ڈالرز کا قرض ہماری حکومتیں اور ادارے بٹورتے رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات غیرت مند قوم کے لئے آگ کے گولوں سے کم نہیں۔ ہماری خودمختاری کی کرچیاں کرچیاں بکھری پڑی ہیں، اس کتاب کے انکشافات میں۔ افسوس کے کسی نمائندے کی طرف سے اس کی وضاحت بھی پیش نہیں کی گئی۔
ریمنڈ ڈیوس کا کہنا ہے کہ اس نےخود کو لاحق خطرہ کی وجہ سے دس گولیاں دو پاکستانیوں کے سینوں میں اتاریں۔ اس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ جیسے ہی یہ معاملہ امریکہ تک پہنچا تو پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس کی رہائی کے لئے امریکہ نے کوششیں شروع کردیں اور پاکستان اور اس کے اداروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اسی ضمن میں جان کیری نے نواز شریف سے ملاقات کی۔ نواز شریف نے بازیابی کی یقین دہانی کرائی۔ مزید بتایا کہ اس کی رہائی کے لئے جنرل پاشا، نواز شریف اور صدر آصف زرداری متفق تھے۔ حسین حقانی نے بھی بڑا کردار ادا کیا ۔ ان سب نے امریکی سفارتکاروں کے ساتھ مل کر رہائی کی پلاننگ کی۔ تاہم دیت کے تحت معاملات نمٹانے کے لئے کوشش شروع کر دی گئی۔ مگر لواحقین ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اسی لئے لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا اور اس میں آئی ایس آئی اہلکاروں نے بھی مدد کی۔
کتاب میں مزید لکھا ہے کہ سب سے زیادہ مدد اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے فراہم کی۔ انہوں نے پیشی کے دوران احاطہ عدالت میں رہ کر امریکی سفیر کیمرون منٹر کو میسجز کے زریعے عدالتی کاروائی کے بارے آگاہ بھی رکھا۔ قارئین یوں ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز کا خون بہا زبردستی لواحقین کو تھما کر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا حکم لکھا گیا۔ یہاں بھی عوام کے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا عدالت کو علم نہیں تھا کہ لواحقین پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ یقینی طور پرعلم ہوگا۔ مگر افسوس کہ قرآن واسلام کا حلف اٹھانے والے یہ عادل بھی خوف اور طاقت کے سامنے بے بس نظر آئے اور انصاف کی دجھیاں بکھیر دی گئیں۔
مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی وضاحت نہیں دے گا۔ مگر عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کتاب میں بیان کی گئی سب باتیں کای سچ ہیں۔ اگر نہیں تو وضاحت پیش کریں۔ شاہ محمود وہ واحد شخصیت ہیں جو امریکہ کے سامنے دیوار بنے۔ اس کی گواہی ڈیوس کی کتاب بھی دیتی ہے۔ دنیا کی نمبر ایک انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہیں از سر نو تحقیقات کرنی چاہئے اور ذمہ داران کو سزا دینی چاہئے تاکہ ملکی خود مختاری اور سلامتی کو یوں رسوا کرنے کی رسم ختم ہو سکے۔ یہ منطق پیش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ کو رہا کروا سکتا تھا۔ مگر ڈیوس کی مدد کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی اور عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی گئی۔ واقعی بھکاریوں کی کوئی عزت نہیں۔
بات جب عزت نفس تک پہنچ جائے تو تعلق کو ٹھوکر مار دینی چاہئے۔ عزت کا دفاع سب سے ضروری ہے۔ تعلق بنتے رہتے ہیں۔ دی کنٹریکٹر کا خلاصہ پڑھ کر اپنی حیثیت کا باخوبی اندازہ ہوگیا ہے۔ التجا ہے موجودہ آرمی چیف ذمہ داران کو کٹہرے میں لائیں۔ اور ملکی خودمختاری کو بحال کیا جائے۔ اس ملک کی خودمختاری بحالی ہونی چاہئے چاہے اس کے عوض ہمیں پابندیاں ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔
سر شرم سے جھک گیا وطن کا
حاکم ہی بک گیا وطن کا
محافظ بھی ظالم بنا وطن کا
بے بس نکلا عادل بھی وطن کا