امریکہ اور صلاح الدین کودوش نہ دو

عنوان بالا پر شاید کچھ  قارئین کو حیرت ہوگی لیکن اس کے حق میں میرے دلائل پڑھ کر قارئین کرام فیصلہ کریں کہ میری رائے غلط ہے یا درست۔ امریکہ کو الزام نہ دینے کا مشورہ میں غیر مشروط امریکہ پرستوں اور صلاح الدین کو دوش نہ دینے کا مشورہ پاکستان نواز کشمیریوں اور تحریک خود مختار کشمیر کے اندر موجود ایسے لوگوں کو دے رہا ہوں جن میں سے کچھ تو ہیں ہی کالی بھیڑیں اور کچھ بے چارے نادان ہیں جن کو مشورہ وقت گزرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔

اب آئیے دلائل کی طرف:
امریکہ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا جس پر پاکستان بہت سیخ پا ہوا کہ امریکہ جیسے دوست نے ایک پاکستان نواز کشمیری کو دہشت گرد کیوں قرار دیا۔ امریکہ نے کبھی بھی پاکستان کو اپنا دوست نہیں سمجھا۔ امریکہ کی ہر خوائش پر پاکستان نے سو فی صد حمایت کرکے جواب میں امریکہ سے ایک فی صد حمایت بھی حاصل نہ کی۔ سن ستالیس۔ پینسٹھ ۔ اکہتر اور کارگل کی جنگوں کے علاوہ بے شمار اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ امریکہ کے لیے تمام تر قربانیوں کا حاصل ڈو مور کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔ اب سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب امریکہ نے کئی بار دیا اور ایک بار تو ایمل کانسی کیس میں، یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پاکستانی حکمران ڈالر کی خاطر ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔ ان کی خاطر امریکہ کو زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر بھی پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی ۔

مشرف تو تابعداری کی آخری حد تک چلا گیا۔ اب نواز شریف کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ پاکستان کے اندر جمہوریت، شفافیت اور انصاف کا حصول نہیں ورنہ سامراجی قوتیں سعودی عرب جیسے انسانی حقوق مخالف ملک  کی حمایت نہ کریں۔ اور نہ ہی مصر اور الجزائر میں اسلامی حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتے۔ بلکہ امریکہ خود غرض پاکستانی لیڈروں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے جنہیں ملکی استحکام سے زیادہ اقتدار عزیز ہے۔ بھارت نے روز اول سے دوستی سابق سوویت یونین اور موجودہ روس سے رکھی لیکن مفادات یورپ اور امریکہ سے بھی اٹھائے۔ جبکہ پاکستان نے روس کو بھی دشمن ہی رکھا اور امریکہ کو بھی دوست نہ بنا سکا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی دوسری بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس نے جموں کشمیر  کے حوالے سے ہمیشہ وہ کام کیا جس نے بھارت کے ہاتھ مضبوط کیے۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ کی پانچ جنوری 1949 کی قرارداد منظور کروا کر مسلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو علاقائی جھگڑے میں تبدیل کروا لیا۔ لیکن پاکستان اور اقتدار و زر پسند خود غرض اور کشمیریوں کو حق ملکیت سے محروم کرنے والی قرارداد کو ہر سال حق خود ارادیت کی قرارد کے طور پر مناتے ہیں ۔

رہی سہی  کسر شملہ معاہدے میں نکال دی گئی جہاں پاکستان نے بھارت کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ مسئلہ کشمیر پاک۔ ہند حکومتیں دور طرفہ طور پر حل کریں گی۔  جس کی وجہ سے پاکستان جب بھی کسی فورم پر بات کرتا ہے تو ہندوستان پاکستان کو شملہ معاہدہ یاد کرواتا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت اصولی طور پرپورے جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت تھی لیکن پاکستان نے اسے ایک لوکل اتھارٹی میں تبدیل کرکے بھارت کے ہاتھ مضبوط کئے۔  گلگت بلتسستان میں پہلے جنگل کا قانون نافذ رکھا اور اب صوبائی سیٹ اپ دے کر مسئلہ کشمیر کو ہر لحاظ سے نقصان پہنچایا۔ بھارت کے خلاف موجودہ تحریک کا آغاز ہم نے کیا۔ سید صلاح الدین اور ان کے پشتی بان سید گیلانی بھارتی آئین کے تحت الیکشن لڑا کرتے تھے ۔لیکن جب ہماری تحریک نے زور پکڑا اور دنیا نے اسے کشمیریوں کی اندرونی تحریک قرار دیا اور بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا تو امریکہ کی قیادت میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کرنے والی جماعت اسلامی نے سرینگر کا رخ کیا جہاں سب سے پہلے حزب المجاہدین نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف محاز آرائی کی۔ حریت کے پلیٹ فارم پر تنخواہ دار لوگ راولپنڈی جمع کئے گئے جنہوں نے اپنے گھر بنانے اور اس یورپ میں بچے بھیجنے کے علاوہ کچھ نہ کیا، جس یورپ کو ہم نے آزادی کشمیر کی خاطر قربان کر دیا۔

اس حقیقت کے باوجود کے ریاض ملک اور راقم کی برطانیہ میں غیر عدالتی سزا کو لندن ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا اور لارڈ چیف جسٹس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قیوم راجہ اور ریاض ملک عدالت کے نہیں بلکہ وزیر داخلہ کے ذاتی قیدی ہیں جس کی وجہ بھارت کی خوشنودی تھی۔ لیکن پاکستان کے کسی بھی ادارے ، حریت کانفرنس اور لدڈن میں انسانی حقوق کے نام پر قائم بھارتی مقبوضہ کشمیر کی درجنوں انسانی حقوق کی تنظیموں میں سے کسی کو بھی ہمارے ساتھ ہونے والی سیاسی زیادتی پر آواز بلند کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ صرف ڈاکٹر سید نذیر گیلانی اور ان کے بچوں کا میرے ساتھ وقتا فوقتا رابطہ رہا اور وہ تعلق بھی سیاسی سے زیادہ ذاتی تھا۔ اس کے باوجود میں ان کشمیریوں سے اتفاق نہیں کرتا جو کہتے ہیں کہ امریکہ نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے کر اچھا کیا ہے۔ ایک کو ساتھ ملا کر دوسرے کے خلاف کاروائی کرنا سامراجی قوتوں کی پرانی روایت ہے۔ اہل عرب کا حشر سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کی تیسری بڑی غلطی جس کی وجہ سے بھارت امریکہ سے سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے میں کامیاب ہوا وہ یہ ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر جب بھی تحریک زور پکڑتی ہے وہاں کچھ نادان کشمیریوں کے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے تھما کر سید صلاح الدین سے ان کے حق میں بیانات دلوا دئیے جاتے ہیں۔ جنہیں ہندوستان پاکستان کے خلاف در اندازی کے الزامات کے حق میں استعمال کرکے دنیا کو اپنا ہمنوا بناتا ہے۔

سید صلاح الدین کو پاکستانی ایجنسیوں کا آلہ کار قرار دینے والے خود مختار کشمیر کے حامیوں کو بھی میرا مشورہ ہے کہ وہ پہلے اپنی صفوں کو درست کریں۔ لبریشن فرنٹ کو اس وقت ایک سازش کے تحت فیمینائز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی کسی عورت کی آواز آتی ہے کہ وہ مادر لبریشن فرنٹ ہے اور دوسری طرف سے کوئی اور عورت بولتی ہے کہ وہ فرنٹ کی بھابی ہے۔ اب کارکنان سوال کرتے ہیں کہ ان عورتوں کے باپ اور خاوند بھی تو ہوں گے ۔ ان کا بھی تعارف کروا دیں تو اچھا رہے گا۔ ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ لبریشن فرنٹ نے کسی گمنام ماں کی کھوکھ سے جنم لیا نہ کسی راہ چلتی کو بھابی بنایا ۔ یہ شہیدوں اور غازیوں کی جماعت ہے جس کے وارث زندہ ہیں۔ لہذا اندرون و بیرون ملک لبریشن فرنٹ کے ہزاروں کارکنوں کی رواداری کو کمزوری اور نااہلی سمجھنے والے خود نقصان اٹھائیں گے۔

مہاترے کیس میں اسیری کے بعد ہمیں بھی صلاح ایدین کی ڈگر پر چلانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے انکار کیا تو بعد میں ہم پر اپنے ہی ان دوستوں نے جو اایجنسیوں سے مل گئے تھے،  یہ الزام لگایا کہ ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے جیل میں ہیں ۔ یعنی اگر ہم صلاح الدین بن جاتے تو پاکستانی حکومت ہمیں بری کروا لیتی ۔ جب لبریشن فرنٹ کے خلاف بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین اور دیگر درجنوں تنظیمیں کھڑی کر دی گئیں تو ہمیں وقت سے فائدہ نہ اٹھانے والے دوست رونے لگے کہ پاکستان کی ایجنسیوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ جس طرح کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اسی طرح ہمارے بعض لوگ کہتے ہیں کہ امان اﷲ خان اتنے جمہوری اور سیاسی رواداری کی اعلی مثال تھے کہ ان کا موقف تھا کہ سید صلاح الدین جیسے لوگوں کا موقف اور جد وجہد ان کا جمہوری حق ہے۔ ہم امان اﷲ خان کے ابتدائی اور مشکل ترین حالات میں ساتھی رہے ہیں۔ ہمیں کوئی علم نہیں کہ انہوں نے کب صلاح الدین جیسے لوگوں کے موقف کو ان کا جمہوری حق قرار دیا۔ جمہوری حق استعمال کرنے کا وقت اور طریقہ ہوتا ہے۔ ہم کشمیریوں کو سب سے پہلے وحدت کشمیر بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔

موجودہ صورت حال میں اگر ہم الحاق کے نعرے لگائیں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک ایسے بچے کو جو ابھی چلنے کے قابل نہیں ہوا  دوڑنے پر مجبور کرکے اس کی ٹانگیں تڑوا کر ہمیشہ کے لیے معذور کر دیں۔ حقیقت میں جو لوگ اس طرح کے بیانات امان اﷲ خان سے منسوب کرتے ہیں ان کے بھی اپنے مقاصد ہیں۔ اس کالم میں میں آج ایک پیش گوئی کر رہا ہوں اور لبریشن فرنٹ اور دیگر محب وطن اس بات کو نوٹ کر لیں کہ اس وقت وحدت کشمیر کی بحالی کی تحریک کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اس کے لئے لبریشن فرنٹ کے اندر ایسے لوگ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یونانیوں کی طرح عمل کے بجائے فلسفوں میں الجھ جائیں۔ یہ بحث بھی چھیڑنے کی کوشش کی جا رہی کہ آیا مقبول بٹ بڑا لیڈر تھا یا امان اﷲ خان۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امان اﷲ خان نے تحریر و تقریر کے محاز پر بہت کام کیا لیکن یہ مقبول بٹ کا عمل تھا جس نے تاریخ کا رخ موڑا۔ اسی طرح کے کچھ لوگ مہاترے کیس کو بھی صرف ایک عام واقعہ تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن تحریکوں میں واقعات ہی ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑتے ہیں۔ واقعہ کربلا اور صلح حدیبیہ جیسے واقعات کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔

ہم اگر خود کو بچانے کے لیے برطانیہ سے مل جاتے تو تاریخ بہت مختلف ہوتی ۔ یورپ کی عدالت نے برطانوی حکومت کو مجرم قرار دے کر ہمیں 22 سال بعد بری کیا۔ لیکن اگر ہم ان کی پرکشش پیکشیں قبول کر لیتے تو بنک بلینس تو بہت ہوتا لیکن قوم کی نظر میں آج ایسے مجرم ہوتے کہ مجھے یہ کالم لکھنے کی بھی جرات نہ ہوتی۔ اسی اصول کے تحت ہمیں خود سید صلاح الدین جیسے لوگوں کو اپنا اندرونی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی بیرونی قوت کے وار پر شادیانے نہیں بجانے چائیے۔ آزادی پسند اس بات پر غور کریں کہ ہماری تحریک سے کشمیریت کو دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ تحریک پر نئے چہرے مسلط کئے جائیں ۔ کشمیریت اسلام کے خلاف کوئی تحریک نہیں بلکہ مختلف پس منظر کے مالک کشمیریوں کے درمیان صدیوں سے قائم ہم آہنگی، رواداری اور امن کا نام ہے جس کے بغیر کشمیر تقسیم تو ہو سکتا ہے متحد اور آزاد نہیں ہو سکتا ۔