علی ونٹ ٹو لندن ۔۔۔۔

دسویں جماعت  میں انگریزی کا ایک سبق تھا۔ جسے میری بہن رٹ رٹ کر یاد کر رہی تھی۔ اور اس کا جملہ بار بار دہرا کر، جانے کس قسم کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ جسٹ دین علی کیم ان ۔۔۔۔just than Ali   came in ۔ ہمارے گھر میں دو گروپ تھے۔ ایک رٹا لگانے والا گروپ۔ جس کا امتحان کی تیاری کا فارمولا تھا کہ رٹا فیکیشن اس دی بسٹ پر یریپرشن آف دی اگزا مینیشن۔ جبکہ دوسرا گروپ اس کے بالکل برعکس سمجھ کر پڑھنے اور پوانٹ نوٹ کرنے کو امتحان کی تیاری کے لیے کافی جانتا تھا۔

رٹنے کےبہت سارے  فوائد تھے۔ سب تو گنوائے نہیں جاسکتے مگر ایک واقعہ سنا کر رٹنے کا ایک بہت اہم فائدہ آپ کو بتا تا ہوں۔  ہوا یہ کہ میرے ماموں زاد بھائی آئے ہوئے تھے۔ اور وہ گھر سے باہر چلے گئے۔ کہیں قریبی دوکان سے کچھ خریدنے۔ ممکن ہے وہ اشیائے ممنوع خریدنے گئے ہوں جبھی اجنبی ہو نے کے باوجود تن تنہا نکل گئے۔ واپسی پر گھر بھول گئے۔ گلی تو مل گئی پر دروازہ کو نسا تھا۔ سب ایک ہی جیسے گھر تھے۔ ایک آدھ گھر کے دروازے تک گئے مگر اجنبیت آڑے آئی اور دستک دینے سے گریزاں رہے۔  اچانک آپا کے سبق رٹنے کی آواز آئی۔۔۔ باقی آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

تو جناب لندن جانے کا شوق تو تب ہی سے تھا۔ اور پہلی مرتبہ کا شوق تو عرصہ ہوا پورا ہوچکا ہے۔ مگر لندن سے میری ایک خاموش سی جنگ ہمیشہ سے ہی رہی ہے۔ جب بھی لندن آتا ہوں بد نظمی اور شور شرابے پر شاکی رہتا ہوں۔  جرمنی کی طرح صاف ستھری کھلی سڑکیں اور نظم و ضبط کا فقدان لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں نظر آتا ہے۔  مگر اس دفعہ لندن ایک بار پھر سے پہلی  بار تھا۔۔۔۔ نغمہ کے لیے مگر میرے لیے بھی ۔۔۔۔ بریکسٹ کے بعد ۔۔۔۔ ابھی تک تو انتظامی معاملات ویسے ہی ہیں۔ مگر اس فیصلہ کی وجہ سے  عام دوکانوں وغیرہ  میں یورو کے قبول نہ کر نے کا رجحان بدر جہ اتم نظر آیا۔ 

جرمنی اور یورپین یونین کے ملکوں میں لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ برطانیہ کے باشندے بریکسٹ کے کیوں حامی ہیں۔ مگر برطانیہ میں تو بہت سارے بڑے بوڑھے اور سیانوں نے صرف یہ سوچ کر اپنا ووٹ استعمال کیا کہ وہ اپنی ملکہ کی حکومت کے خاتمے کے سوال کے خلاف رائے دے رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ بریک اٹ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ سے ملکہ اور پونڈ دونوں کے خاتمے کی سازشیں ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یا کی جاری ہے

گزشہ سے پیوستہ
لندن کے اسٹینڈ اسٹیڈ ائرپورٹ پر میں قطار میں کھڑا اپنی اور نغمہ کی باری کا منتظر تھا۔ نغمہ کے پاکستانی پاسپورٹ پر میں نے احتیاطی اقدام کے طور پر ایک وزٹ ویزا لگوالیا تھا۔  ظاہر ہے قطار میں نے غیر یورپی دیگر ممالک والی ہی چنی تھی۔ قطار میں  کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ بریکسٹ یعنی برطانیہ کے ای یو سے نکلنے کے مذاکرات مکمل ہوں گے تب ہی پتہ چلے گا کہ ان دوسالہ عبوری علیحدگی کے دور کے بعد طلاق کن شرائط پر ہوگی۔ اور کیا عوام کو ایک بار پھر نوآبادیاتی دور میں دھکیل دیا جائے گا۔ ویزے کی پابندی جرمن اور دیگر یورپین شہریوں کے لیے بھی ہوگی۔ مگر مذاکرات کا آغاز تو اچھا نہیں ہے اور انجام خدا ہی جانے۔

بریکسیٹ کی تھوڑی بہت وجہ اگر کسی ملک کے شہریوں اور سیاسی پنڈتوں کے سمجھ میں آئی ہے تو وہ ہے فرانس۔ جہاں کے حالیہ انتخابات کے بعد نئے صدر نے بریکسٹ کے جن کو آئندہ چار سالوں کے لیے بوتل میں بند تو کر دیا ہے مگر اس  بند بوتل کو وہ تالاب میں پھینکنے سے ڈررہے ہیں کہ کہیں ان کی مدت حکومت کے مکمل ہونے سے قبل ہی یا مکمل ہونے کے بعد آئیندہ حکومت کے سربراہ  اس جن کو آزاد نہ کر دیں۔ فرانس کے صدر کو بہت کم ووٹ سے کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ مخالف دائیں بازو کے سیاسی حریف انہیں آسانی سے حکومت کر نے نہیں دیں گے۔

یورپین پارلیمینٹ کی قانون سازی نے کوئی اور بڑا تیر مارا ہو یا نہ مگر ان کے بنائے گئے قوانین نہایت جدید اصول پر استوار ہوتے ہیں۔ انسانی تعلقات کے جدید ترین پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر ہی اور عوام کی فلاح و بہبود، بلا تفریق رنگ و نسل کو بنیاد بناکر ہی قوانین وضع ہو رہے ہیں اور یورپ میں ایک خاص نئے مخلوط معاشرے کے جنم کی گھڑی ہے۔ ساتھ ساتھ ملازم ومالک کے مابین تعلقات کو از سر نو استوار کرنا بھی ان کا کارنامہ ہے۔  مگر سرحدی چیک پوسٹوں کو نرم کرنا یا ختم کرنا یورپ میں جتنا آسان سمجھا جاتا رہا ہے، وہ ویسا ہے نہیں۔ پھر ذہنی سرحدی رکاوٹ کا گرانا تو بہت ہی مشکل کام ہے بلکہ نا ممکن۔  دنیا کے بدلتے سیاسی موسم اور ڈولنڈ نامی اٹھتے گردباد نے سیاستدانوں اور عوام میں خاصی کلفتیں پھیلا دی ہیں۔ اور سب تو چھوڑئے  سارا کھیل بگاڑنے میں ہاتھ  اسی کا ہے۔ جو دنیا کا حلیہ بدلنے بیٹھا ہے۔