پانامہ کا مقدمہ اور سازشی تھیوریاں

پاکستان کے طاقت ور حلقوں ، عام طبقات اور اہل دانش  میں یہ سوچ موجود رہی ہے کہ پانامہ  مقدمہ کوئی بڑا بحران پیدا نہیں کرسکے گا۔  وزیر دفاع خواجہ آصف کا پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کو کہنا تھا کہ پانامہ کا کھیل چند ہفتوں میں قصہ پارینہ بن جائے گا اور ہمیں اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ سوچ اس لحاظ سے بھی درست تھی کہ ہماری سیاسی تاریخ میں بڑے مقدمات کے معاملات میں ’’ نظریہ ضرورت‘‘ کا قانون استعمال ہوتا رہا ہے اور طاقت ور طبقات کسی نہ کسی سمجھوتے کے ساتھ قانو ن کی گرفت سے خود کو بچاتے رہے ہیں ۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی جماعت اور رائے عامہ بنانے  افراد اندازہ کرنے میں غلطی کرگئے ہیں۔  پانامہ کا یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی اور قانونی تاریخ کا سب سے اہم اور بڑا مقدمہ بن کر سب کی توجہ حاصل کررہا ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ اس مقدمہ کا  فیصلہ کس کے حق اور کس کی مخالفت میں سامنے آتا ہے ۔ لیکن جس انداز سے یہ مقدمہ قانون، میڈیا اور سیاست کے میدان میں لڑا جارہا ہے اس نے نواز شریف، ان کے خاندان اور سیاست کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔  اس مقدمہ میں نواز شریف اور ان کے خاندان کی حیثیت اپنی صفائی پیش کرنا ہے۔ اس میں ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس مقدمہ میں نواز شریف سے لے کر ان کے بھائی شہباز شریف اور خاندان کے دیگر افراد بشمول بیٹوں اوربیٹی کو بھی تفتیش کے مراحل سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ یہ عمل یقینی طور پر وزیر اعظم اوران کے خاندان کے افراد کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ، لیکن ان سب معاملات میں ان کی بے بسی بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔

اس مقدمہ سے قبل نواز شریف کی سیاسی حیثیت کافی مضبوط تھی  لیکن سیاسی محاذ پر پانامہ مقدمہ نے ان کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے ۔ یہ مقدمہ ایسے موقع پر مقبول ہوا ہے جب نواز شریف اور ان کی جماعت 2018 کا انتخابی معرکہ کو فتح کرنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہے تھے۔ لیکن لگتا ہے کہ پانامہ کے مقدمہ نے ان کی سیاسی حکمت عملی کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ یہ کریڈیٹ واقعی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو جاتا ہے کہ جس استقامت اور بہادری سے انہوں نے پانامہ کا مقدمہ لڑا، اس کا پیچھا کیا اور بالخصوص جس اندازسے اس مقدمہ کو زندہ رکھا یہ ان ہی کا کارنامہ ہے ۔ اس کے بعد  جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق  بھی بڑی استقامت کے ساتھ عوامی اور قانونی عدالت میں اس مقدمہ کا پیچھا کرتے رہے ۔ پاکستانی میڈیا کے ایک بڑے حصے سمیت سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے جس انداز سے اس مقدمہ کو  بحث کا حصہ بنایا،  اس نے بھی مقدمہ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اس  کے اصل فریقین کے بے شمار تضادات کو بھی نمایاں کیا ۔

اب حکومتی سطح پر  اس مقدمہ کو ایک خاص سیاسی منصوبہ بندی کے تحت سیاسی ، انتقامی اور سازشی رنگ بھی دیا جارہا ہے ۔ یہ سب کچھ لاشعوری طور پر نہیں ہورہا بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کیونکہ  پر وزیر اعظم اوران کا خاندان اس سارے مقدمہ کو سیاسی رنگ دے کر سیاسی شہید بھی بننے کا خواہاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب جس انداز سے حکومتی حلقوں سمیت شریف خاندان نے اپنی اور اپنے ہم خیال میڈیا کے دوستوں کی مدد سے جے آئی ٹی کو سیاسی ٹارگٹ کیا ، وہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کے پیچھے اصل سیاسی حکمت عملی ہی ہے۔ پہلے یہ تاثر دیا گیا کہ یہ کام کرنے والے افراد کا تعلق انفرادی طور پر یہ کام کررہے ہیں۔  جبکہ جماعتی موقف ایسا نہیں ۔ مگر نہال ہاشمی کے بعد بھی جے آئی ٹی پر سیاسی چڑھائی حکومت اور نواز شریف کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔

حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ داخلی اور خارجی سازشی تھیوری ہے ۔ اول یہ تاثر مضبوط انداز میں دیا جارہا ہے کہ اصل میں پانامہ مقدمہ کرپشن، بدعنوانی یا بے ضابطگیو ں کا نہیں بلکہ ماضی کی سیاسی تاریخ کی طرح اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل کا حصہ ہے ۔ دوئم جے آئی ٹی پر جو تنقید کی جارہی ہے اس کا اصل ٹارگٹ عدلیہ اور ججز ہیں ، کیونکہ ان کے بقول اس بار اسٹیبلیشمنٹ خود براہ راست فریق بننے کی بجائے ’’ عدلیہ کو بطور ہتھیار‘‘ استعمال کررہی ہے ۔ سوئم یہ سارا کھیل حکومت کے مخالفین بالخصوص عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان کٹھ پتلی کا کھیل ہے جس کا مقصد سیاسی اورجمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ کر اپنی مرضی کا سیاسی دربار یا نظام سجانا ہے ۔ چہارم اب یہ منطق بھی دی جارہی ہے کہ اس کھیل میں عالمی اسٹیبلیشمنٹ بھی ہماری اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ شریک کار ہے اوراس میں سی پیک، نظریہ پاکستان اور قومی سلامتی اور سیکورٹی کے خلاف سازش کو بھی موضوع بحث بنایا جارہا ہے ۔ پنجم اس وقت احتساب نہیں بلکہ ایک خاندان کو ٹارگٹ کرکے دیوار سے لگانا مقصود ہے ۔

اس سازشی نظریہ سے وزیر اعظم نواز شریف سیاسی طور پر پانامہ کے مقدمہ سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب پانامہ کے معاملے میں ساری توجہ  سیاسی سکورنگ پر مرکوز ہے۔ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ یہ  عمل ان کو سیاسی طور پر زندہ رکھ سکتا ہے ۔ اگر فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو کہا جائے گا ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ سب کچھ ہمارے خلاف سازش ہے ۔ اگر اس کے برعکس نواز شریف پانامہ سے خود کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر کہا جائے گا کہ ہم اس کڑے احتساب کے باوجود سرخرو ہوئے ہیں اور اس کو سیاسی طور پر مخالفین پر برتری کے طور پر استعمال کیا جائے گا ۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے ۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں جو بحثیں چل رہی ہیں وہ بھی پارٹی اور وزیر اعظم کے بہت زیادہ حق میں نہیں ہیں ۔ پارٹی کے لوگوں کو بھی اندازہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ نئے انتخابات کے لیے کیسے موثر حکمت عملی ترتیب دے سکیں گے ۔ اس کے برعکس وزیر اعظم کی کوشش ہے کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو وہ اس فیصلہ کو بنیاد بنا کر اپنی حمایت میں فیصلہ کے خلاف ایک بڑی مہم چلائیں ، اس کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے ۔

بنیادی طور پر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعظم کے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی بلکہ وہ خود اپنی سیاسی ، انتظامی اور مالی  بدعملیوں کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے ہیں ۔ وزیر اعظم کے فیصلہ ساز مشیروں نے ان کو واقعی خوش فہمی میں مبتلا رکھا اور جو سیاسی حقائق تھے ان سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا کہ چیزیں کیسے تبدیل ہورہی ہیں ۔ جے آئی ٹی کو جس انداز سے حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس سے خود عدلیہ اور جے آئی ٹی کوبھی اپنا مخالف بنا لیا گیا ہے ۔ لوگوں میں بھی یہ تاثر عام ہوا ہے کہ کیونکہ حکومت مشکل میں ہے اس لیے مسئلہ کو سیاسی رنگ بھی دیا جارہا ہے ۔ یہ بات بھی لوگوں میں موجود ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے لوگوں نے جو دستاویزات اور شواہد جے آئی ٹی یا عدالت کو اپنی صفائی میں دینے تھے ، پیش نہیں کرسکے ۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی سیاست میں سی پیک ایک بڑی گیم چینجر ثابت ہوگا ۔ لیکن اس وقت پانامہ کا مقدمہ از خود بڑا گیم چینجر بن گیا ہے ۔ کیونکہ فیصلہ جو بھی آئے گا اس کا براہ راست اثر ملک کی داخلی سیاست پر پڑے گا ۔ یہ بھی امکان موجود ہے کہ اگر فیصلہ نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو یہ بات یہاں تک نہیں رکے گی ، بلکہ اس میں اور بھی بہت سے لوگ جو مختلف جماعتوں میں ہیں عتاب کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔ یہ عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ صر ف ایک خاندان نشانے پر ہے۔ اگلے چند ہفتے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ اس میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ پانامہ کا مقدمہ کیا کروٹ لیتا ہے۔ برحال ایک بات طے ہے کہ اس فیصلہ کے نتیجہ میں ایک بڑی محاذ آرائی ، سیاسی تقسیم اور توڑ پھوڑ ہوگی جو داخلی سیاست میں کچھ نمایاں تبدیلیاں بھی پیدا کرے گی ۔