پارا چنار: انسانیت مرچکی ہے
- تحریر سید انور محمود
- سوموار 03 / جولائی / 2017
- 4186
23 جون کو قبائلی علاقے پاراچنارکے طوری بازار میں تین منٹ کے وقفے سےیکے بعد دیگرے دودھماکے ہوئے۔ اس دن 27 رمضان المبارک اور جمعۃ الوداع تھے۔ تین دن بعد عید کی خوشیاں منانے کی بھی تیاریاں ہورہی تھں۔ طوری بازار میں لوگ عید اور افطار کی خریداری میں مصروف تھے کہ پہلا دھماکہ ہوا، جس کے بعد متاثرین کی مدد کی جارہی تھی کہ دوسرا دھماکہ ہوگیا۔ ان دو بم دھماکوں میں 75سے زیادہ افراد کےجاں بحق اور150 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ان بم دھماکوں کے کچھ ہی دیر بعد ان کی زمہ داری تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کرلی تھی۔ یہ دہشتگردی نواز شریف کے چار سالہ دور میں پارا چنار میں 11ویں مرتبہ ہوئی ہے۔ بم دھماکوں کے بعد سے ہی متاثرین اورشہریوں نے دھرنا شروع کردیا تھا جس میں خواتین بھی شریک تھیں۔ بدنصیبی سے دھماکے کی جگہ پر متاثرین کے احتجاجی مظاہرے پر ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ کی وجہ سے بھی چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ عید والے دن شہدا کے لواحقین اور شہریوں نے دھرنا جاری رکھا اور شہید پارک میں عید کی نماز ادا کی ۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ ’’بار بار پاراچنار کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس علاقے میں فوج و ایف سی عرصہ دراز سے آپریشن کررہی ہے مگر ان کی موجودگی میں بھی دہشتگردانہ کاروائیاں ہوتی ہیں جسے روکنے میں ایف سی مکمل طور پر ناکام ہے‘‘۔
دھرنے کے شرکا کا مطالبہ تھا کہ جب تک وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ شخصیات یہاں نہیں آئیں گے دھرنا جاری رہےگا۔ ساتھ ہی ان کے مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ’ایف سی کمانڈنٹ کو برطرف کیا جائے‘۔ جس وقت دہشتگردی کا یہ واقعہ ہوا اس وقت وزیراعظم سعودی عرب میں تھے۔ وزیر اعظم نے ایک رسمی مذمتی بیان دیا اور اپنی اگلی منزل کا سفر جاری رکھا اور لندن پہنچ گئے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ملک سے باہر تھے لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار اسلام آباد میں موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے اس سانحے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ ان کا اس واقعہ پر ایسا رویہ رہا جیسے پارا چنار ان کی حکومت کا حصہ نہ ہو۔ 23 جون کو ہی دو اور دہشتگردی کے واقعات ہوئے تھے ایک کوئٹہ میں اور ایک کراچی میں۔ صبح کو کوئٹہ میں ایک بڑی دہشتگردی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں7 پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور21زخمی ہوگئے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس دہشتگردی کا فوراً نوٹس لیا اور اپنے ماتحت حکام سے کوئٹہ سانحہ کی رپورٹ طلب کی تھی۔ پارا چنار کے واقعہ کے فوراً بعد افطار کے وقت کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح دہشتگردوں نے افطار کرنے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک اے ایس آئی سمیت 4 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ وزیر داخلہ نے اس واقعہ کا بھی نوٹس لیا اور ماتحت عملہ سے سانحہ کی رپورٹ طلب کی تھی۔
آئی ایس پی آر نے27 جون کو اعلان کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پارا چنار جائیں گے لیکن موسم کی خرابی کے باعث وہ دہشتگردی کے واقعہ کے ایک ہفتہ بعد جمعہ 30 جون کو پارا چنار پہنچ پائے۔ ان سات دن میں اور بھی بہت سارے واقعات ہوئے، جن میں احمد پورشرقیہ کا سانحہ ایک بڑا واقعہ ہے جس میں تقریباً 200 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ اس سانحہ کے بعد ہی وزیر اعظم اپنا لندن کا دورہ مختصر کرکے بہاولپور پہنچے تھے لیکن پارا چنار جانا شاید انہیں پسند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک پارا چنار نہیں پہنچ پائے ہیں۔ البتہ انہوں نے جمعرات 29 جون کو دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دس، دس لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ دھرنے کے شرکا نے ان کی اس مہربانی کو مسترد کردیا تھا۔ دھرنے کے منتظم ثاقب بنگش کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف کو تو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ پارا چنار پاکستان میں ہے یا یہ کسی دوسرے ملک میں‘۔ انہی آٹھ دنوں میں امریکی حکومت نے بھارتی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل کشمیری حریت پسند رہنما سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دے دیا۔ اس موقعہ پرپارا چنار کے مسئلہ پر مسلسل خاموش رہنے والے وزیر داخلہ نے ایک وزیر خارجہ کا روپ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’امریکہ بھارت کی زبان بول رہا ہے، ہم کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔ بغیر کسی وقفے کے آٹھ دن سے جاری دھرنا اس وقت ختم ہوگیا جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار پہنچنے کے بعد متاثرین کے تقریباً تمام مطالبات تسلیم کرلیے۔ جبکہ ایف سی کمانڈنٹ کو بھی تبدیل کردیا گیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے واضح شواہد ہیں لیکن مقامی سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں گے۔
آٹھ دن جاری رہنے والا دھرنا جو اب ختم ہوچکا ہے اور جس کو ختم کرانے میں سول حکومت کا کوئی کردار نہیں جاتے جاتے ایک پیغام دے گیا ہے کہ پاکستان کی بقا کو بیرونی اور اندرونی خطرات کا بہت زیادہ سامنا ہے۔ دہشتگردی سے اب تک 70 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی جان لی جا چکی ہے اور 23 جون کو ملک کے تین شہروں میں ہونے والے دہشتگردی سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دہشتگردوں کی کمر اب تک سلامت ہے۔ لیکن پاکستان کے عوام نے بھی اب تک بڑی بہادری سے دہشتگردی کو جھیلا ہے۔ شاید اب پاکستان کے دشمنوں نے جو اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی، خدا نہ کرے پاکستان کو شام اور عراق بنانے کا سوچا ہےجس کے لیے پہلی مرتبہ پارا چنار کے دھرنے کو استعمال کیا گیا ہے۔ پارا چنار کے پہلے دو دن کے دھرنے میں میڈیا اور سوشل میڈیا دہشتگردی پر بات کرتے رہے۔ پھر اچانک میڈیا اور خاص کر سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ جنگ شروع ہوگئی۔ اب دہشتگردی کورونے کے بجائے سعودی عرب اور ایران کے حامی ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بہت سےشعیہ سنی نام نہاد دانشور ایک دوسرے کے مسلک کو برا ثابت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پاکستانی فوج کو کہنا پڑا کہ ’دشمن کی خفیہ ایجینسیاں اور ملک دشمن عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور نسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ افسوس ایسا اب تک ہورہا ہے، اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کو بغیرنسلی یا مذہبی امتیاز برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے وزیر داخلہ نے پارا چنار نہ جاکر وہاں کے عوام کوشاید یہ پیغام دیا ہے کہ ’ہم میں سےانسانیت مرچکی ہے‘، لیکن میری پاکستان کے عوام سے ہاتھ جوڑ کر عرض ہے کہ اس ملک کے اصل مالک آپ ہیں۔ لہذا خدارا متعصب مذہبی اورفرقہ وارانہ تحریروں کا اثر نہ لیں اور آپس میں اتحاد قائم رکھیں۔ میری دانشوروں سے بھی درخواست ہے کہ اپنی تحریروں سے پاکستان مخالف عناصرکی مذمت کریں اور عوام کے لیے وہ تحریریں لکھیں جس سے عوام میں یکجھتی پیدا ہو۔