ان اعدادوشمار کو جھٹلایا نہیں جا سکتا!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 04 / جولائی / 2017
- 4603
عہد حاضرمیں سائنسی ترقی کی بدولت الیکٹرونک میڈیا اتنی ترقی کر چکا ہے کہ قدامت پرست یا مولوی حضرات یا بنیاد پرست یا اسی قبیل کی کوئی دوسری شخصیت اس پر جتنی بھی پابندی اور پہرے بٹھا دیں یا بندشیں لگا دیں بالآخر وہ ناکام و نامراد اور ناکارہ ثابت ہوں گے۔ ان کی تمام تگ و دو ایک دیوانے کا خواب ثابت ہو گی حتیٰ کہ اس ضمن میں مسلمانوں کی غیر جمہوری اور جابر حکومتیں بھی بے بس اور لاچار ہو کر رہ گئی ہیں۔
اگر علما کرام سمجھتے ہیں کہ یہ ٹی وی، ریڈیو، ویڈیو، انٹرنیٹ، ڈی وی ڈی، سی ڈی، آڈیو وی سی، کیبل، سوفٹ ویئر، سینما، موبائل فون، ریڈیو فون، پرنٹ میڈیا غرض کہ یہ تمام الیکٹرونک میڈیا گمراہی کا موجب ہے تو جان لیا جائے کہ ”ہدایت“ بھی اسی راستے سے پھیلے گی جس راستے سے ”گمراہی“ پھیلی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے گمراہی پھیل رہی ہے تو کیا ہم ٹی وی ختم کر دیں۔ علما کرام اپنے ٹی وی چینل کا آغاز کریں دین و مذہب کی تبلیغ کیلئے اور اسلام کے بارے میں پروگرام پیش کریں۔ کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے دوری ممکن نہیں ہے۔ مذہب کے پرچار کیلئے آپ انٹرنیٹ کا سہارا لے سکتے ہیں۔ یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ”گمراہی“ کا جواب ”ہدایت“ سے دیں۔ آخر آپ دوسرے فریق (گمراہ) سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اخراجات اور اپنی محنت و مشقت پر آپ کے موقف ”ہدایت“ کو پروجیکٹ کرے۔
انٹرنیٹ پر جو بچے خاصہ وقت صرف کرتے ہیں ان پر منفی اور مثبت ہر دو طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں جہاں بعض بچے انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اپنے تعلیمی مظاہرہ میں بہتری پیدا کر لیتے ہیں، وہیں دیگر انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو کہ ان کے حق میں ضرر رساں ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے نہ صرف اخلاق و کردار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کا احترام بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے مذاہب اور مذہبی شخصیتوں پر لعن طعن اور برا بھلا کہتے ہوئے نوجوانوں میں اپنے مذہب کو بہتر ثابت کرنے کی احمقانہ کوششیں باالفاظ دیگر غلط فہمیوں کو بڑھانے، انتہاپسندی کو فروغ دینے اور نفرت کو پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی دہشت گرد اور انتہاپسند تنظیمیں بے دریغ اس میڈیم کو استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان کی لشکر طیبہ، بھارت کی سیمی، مشرق وسطیٰ کی حزب اللہ اور حماس، پیرو کی ماﺅ نواز تنظیم، یورپ اور ایشیا کے داعش، القاعدہ اور طالبان کے انتہاپسند عناصر یہ سب انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے اپنا پرچار کرنے میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ انٹرنیٹ سب کیلئے ایک اہم ذریعہ تشہیر بن گیا ہے۔
انٹرنیٹ ٹریفک پر نظر رکھنے والی ایجنسیوں نے گزشتہ دنوں جب انٹرنیٹ پر ٹریفک کے بہاﺅ سے متعلق اعدادوشمار جاری کئے تو بحیثیت مجموعی مسلمانوں کیلئے انتہائی شرمناک و المناک صورت حال سامنے آئی۔ کیونکہ انٹرنیٹ پر سیکس ویب سائٹس، پورنو ویب اور بالغ ویب کا مشاہدہ کرنے والے سرفہرست ملکوں میں سے 7 کا تعلق مسلمان ممالک سے تھا۔ اب اپنی اس شرمناک کوتاہی، عادت یا ثقافت کو ہم یہود و نصاریٰ کی سازش کہیں یا کچھ اور لیکن ان اعدادوشمار کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک تبصرہ نگار (جو میں بھی ہو سکتا ہوں) نے مسلمان ملکوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”اگر چار بیویوں کے باوجود ان لوگوں پر سیکس سوار رہتی ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔“
ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ ایسی اختراعات جدید ہیں جن کے ذریعے مسلمان ممالک اخلاقی، اصلاحی، سماجی نشریات پھیلا کر بے ادب نسل کو باادب بنا سکتے تھے۔ غیر مہذب لوگوں کو تہذیب و ثقافت کا درس دیا جا سکتا تھا اور دلدل میں پھنسی امہ یا امت کے درد کا مداوا تلاش کیا جا سکتا تھا۔ لیکن یہ غیرت کا فقدان ہی ہے کہ مسلم معاشرہ میں اس سلسلہ میں کوئی خاطر خواہ اقدامات کرنے کے بجائے اس سودمند اختراعی ایجاد اور جدید عصری میڈیا کو مسلم معاشرہ میں پس پشت ڈال کر اس کے خلاف محاذ بنا لیا گیا ہے اور ٹیلی ویژن و انٹرنیٹ کو مسلم معاشرہ کو ”تباہ“ کرنے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ ایجادات کہیں بھی عقیدے یا علم کی سطح پر امت کے مزاج کو ہیجان میں مبتلا نہیں کرتیں اور نہ ہی اسلام کی اصولیات سے مسلم فرد اور معاشرے کو اجنبی بنا رہی ہیں۔ اگر اخلاقی اور سماجی پروگراموں کو دیکھنے اور سننے کیلئے ہمارے نوجوانوں کے پاس وقت نہیں اور ”فحش“ پروگراموں کو دیکھنے کیلئے ان کے پاس کافی وقت ہے تو اس میں پروگراموں کا کیا قصور۔ کیا ایسی صورت میں ٹی وی، کیبل یا انٹرنیٹ کو ہی خیرباد کہہ دیا جائے۔ اب ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ کے مضر یا مفید ہونے کے بارے میں بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ اچھے یا برے کا فیصلہ اس کے استعمال پر ہے اور یہ کہ اچھے سے اچھی شے بھی غلط استعمال سے بری ثابت ہو سکتی ہے اور اکیسویں صدی میں یہ بات طے ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کی لو اور لے دبائی نہیں جا سکتی۔
آج الیکٹرونک ٹیکنالوجی، موبائل فون، کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ وغیرہ (اس وغیرہ میں مزید 13 سہولتیں شامل ہیں) نے جغرافیائی سرحدوں کو دھندلا کر دیا ہے اور بارڈر کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اب ایک ملک دوسرے ملک کے اتنے قریب آ چکا ہے کہ اس کی کوئی ”برائی“ ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اب مندرجہ بالا تمام ٹیکنالوجی ہمارے ڈرائنگ رومز سے ہوتی ہوئی بیڈروموں تک آ گئی ہے۔ ایک نئے مسئلہ کا ابھرنا یا ابھارا جانا سابقہ مسئلے کو اگر ختم نہیں کرتا تو معزول ضرور کر دیتا ہے کہ کیتلی کے ڈھکن کو دبائے رکھنے سے بھاپ کا پریشر یا دباﺅ محدود نہیں رہتا۔ کیتلی کے نیچے لگی آگ کو ہٹانے سے ہی پریشر کم ہوتا ہے۔
اس کے بعد مفتیان دین متین کے لئے صفائی دینے کو کیا باقی رہ جاتا ہے۔ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے.....
ہمیں نے اس کے لئے راستے بنائے تھے
کہ گھر تک آ گیا بازار یہ تو ہونا تھا