ہنزہ والو! ویلکم ٹو پاکستان

 لڑکی چیک کر لڑکی
 واہ جی واہ
 دل کرے ویکھدا رواں
 اوہ ہیلو جی
 ایک نظر یہاں بھی
 ایک سیلفی  میڈم
 استغفراللہ ، ماشااللہ وغیرہ وغیرہ

 یہ جملے اگر کسی خاتون نے لاہور میں نہیں سنے تو اس کی دو ہی وجوہات  ہو سکتی ہیں۔ یا تو آپ ساری  عمر  گھر سے باہر  نہیں نکلیں یا پھر آپ ایک خاتون نہیں ہیں۔ جی نہیں ان کو سننے کے لئے آپ کا خوب صورت  ہونا بالکل ضروری نہیں (خوبصورتی کا جو بھی معیار ہوتا ہے )۔ نہ ہی یہ ضروری ہے کہ آپ عمر کے ایک خاص حصے میں ہوں۔ لڑکیاں جب پہلی  دفعہ یہ باتیں سننا شروع کرتی ہیں تو ان کی عمر گیارہ بارہ سال ہوتی ہے۔ کس عمر تک وہ یہ سنتی رہتی ہیں۔  جب تک  ان کے سننے کی حس خراب نہ جائے۔ جی نہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کے کپڑے ایسی نشانہ بازی کی وجہ بنیں۔ آپ برقعے  میں ہو سکتیں  ہیں،  چادر میں لپٹی ہو سکتیں ہیں ، پھر بھی آپ بچ نہیں سکتیں۔  ہاں اگر آپ نے  دوپٹہ  گلے میں لٹکایا ہے یا نہیں لیا تو بس پھر تو آپ رہنے ہی دیں. قصور تو  آپ کا ہی ہے۔

بات یہ ہے کہ میں لاہور  کی بات اس لئے کر رہی ہوں کہ وہاں زندگی کا ایک بڑا  حصہ گزارا ہے۔ پورے یقین اور اطمینان سے آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ان  باتوں کی  تصدیق  لاہور میں وقت گزارنے والی ہر خاتون کر سکتی ہے۔ اور اس بات کا بھی کافی حد تک یقین ہے کہ باقی شہروں میں بھی یہ رویہ  موجود ہے۔ کراچی میں میرا تجربہ اچھا رہا ہے۔ لیکن کون  سوچ سکتا ہے کہ اسلام آباد جیسے پڑھے  لکھے شہر میں بھی یہ سب بہت  عام ہے۔ اگر اپ کو یقین نہیں آتا تو کسی بھی خاتون سے جو کراچی کمپنی یا آب پارہ  جاتی رہتی ہوں، سے پوچھ  لیجیے۔  دوسرے شہروں کی خواتین بھی  بتا سکتی ہیں ان کے ساتھ کیا کیا ہوتا رہا ہے ۔

میری بھابی کا تعلق گلگت سے تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ باقی ملک کو تو  تو آپ رہنے دیں، یہ اسلام آباد میں لوگ اتنا گھورتے کیوں ہیں۔ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔  تو ویسے میں میںا طارق کی کہانی کے بعد  سوچ رہی تھی یہ گلگت بلتستان والے ایسے ہی  شور مچا رہے ہیں کہ یہ لاہور کے لڑکے بالے ہمارا ماحول  خراب  کر رہے ہیں۔ ہنزہ والو یہی تو  اصلی پاکستان ہے۔ میرا ہنزہ سے پہلا تعارف 2002 میں  ہوا۔ اس وقت وہاں جانے کے راستے اتنے اچھے نہیں تھے۔ پاکستانی خال خال نظر آتے تھے۔ زیادہ علاقہ غیر ملکیوں  سے بھرا ہوتا ۔ میرے لئے مری، نتھیا گلی،  اور ناران  کے بعد ہنزہ ایک بے حد خوش گوار تجربہ تھا۔ بات صرف قدرتی خوبصورتی کی نہیں تھی۔ علاقہ  بے حد صاف ستھرا تھا ۔ نہ کوڑے کے ڈھیر تھے، نہ  لوکل لوگ  آپ پر چڑھ دوڑتے تھے اور   نہ ہی سڑکوں پر بد تمیزی تھی۔ کہیں بھی "مال  روڈ" نظر آئی اور نہ  اس پر پائی  جانے والی عجیب و غریب بھیڑ۔

تقریباً ہرشخص پڑھا لکھا ملا۔ لوگ مدد پر تیار تھے اور  ان کے گھر کے دروازے وا تھے۔ عورتیں رات کو اکیلے پھر رہی تھیں۔ غیر ملکی "گوری" عورتوں  کی بھرمار کے باوجود نہ تو ان پر کوئی یلغار کرتا نظر آیا، نہ ان کو گھورتا اور رال ٹپکاتا۔ میرے لئے یہ بہت حیران کن تھا۔ 2 سال پہلے دوبارہ ہنزہ جانا ہوا تو لوکل لوگوں میں تو کوئی تبدیلی نہیں نظر آئی تھی  لیکن وہاں آنے والے ہر لحاظ  سے بدل چکے تھے۔ غیر ملکی لوگ کم  ہی نظر اتے تھے ۔ پاکستانی سیاحوں کی بھرمار تھی جو ایک خوشی کی بات تھی لیکن پاکستانی اپنے ساتھ جو "پاکستانیت" لاتے ہیں وہ دیکھ کر دل دکھی ہو  گیا۔ لڑکیوں پر آوازیں کسی جا رہیں تھیں۔  جس کا جہاں دل کیا کوڑا  اٹھا کر پھینک دیا۔ کبھی گاڑی سے اڑتے کوڑے کے لفافے د یکھے، کبھی خنجراب پر پڑے کھانےکے بچے کھچے ٹکرے،  پیپسی اور پانی  کی بوتلیں، ہڈیاں، سوکھے چاول اور روٹیاں ۔۔۔

یہ بات ان پڑھ جاہل لوگوں کی نہیں ہے۔ پچھلے  سال  آرنگ  کیل (کشمیر ) جانے کا اتفاق ہوا۔ سفر ایک ٹور کمپنی کے ساتھ تھا۔ اتفاق  سے تمام ہم سفر خواتین تھیں۔  پڑھی لکھی نوکری کرتی خواتین ۔ مجھے ازحد خوشی ہوئی  کہ پاکستان میں اب عورتوں کا گھر سے نکلنا آسان ہو گیا ہے۔ لیکن سفر کے آغاز میں ہی اس وقت بدمزگی   ہو گئی جب میں نے ایک دو لوگوں کو گاڑی  سے کوڑا پھینکنے سے روکا۔ مجھے سر سے پیر تک ایسے دیکھا گیا جیسے میں نے ان کی شان کی میں کوئی گستاخی کر دی ہو۔ ساتھ ہی مجھے اس بات پر لیکچر پلایا گیا کے ایک دو بوتلیں پھینکنے  سے پورا ملک گندا نہیں  ہو جاتا۔ دوسرے  یہ کہ  ہم آخر کوڑا  کہاں پھینکیں ۔ گاڑی میں بدبو آتی ہے ۔  واپسی پر ایک خاتون نے حقارت سے فرمایا ویسے کشمیر کے لوگ ہیں بڑے  گندے۔ غالباً  ان کے کپڑوں اور ہوٹلوں  میں صفائی کے معیار کی طرف اشارہ تھا۔ لیکن یہ کہتے ہوئے خاتون بھول گئیں  کہ جو کوڑا وہ وہاں پھیلا کر آئیں ہیں، وہ ان کے اندر کی گندگی تھی جس کی صفائی تو ممکن بھی نہیں۔

کہنے کا مقصد یہ کہ ہنزہ والو، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تیار رہو۔ اس سال بھی بہت سے پاکستانی آنے والے ہیں۔ کوڑا پھیلانے،  عورتوں کو چھیڑنے، درختوں سے پھلوں  کی لوٹ مار کرنے۔ تم کہتے ہو گے ٹوٹی سڑک   اچھی تھی کم از کم ایسی  باتوں سے تو نجات تھی۔ لیکن  آہ!  ویلکم ٹو پاکستان

 کالم کی دم: ایسے تمام  حضرات جن کے پیٹ میں مدرجہ ذیل باتوں پر مروڑ اٹھیں گے:

• پاکستان میں  عورتوں کے ساتھ تو ایسا ہوتا ہی نہیں
• یہ لبرلز کا کام ہی جھوٹ  بولنا اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے
• میں نے تو کبھی ایسا ہوتا نہیں دیکھا
• یا یہ تو ساری دنیا میں ہوتا ہے

 

. ان سے درخواست ہے کہ اپنی وضاحتیں ، گالیاں، اور محبتیں اپنے کھیسے میں رکھیں . شکریہ