پانامہ کیس اور پاکستانی میڈیا

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران اور اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے شریف خاندان کی پیشی اور تفتیش و تحقیق کے مرحلے میں ملکی میڈیا کے بارے میں ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جو الزامات کے بجائے زمینی حقائق اور ٹھوس شواہد پر مبنی ہے۔ اگرچہ اس مرحلے پر میڈیا ہاؤسز اپنی اپنی صفائیاں دے رہے ہیں لیکن خود جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ بھی میڈیا کے کردار اور رویّے پر شاکی نظر آتی ہیں۔

پاناما کیس کے دو بڑے فریق پہلے ہی مختلف مراحل میں ملکی میڈیا سے شکایات کرتے رہے ہیں اور اب کھل کر اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے معروضی حالات میں جس طرح میڈیا سیاسی جماعتوں اور اداروں کی مجبوری بن گیا ہے اس میں بظاہر یہی نظرآتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا سیاسی جماعت میڈیا کے ساتھ لمبی یا طویل لڑائی نہیں لڑ سکے گی۔ البتہ دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ضرور کرے گی۔ اور آخرکار مفاہمت، سمجھوتے اور ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔ دراصل اس ملک کی سیاسی جماعتیں میڈیا کی اصلاح چاہتی ہیں، نہ اسے حد سے تجاوز سے روکنا چاہتی ہیں۔ وہ صرف میڈیا پر ٹائم، اسپیس اور کوریج چاہتی ہیں۔ اس لیے وہ تھوڑی بہت تنقید کے بعد بھی میڈیا کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ حکومت اشتہارات کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پر دہائیوں سے عمل کررہی ہے۔ ہرحکومت اپنی غیر ضروری تشہیر پر یقین رکھتی ہے اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر خود بھی وضاحت کے لیے ٹی وی پر وقت اور اخبارات میں جگہ چاہتی ہے۔ اور یہ بھی چاہتی ہے کہ میڈیا خود بھی اس کی صفائی پیش کرے یا اس پر ہونے والی تنقید کو کنفیوژ ضرور کردے۔ کیوں کہ وہ ان میڈیا ہاؤسز کو کروڑوں نہیں اربوں روپے کے اشتہارات دیتی ہے۔ اشتہارات کے نرخوں میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے اضافہ کردیتی ہے۔ بعض اوقات یہ اضافہ میڈیا مالکان کے مطالبے پر ہوتا ہے اور بعض اوقات حکومت ازخود ایسا کردیتی ہے۔

حکومت اشتہارات کی ادائیگیوں کے معاملے میں بھی مالکان کی تنظیم اے پی این ایس سے غیر ضروری حد تک تعاون کرتی ہے اور عامل صحافیوں کے اس دیرینہ مطالبے کو کبھی عملی یا زبانی طور پر تسلیم نہیں کرتی کہ اشتہارات کی ادائیگیوں کو صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کی تنخواہوں خصوصاً ویج ایوارڈ سے مشروط کردیا جائے۔ یعنی حکومت ہر میڈیا ہاؤس کو اشتہارات کی ادائیگی کرنے سے قبل یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرے کہ اس نے اپنے صحافیوں اور کارکنوں کو ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کردی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں ہیں جو میڈیا ہاؤسز کو حکومت جتنی مراعات اور اشتہارات تو نہیں دے سکتیں مگر یہ آڑے وقت میں اپنی شکایتیں بھلا کر میڈیا کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں۔ وہ نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر میڈیا کو اخلاقی سپورٹ اور ان کے احتجاج اور مظاہروں میں افرادی قوت فراہم کرتی ہیں بلکہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں بھی ان کی مدد کرتی ہیں۔ کسی اصول کے بغیر محض مفادات کے لیے بددیانتی پر مبنی میڈیا اور سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ طویل عرصے سے جاری ہے جو روز بروز مضبوط ہورہا ہے۔ چنانچہ میڈیا بھی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو پوری طرح بے نقاب نہیں کرتا۔ پہلے شوشہ چھوڑتا ہے، تھوڑا سا پردہ اٹھاتا ہے اور پھر یا تو معاملے کو ختم کردیتا ہے یا اسے کنفیوژ کرکے رکھ دیتا ہے۔

میڈیا نے جسے مسٹر ٹین پرسنٹ بنایا ہوتا ہے، تھوڑے ہی وقت کے بعد وہ ’’مردِ حر‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کے بارے میں دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ جماعت، حکومت یا سیاستدان گھٹنے گھٹنے کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، کچھ عرصہ بعد اسے جمہوریت کا چیمپئن بنادیا جاتا ہے۔ اداروں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔ ادارے اپنی کرپشن اور بے ضابطگیاں چھپانے کے لیے میڈیا کو اپنے آپ سے دور رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنی تشہیر اور نیک نامی کے لیے اسے استعمال کرنے کے بھی عادی ہیں۔ ان اداروں کے افسران اپنی ترقیوں کے لیے اپنی امیج بلڈنگ کو انتہائی ضروری اور ناگزیر سمجھتے ہیں۔ مختلف ادارے اپنی باہمی لڑائی کے لیے بھی میڈیا کو استعمال کرتے ہیں اور افسران عہدوں کی لڑائیاں اور کبھی اپنے اداروں کی امیج بلڈنگ اور کبھی ان کی بدنامی (اپنے ذاتی مفادات کے لیے) میڈیا کے ذریعے ہی کراتے ہیں۔ چنانچہ میڈیا اور اداروں کے درمیان، اور بیشتر معاملات میں میڈیا اور اداروں کے اعلیٰ ترین ذمہ داروں کے درمیان بھی ایک خاموش مفاہمت موجود ہوتی ہے، جو کبھی دوستی اور کبھی دشمنی کا رنگ بھی اختیار کرجاتی ہے۔ لیکن یہ دشمنی یا لڑائی کبھی حتمی انجام تک نہیں پہنچتی، کہ دونوں کا مفاد اسی میں ہوتا ہے۔

اسی سیاق و سباق کے ساتھ اس وقت میڈیا کے ساتھ حکومت، اپوزیشن اور بعض اداروں کی لڑائی (جو زیادہ طویل یا نتیجہ خیز نہیں ہوگی) جے آئی ٹی کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ حالانکہ زمینی صورت حال وہی کی وہی ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز حکومتی اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے اخبارات میں پورے پورے صفحات کے اشتہارات روزانہ نظر آرہے ہیں۔ اے پی این ایس کو اشتہارات کی ادائیگی پر حکومت سے کوئی شکایت نہیں۔ بلکہ اسے متنازع اشتہارات کی ادائیگیاں بھی کردی گئی ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2013 کے انتخابات کے فوری بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے لاہور میں اے پی این ایس کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اخبارات اور چینلوں نے حکومت سے مل کر ایسے اشتہارات کی ادائیگیوں کے بھی دعوے کیے ہیں جو کبھی شائع یا نشر نہیں ہوئے۔ لیکن انہوں نے اسی تقریب میں کہا کہ وہ یہ ادائیگیاں کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ حالاں کہ انہیں تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ شاید یہ ادائیگیاں کردی گئی ہیں، اسی لیے مالکانِ اخبارات اور ان کی تنظیم خاموش ہے۔

اس وقت جے آئی ٹی، عدلیہ، حکومت اور اپوزیشن سب کو میڈیا سے شکایات ہیں۔ لیکن سب محتاط ہیں اور میڈیا بھی یہی کام کررہا ہے۔ وہ احتیاط کے ساتھ اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید نے پاناما کیس کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے میں اپنا جو نوٹ لکھا ہے اُس میں میڈیا کے رول اور کردار پر کسی اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے دو ارکان نے مختلف مواقع پر یہ کہا ہے کہ پاناما تحقیقات کے بارے میں ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، حکومت اور وزرا عدالت کو جواب دینے کے بجائے پریس کانفرنسیں کررہے ہیں اور اپنی حمایت میں اخبارات میں مضامین شائع کرائے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے اس کی ذمہ داری حکومت اور وزرا کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے جو اس کام میں شریک ہے۔ معزز جج صاحبان نے وقت آنے پر کارروائی کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے ٹیلی فون یا واٹس ایپ کو جس طرح میڈیا میں ایشو بنایا گیا، عدلیہ کو اس پر بھی اعتراض ہے۔ اور انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ کوئی کچھ بھی لکھے یا کہے، ہم انصاف اور قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے۔

دوسری جانب جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں جو شکایات جمع کرائی ہیں، ان میں بعض شکایات میڈیا سے متعلق ہیں۔ جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران حسین نواز کی تصویر کا لیک ہونا میڈیا کے حوالے سے سب سے بڑا ایشو بنا ہے۔ اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تصویر کس نے اور کس مقصد کے تحت لیک کی۔ اس تصویر کے پہلے سوشل میڈیا اور پھر روایتی میڈیا پر آنے کے بعد یہ تاثر پھیلایا گیا کہ جے آئی ٹی اپنی کارروائی خفیہ رکھنے میں ناکام رہی۔ یہ کام میڈیا ہی نے کیا۔ حکومت نے یہ تاثر عام کیا کہ ایک بچہ جس پر ابھی جرم بھی ثابت نہیں ہوا کس قدر خوفزدہ انداز میں جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ گویا حکومت یا شریف خاندان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ جبکہ اپوزیشن نے اس پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے خود کو مظلوم اور جے آئی ٹی کو متنازع ثابت کرنے کے لیے یہ تصویر لیک کرائی ہے۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، نہال ہاشمی، عابد شیر علی، دانیال عزیز، طلال چودھری اور دیگر حکومتی ترجمانوں کے بیانات اور الزامات کو میڈیا نے نمایاں انداز میں شائع اور نشر کیا۔ اس سے بھی جے آئی ٹی اور تحقیقاتی اداروں کو شکایات پیدا ہوئیں۔

شہبازشریف کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے قبل پنجاب کے سینئر وزیر رانا ثناء اللہ میڈیا سے کہہ رہے تھے کہ امید ہے شہباز شریف جے آئی ٹی کی اچھی خبر لیں گے۔ یہ بات انہوں نے پیشی کے بعد بھی کہی کہ شہباز شریف نے جے آئی ٹی کی اچھی خبر لی ہوگی۔ یہ سب اسی طرح میڈیا پر چلتا رہا بلکہ ایسے ریمارکس پر ٹاک شوز بھی جے آئی ٹی کی شکایت کا باعث بنے۔ اس سے قبل نہال ہاشمی یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ جو آج حاضر سروس ہیں انہیں کل ریٹائر بھی ہونا ہے، ان کے بچوں اور اداروں سے بھی حساب لیں گے۔ ان ریمارکس پر یقیناًجے آئی ٹی کو شکایت ہوئی ہوگی۔ جبکہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ نہال ہاشمی کے سینیٹ سے استعفیٰ دینے پر انہیں کچھ تسلی ہوئی ہوگی لیکن اگلے ہی روز ان کا استعفیٰ واپس ہوگیا، جس سے ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔

اب تحریک انصاف نے دو میڈیا گروپس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور حکومت نے بھی دو میڈیا گروپس سے اپنی شکایات کا اظہار کردیا ہے۔ عمران خان کو جیو گروپ اور دنیا سے شکایات ہیں۔ اور حکومت یا مسلم لیگ (ن) کو اے آر وائی اور سما سے۔ جیو گروپ سے عمران خان کی شکایات پرانی ہیں۔ وہ جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کا نام لے لے کر جلسوں میں اُن پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ وہ جیو گروپ کو حکومت کا پشتیبان قرار دیتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں جنگ اور جیو گروپ نے عمران خان کی تنقید کے دو جملوں کو اپنی 30 سطری وضاحت کے ساتھ شائع یا نشر کردیا ہے۔ ساتھ ہی اپنی ماضی کی ’’غیر جانب داری‘‘ یا عمران خان کی حمایت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ لیکن اس کی روش تحریک انصاف کے لیے قابلِ اعتراض ہی ہے۔ حال ہی میں اس گروپ نے سابق وزیر قانون بابر اعوان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبروں کے ساتھ یہ پیڈنگ کی کہ وہ ماضی میں فلاں فلاں جماعت میں رہ چکے ہیں۔ ساتھ ہی کسی ٹاک شو میں ان کے اور عمران خان کے درمیان ہونے والے تلخ جملوں کے تبادلے کو بھی بار بار نشر اور شائع کیا۔ جبکہ اسی روز جاوید ہاشمی کی عمران خان پر تنقید کو تو سپر لیڈ کے طور پر شائع کیا مگر نہ تو ان کی ماضی کی سیاسی قلابازیوں یا سیاسی جماعتیں بدلنے کا کوئی تذکرہ کیا اور نہ ہی ان کی موجودہ حکومت خصوصاً نوازشریف کے بارے میں ماضی کی تلخ ترین رائے کو نشر یا شائع کیا۔

دوسری طرف حکومت کو شکایت ہے کہ اے آر وائی اور سما اس کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں تو حکومت ان اداروں کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ ان کے خلاف عدالت میں کیوں نہیں جاتی۔ اس لیے کہ وہ ان اداروں سے مفاہمت چاہتی ہے۔ عمران خان بھی جیو اور دنیا پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ بائیکاٹ کرکے زیادہ سے زیادہ ان اداروں کے رپورٹروں کا اپنی پریس کانفرنس میں آنا بند کرسکتے ہیں۔ ورنہ وہ ان اداروں کو نوٹس بھیجیں کہ وہ ان کی یا ان کے بارے میں کوئی خبر شائع یا نشر نہ کریں یا اس پر ٹاک شوز نہ کریں۔ مگر وہ بھی ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ انہیں اگلا انتخاب لڑنا ہے۔ دراصل سیاسی جماعتوں کا عوام سے رابطہ اور تعلق کمزور ہے۔ یہ جماعتیں عوام سے رابطہ میڈیا ہی کے ذریعے کرتی ہیں۔ اس لیے اس سے فیصلہ کن لڑائی نہیں لڑ سکتیں۔

بہرحال یہ مرحلہ میڈیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وہ پہلے ہی اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ اس سے اداروں، سیاسی جماعتوں اور افراد کو شکایات بڑھتی جارہی ہیں۔ عوام اور عوامی معاملات کے لیے بھی میڈیا کے پاس وقت اور جگہ نہیں ہے۔ وہ نان ایشوز کو ایشوز بنا رہا ہے اور اصل ایشوز کو نظرانداز کررہا ہے۔ ایسے میں اگر میڈیا نے خود اپنے معاملات کا جائزہ لے کر اصلاحِ احوال نہ کی تو میڈیا پاکستانی رائے سازی کا کوئی مؤثر ادارہ نہیں رہے گا، محض ایک منافع بخش صنعت بن جائے گا جو ایک قومی المیہ ہوگا۔