کچھ نہ کچھ تو بدل رہا ہے!

بڑے گھر کی چھتوں کی زیادہ صفائی کرنے سے منع کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بارشوں میں پانی آنے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ صدیوں کی گرد مٹی پیدا شدہ سوراخوں کو بند کردیتی ہے اور زیادہ صفائی کرنے سے وہ سوراخ کھل جاتے اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے سے سوراخ جن سے برسات میں پانی کے ٹپکنے کا خطرہ تو رہتا ہی ہے دوسری طرف سورج کی روشنی بھی ان سوراخوں سے داخل ہوکر مکینوں کا مذاق اڑاتی  ہے۔  کسی حد تک اس سے ممثلت رکھتی صفائی کا کام پاکستان میں چل رہا ہے ۔ پاکستان میں یقیناً ایسا پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ وزیرِاعظم اور ان کا خاندان پیشیاں بھگت رہا ہے ۔ یہ پیشیاں وزیرِاعظم کے خاندان کا نام پانامہ پیپرز میں آنے کی وجہ سے چل رہی ہیں۔ لیکن کیا پانامہ پیپرز میں نام آنا ان پیشیوں کے لئے کافی تھا ۔

دنیا میں اور بھی بہت سارے افراد اس میگا کرپشن اسکینڈل کی زد میں آئے۔ ان میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔  یا اپنے آپ کو تحقیقات کیلئے پیش کردیا۔  کرپشن ذدہ لوگوں کی اس فہرست میں پاکستان کا نام بھی آیا  اور ہمارے  وزیرِاعظم کے اہلِ خانہ ان میں سر فہرست تھے۔  پاکستان میں سیاست بغیر اخلاقیات کے پل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے وزیرِ اعظم نے اپنے خاندان کو تحقیقات کیلئے پیش تو کیا مگر  اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ اسی وجہ سے عام آدمی کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں کہ تحقیقات بغیر کسی دباؤ کے ہو سکے گی یا نہیں۔ پاکستانی بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نافذ ہے۔ اس لئے پانامہ پر ہونے والی تحقیقات سے کسی غیر جانبداری کی توقع عجیب سی بات لگتی ہے۔

پاکستان میں تین سو سے زائد سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ بمشکل بیس جماعتیں الیکشن کا حصہ بنتی ہیں۔ ان تمام سیاسی جماعتوں کا کام سوائے مختلف معاملات پر احتجاج کرنے کے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے پاس سیاسی کارکن ہوں یا نہ ہوں، یہ کچھ خرچہ کرکے لوگوں کو جمع کرلیتی ہیں۔ یا پھر بڑی سیاسی جماعتوں کی ذیلی جماعت کا کردار بھی ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب سے پانامہ کا معاملہ چل رہا ہے پاکستان اور پاکستانیوں کو کچھ کرنے کو نہیں مل رہا۔ سب لوگ صبح و شام جے آئی ٹی میں ہونے والی کارروائی کی تفصیلات جاننے  میں سرگرداں ہیں۔

سیاسی جماعتیں پاکستان میں اپنی اپنی سیاست چمکانے کے لئے میں برسرِپیکار اہی ہیں۔  پھر بہت ساری سیاسی جماعتوں میں ایک اور سیاسی جماعت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان تحریکِ انصاف تھا ۔ انصاف کا داعی کوئی اور نہیں پاکستانی قوم کے دل میں پہلے سے ہی جگہ بنائے ہوئے ورلڈکپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کے روح رواں عمران خان بنے۔ خان صاحب پہلے سے ہی پاکستانیوں کے دل میں گھر کئے ہوئے تھے مگر ہمارا سیاسی ماحول ایسا نہ تھا کہ کسی بھی فرد کو اتنی آسانی سے جگہ دے دیتا۔ خان صاحب بھی آخری گیند تک لڑنے اور لڑانے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ یہ بھی بہت اچھی طرح جانتے تھے کے قدرت حق اور سچ کی مدد ضرور کرتی ہے۔ وہ انصاف کا علم لے کر چلتے رہے ۔ ایک طویل اور تھکادینے والا سفر شروع کیا اور کسی شارٹ کٹ کا سہارا نہ لینے کا عہد کیا۔ پاکستان میں سب کچھ ہے مگر مخلص سیاست دان نہیں ہیں۔ سب اپنا پیٹ بھرتے رہے اور اپنے حواریوں اور پجاریوں کو نوازتے رہے۔ پاکستانی عوام کے ٹیکس سے بیرونِ ملک جائیدادیں خریدتے رہے۔

پاکستان تحریک انصاف سارے موسم جھیل گئی اور ایک چھوٹا سا پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ جو ان پرانے درختوں سے زیادہ توانا نظر آرہا ہے جن کی آبیاری جھوٹ اور انا سے کی جاتی رہی تھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے جہاں ملک کی ایک اہم ترین سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل کر لی ہے تو دوسری طرف موروثی سیاست کو بھی بھر پور تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستانی سیاست میں متحدہ قومی مومنٹ نے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہونے کی داغ بیل ڈالی تھی اور متوسط طبقے کو پاکستان کے جاگیرداروں ، وڈیروں اور زمینداروں کے ساتھ اسمبلیوں تک پہنچایا تھا۔  یعنی دوطرح کی سیاسی جماعتیں پاکستان میں ایک عرصے تک سیاست کرتی رہیں۔ لیکن کوئی بھی پاکستان سے مخلص ہونے کا ثبوت دینے سے قاصر رہی۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے بانی عمران خان نے سیاست میں بہت کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور اپنی جماعت میں ہر طبقے اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو جگہ دی۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے نوجوان نسل کو بدزبانی سکھائی ہے اور بے ادب بھی کر دیا ہے ۔ تو بات دراصل یہ ہے کہ عمران خان خود تو ایک عمر رسیدہ فرد ہیں لیکن ان کی سوچ اور جسمانی ساخت نوجوان ہے۔ وہ نوجوانوں کو اپنا حق لینے کا طریقہ سکھا رہے ہیں۔ وہ سچ بولنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں سے بلکہ پوری پاکستانی قوم سے یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ سچ بولو اور اپنے حق کیلئے آواز اٹھاؤ۔ اپنے لئے انصاف مانگو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے انصاف مانگو۔ یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے اور ان کے لئے تو زیادہ ہی کڑوا ہوتا ہے جن کے جھوٹ پر جھوٹ پکڑے جا رہے ہوں۔

پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو۔ پیپلز پارٹی احتساب سے چھپتی پھرے ، متحدہ قومی موومنٹ متحد ہو نہ ہو یا تحریک انصاف کا مستقبل کیسا ہی ہو۔ مگر عوام کو کچھ نہ کچھ  شعور آرہا ہے۔ اس شعور کی بدولت کچھ نہ کچھ تو بدل رہا ہے ۔ انشاء اللہ ہم دیکھیں گے کہ پاکستان بدلے گا اور اس کا سہرا عمران خان کے سر ہی بندھے گا۔ کیونکہ قدرت بہادروں کا ساتھ دیا کرتی ہے اور بہادر جھوٹے اور مفاد پرست نہیں ہوتے۔