نریندر مودی او ر نیتن یاہو کی جپھیاں

  • تحریر
  • جمعہ 07 / جولائی / 2017
  • 5105

لاہور پر فراغت اور رونق کا یہ دور بھی گزر چکا ہے جب لاہور میں میلے ٹھیلے اس قدر کثرت سے ہوتے کہ شوقین مزاجوں کو گھر جانے کا وقت ہی نہ ملتا۔ غالباٌ ان ہی دِنوں یہ محاورہ تخلیق ہوا ، دِن ستّ تے اَٹّھ میلے ، گھر جاواں کیہڑے ویلے ۔ وہ فراغتیں رہیں نہ وہ وقت، اس لئے اب ان میلوں کی یاد بھی کم کم آتی ہے۔ یوں بھی اب ٹی وی میڈیا کی صورت ہمہ وقت کا میلہ سب کو مصروف رکھتا ہے۔

دور کیا جانا، پانامہ نے اتنی رونق لگا رکھی ہے کہ سر کھجانے کی فرصت ہے نہ کسی اور طرف دیکھنے کا یارا۔ جے آئی ٹی کے رپورٹ مکمل ہونے کے دن جوں جوں قریب آر ہے ہیں، اپنی اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق پارہ چڑھ رہا ہے۔ کسی کو نیا پاکستان بنتا ہوا نظر آرہا ہے ، کسی کو اس سارے جھمیلے میں سازشیں نظر آرہی ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد کی جے آئی ٹی کے سامنے کی پیشیاں، ان پیشیوں کے بعد کی میڈیا ٹاک اور پھر شام سے رات گئے تک چوکس اور چوبند تجزیہ کاروں کے ایسے ایسے باریک نکتے کہ الحفیظ الا امان۔ گزشتہ روز وزیر خزانہ پیشی کے بعد گرجے برسے تو اسٹاک ایکسچینج ایک ہی دن میں انیس سو پوائنٹ گر گئی۔ وزیر اعظم کی صاحبزادی پیش ہوئیں تو اس روز روپے کی قدر میں ایک ہی دن میں تین فی صد کمی ہوئی۔ یہ حال اگر صرف پیشیوں کے آفٹر شاکس کا ہے تو کسی غیر متوقع فیصلے کی صورت میں کیا ہوگا۔ اس کا اندازہ کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں کیونکہ کچھ کو یہ فکر ہے کہ لیڈی پولیس آفیسر نے سلیوٹ کیوں مارا اور کسی کو یہ فکر کہ وزیر اعظم کی صاحب زادی کے ساتھ آنے والی گاڑیاں پروٹوکول کی تھیں یا پرائیویٹ۔

اس قدر پْر رونق اور جذباتی ماحول میں کم ہی لوگوں کو فرصت ملی یہ جاننے کی کہ نریندر مودی نام کا ایک دشمنِ اول چار سے چھ جولائی تک اسرائیل میں ریڈ کارپٹ مہمان داری کے مزے لوٹ رہا ہے۔ موصوف پچھلے ہفتے امریکہ گئے تو وہاں سے مقبوضہ کشمیر میں جہاد اور مزاحمت میں مصروف ایک تنظیم کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دِلوانے میں کامیاب ہوئے۔ اب وہ اس ہفتے اسرائیل کے دورے پر پہنچے تو ان کے میزبان نے اپنے مہمان کی مہمان داری کا یہ کہہ کر حق ادا کر دیا کہ وہ لشکر طیبہ اور حماس کو ایک جیسی دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ اِسے اتفاق ماننے کو جی نہیں چاہتا کہ عین اس ہفتے ا مریکی سینیٹ اور ایک اہم کمیٹی کے رکن جان میکین پاکستان آئے اور جاتے ہوئے تان حقانی گروپ پر توڑی کہ پاکستان اس معاملے میں امریکہ بہادر کی مدد نہیں کر رہا۔ بقول جان میکین ہم نے اپنے دوستوں کو سب کچھ کھول کر بیان کر دیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نزاکت اور پیچیدگیاں اپنی جگہ، اسرائیل نے پاکستان کو ہمیشہ دشمن جانا اور اس کے ازلی دشمن سے ہمیشہ دوستی گانٹھ کے رکھی۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے جب مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ بھارت کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور تیل کے انحصار کی وجہ سے باقاعدہ تعلقات نرسیما راؤ کے دور میں قائم ہوئے لیکن انٹیلی جینس اور دفاع کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان در پردہ گہرا تعاون اس سے قبل بھی موجود تھا۔

کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا یہ اسرائیل کا پہلا دورہ ہے۔ نریندر مودی کا یہ دورہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کی درپردہ تیاری تو دو سال سے ہو رہی تھی۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی صدر پرناب مکر جی اسرائیل کے دورے پر گئے۔ جس کے جواب میں اسرائیل کے صدر اس سال جنوری میں بھارت کے دورے پر آئے۔ اس کے علاوہ وزارتی سطح کے دورے بھی ماضی میں بہت ہوئے۔ البتہ گزشتہ کچھ عرصے سے تعلقات میں اسی لیول پر ٹھہراؤ سا رہا۔ مزید گہرائی اور گیرائی کے اقدامات سامنے نہ آئے۔ نریندر مودی نے گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں پیچیدہ اور نازک توازن کے رسّے پر چلتے ہوئے ایران سے بھی تعلقات بہتر کئے اور سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ساتھ بھی تعلقات کر مضبوط کیا۔ ۔۔ اور اب اسرائیل کے ساتھ ایک ہی جست میں تعلقات کو اگلی نہج پر پہنچانے کی کامیاب کوشش کی۔

اسرائیل اور بھارت کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ ماضی میں کس قدر گہرا اور مضبوط رہا۔ اس کا برملا اظہار انڈیا ٹوڈے کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سندیپ اْونیتھن نے اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں کچھ یوں کیا: ‘ دونوں ممالک کے درمیان با قاعدہ سفارتی تعلقات سے قبل بھی موساد اور را کی بدولت عسکری اور انٹیلی جنس روابط مضبوط رہے ۔ اسرائیل نے 1971 کی جنگ کے دوران مکتی باہنی کے جنگجووں کو ہلکے ہتھیار فراہم کئے۔ بعد ازاں 1982 میں موساد نے را کے کمانڈوز کو خصوصی تربیت بھی دی۔ 1999 کے بعد ان تعلقات میں اس وقت بڑی گرم جوشی آئی جب کارگل جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے اسٹاک سے بھارت کی بوفور توپوں کے لئے ایمونیشن فراہم کیا۔ جاسوسی کے لئے ایک فوجی ہیلی کاپٹر لیز پر دیا اور ہر موسم میں کارآمد ایسٹرا نامی دو جاسوسی جہاز بھی بیچے۔‘ یہ دفاعی تعاون وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس سال فروری میں بھارت نے اپنے اسٹرائیکنگ کور کی صلاحیت بڑھانے کے لئے اسرائیل سے 1700 کروڑ بھارتی روپوں کی ڈیل طے کی جس کے تحت بھارت کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے چالیس میڈیم رینج میزائیل  (MR- SAM) فراہم کئے جائیں گے۔ اس وقت پانچ ارب ڈالر کے دفاعی سودے پائپ لائن میں ہیں جن میں الیکٹرونکس آلات، میزائیل اور ڈرونز بھی شامل ہیں۔

بھارت اور اسرائیل کا یہ تعاون صرف دفاعی معاملات ہی میں نہیں ہے بلکہ معاشی تعاون بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1992 میں فقط دو سو ملین ڈالر کی باہمی تجارت تھی جو بڑھ کر 2016 میں 4.50 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ اس تجارت میں ڈیفنس، پانی کی کفایت کی ٹیکنالوجی اور زراعتی پروڈکٹس شامل ہیں۔ اسرائیل کی بھارت میں دلچسپی یوں بھی ہے کہ بھارت کے پاس سوا ارب کی آبادی اور ایک بڑی ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ بھارت کی آبادی کی وسط عمر اٹھائیس سال ہے۔ اس قدر بڑی تعداد میں نوجوانوں کو کھپانے کے لئے بھارت کو تیزی سے نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت کو ٹیکنالوجی اور غیر معمولی ایجاداتی کاروباری سپورٹ کی ضرورت ہوگی جس کے لئے ہزاروں اسرائیلی کمپنیاں فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور بھارت کی خواہش بھی یہی ہے۔ اسی طویل مدت منصوبے کو ذہن میں رکھتے ہوئے نیتن یاہو کابینہ نے اگلے چار سالوں میں باہمی تجارت کو کم از کم پچیس فی صد بڑھانے کے لئے ایک خطیر رقم مختص کی ہے۔

اسرائیل کے ساتھ اس قدر گہرے تعلقات کے باوجود بھارت کے فلسطین کے ساتھ بھی گرم جوش تعلقات ہیں۔ گزشتہ سال فلسطین کے صدر محمود عباس بھارت کا دورہ کرکے گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کی تین روزہ اس دورے میں بھارتی وزیر اعظم کا فلسطین جانے کا پروگرام ہے اور نہ محمود عباس سے ملاقات کا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کا یہ پیچیدہ توازن بڑا دلچسپ ہے کہ بیک وقت ایران، سعودی عرب، قطر، یو اے ای، فلسطین اور اسرائیل سے تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ اس مہارت پر افضل ساحر یاد آئے:
جندے نی! کیہہ لچھن تیرے
پھنئیر نال یارانے وی نے
جوگی ول وی پھیرے !
جندے نی ! کیہہ ساک سہیڑے
اِک بْکل وچ رانجھن ماہی
دوجی دے وچ کھیڑے !
(میری جان، یہ تمہارے کیا چال چلن ہیں کہ سانپوں سے بھی دوستی ہے اور سپیرے سے بھی، ایک طرف رانجھے سے دوستی ہے اور ووسری طرف کھیڑے سے تعلق بھی )

پاکستان کو نریندر مودی کے اس دورے سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ اس دورے کی ایک اہم اور ہائی پروفائل مصروفیت بھارتی وزیر اعظم کی اس دس سالہ لڑکے موشے ہولزبرگ سے خصوصی ملاقات تھی جس کے والدین 2008 میں ممبئی حملوں میں قتل ہوئے۔ بھارت ان حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ اس ملاقات کا مطلب دنیا کو یہی بتانا ہے کہ بھارت بھی اسرائیل کی طرح دہشت گردی کا یکساں شکار ہے بلکہ ممبئی حملے میں تو اسرائیل کے شہری بھی ہلاک ہو گئے۔ نیتن یاہو نے یونہی تو استقبال پر نریندر مودی کو جپھیاں ڈالتے ہوئے نہیں کہا کہ ان کے نزدیک حماس اور لشکر طیبہ دونوں ایک سے دہشت گرد ہیں ۔ دشمن بجلیوں کے درمیان کسی کی بربادیوں کے مشورے ہو رہے ہیں شاید۔