جولائی کے تپتے دن اور نئی حکومتی حکمت عملی

ٹھیک چالیس سال پہلے جولائی کے ہی تپتے ہوئے دن تھے اور رم جھم کرتی شامیں بھی۔ سیاسی درجۂ حرارت اُس وقت بھی عروج پر تھا۔ دیوار پر لکھا ہوا اندھے کو بھی نظر آرہا تھا، مگر حاکمِ وقت کا دعویٰ تھا کہ اُس کی کرسی بہت مضبوط ہے۔ وہ کبھی سازشوں کا ذکر کرتا، کبھی بھرے مجمع میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خط دکھاتا۔ مگر انا کے پہاڑ سے نیچے اترنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اصل مسئلہ کو ٹال رہا تھا، پاکستان قومی اتحاد کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ محض وقت گزاری کررہا تھا۔ وقت تو گزر گیا مگر صرف 5 جولائی 1977 تک۔ پھر اُس مضبوط کرسی کے دعویدار حکمران کو پہلے جیل، پھر عدالتوں کے کٹہروں، اور آخرکار پھانسی گھاٹ تک جانا پڑا۔

آج بھی جولائی کی ابتدائی تاریخیں ہیں۔ وہی ہنگامہ خیز دن ہیں۔ دیوار پر لکھا ہوا صرف حکمرانوں کو نظر نہیں آرہا۔ حاکمِ وقت اب بھی کہہ رہا ہے کہ ایسے ہی نہیں جائیں گے، کسی کے کہنے پر کیوں جائیں۔ سازشیں ہورہی ہیں۔ آج کا حکمران بھی قطری شہزادے کا خط لہرا رہا ہے، اپنی حکومت کی مضبوطی اور پارٹی کی مقبولیت کے دعوے خود بھی کررہا ہے اور اپنے طفیلیوں سے بھی کروا رہا ہے۔ مگر اصل مسئلہ کو ٹال رہا ہے۔ انا کا بت توڑنے کو تیار نہیں۔ جولائی 1977 کا حاکم پاکستان قومی اتحاد سے بامقصد مذاکراہ کو تیار نہیں تھا اور 2017 کا حاکم اصل معاملہ منی ٹریل پیش کرنے سے گریزاں ہے۔ وہ حاکم گلی گلی اور شہر شہر ذلیل و رسوا ہورہا تھا، عوام کا غیظ و غضب ہر جگہ ظاہر ہورہا تھا مگر وہ فوجی قیادت کے ساتھ تصویریں اخبارات میں شائع کروا رہا تھا۔۔۔ اور آج کا حاکم بھی گھر کی خواتین تک کو تفتیش میں شامل کروانے پر رضامند ہے۔ اپنی اور اپنے خاندان، پارٹی اور ساتھیوں کی رسوائی کروا رہا ہے مگر فوجی سربراہوں کے ساتھ زبردستی کی مسکراہٹ والی تصویریں اسی طرح شائع کروا رہا ہے۔

یہ ہے وہ ماحول جس میں حکمران خاندان اور حکومت نے جارحانہ رویہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ جولائی کے ابتدائی دنوں میں کیا گیا، جس کے تحت پارٹی رہنماؤں اور وزرا کو ہدایات دی گئیں کہ وہ تندو تیز لہجے میں سازشی اور غیر جمہوری عناصر کا ذکر کریں۔ غیر جمہوری اور مارشل لا ادوار کی خرابیاں بتائیں اور حکومتوں کے خلاف طاقتور طبقات کی کارروائیوں سے ملک کو جو نقصان ہوتا ہے اس سے آگاہ کریں۔ یہ خبر صرف اس میڈیا گروپ پر ذیادہ نمایاں ہو کرچلی جو حکومت اور مسلم لیگ (ن) کا پشتیبان سمجھا جاتا ہے۔ اس نئی جارحانہ پالیسی کے تحت حکومت نے فوری طور پر خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خان کو میدان میں اتارا۔ خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں کارکنوں سے خطاب کیا اور عدلیہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر استدعا کرنے کے باوجود وہ سب کچھ کہا جو کم سے کم الفاظ میں بھی چیلنج ہی کہا جائے گا۔ اُن کے زیادہ تر اعتراضات جے آئی ٹی پر تھے مگر انہوں نے براہِ راست عدلیہ پر بھی یہ کہہ کر تنقید کی کہ حکومت کو گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کہا گیا حالانکہ ہم یہ سب کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب معزز جج صاحب کی طرف سے ہمیں گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جو ایک جرائم پیشہ گروہ ہے، کہا جائے، تو بتائیں کہ ہم کہاں جائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھٹو کو پھانسی دے کر انصاف کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ تحفظات کا اظہار گستاخی نہیں۔ چنانچہ اگلے روز حکومت کے پشتیبان اردو اخبار کی لیڈ تھی ’’انصاف نہیں ہورہا۔ ن لیگ‘‘ جو لگتا ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر اور شاید مشاورت کے بعد لگائی گئی ہو۔

اُسی روز اسی گروپ نے اپنی تلخ نوائی کے لیے مشہور مشاہد اللہ خان کا انٹرویو بھی اپنے ٹی وی چینل پر چلایا۔ یہ سب کچھ جس انداز میں جتنی تیزی سے کیا گیا اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ سب کچھ طے شدہ ہے اور سوچ سمجھ کر کیا جارہا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ شریف خاندان اپنے مقاصد کے لیے خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خان کو استعمال کررہا ہے۔ انہیں ماضی کے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے تجربات کو یاد رکھنا چاہیے۔ سعد رفیق کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب شریف خاندان جدہ میں تھا اور وہ ملک میں احتجاجی سیاست میں بہت سرگرم تھے، اُس وقت انہیں مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری شپ سے کوئی وجہ بتائے بغیر ہٹادیا گیا تھا، جس کا خواجہ سعد رفیق کو خاصا قلق بھی تھا۔ مشاہد اللہ خان کو حال ہی میں ایک بیان دلوانے کے بعد وزارت سے فوری الگ کردیا گیا تھا۔ نہال ہاشمی کا معاملہ ابھی تازہ ہی ہے۔ اس لیے ان رہنماؤں کو سوچنا چاہیے کہ موجودہ ’’بہادری‘‘ عدلیہ کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے جس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ اور ایک آئینی ادارے کے خلاف مہم پورے سیاسی نظام کو تباہ وبرباد کردے گی جس کا شریف خاندان سمیت کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ان متوالوں کو پرویز رشید، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کے حالیہ انجام کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ شریف خاندان اپنے سوا کسی کی بھی قربانی دے سکتا ہے۔ یہ اس کی تاریخ ہے۔ تاہم یہ حلقے یہ بھی جانتے ہیں کہ ہزار مصلحتوں کے باوجود خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خان کی تربیت اور مزاج میں بغاوت موجود ہے۔ وہ کرگزرنے کے عادی ہیں، نتائج پر بعد میں غور کرتے ہیں۔ تاہم حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے کہ جس مسلم لیگ (ن) کو چار سال کے دوران انہوں نے کبھی یاد نہیں کیا، نہ عہدیداروں کو منہ لگایا، نہ کارکنوں کو پوچھا، کبھی پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح کے کنونشن یا منتخب یا نامزد عہدیداروں سے خطاب تک کرنا گوارا نہیں کیا وہ اب انہیں پکار رہے ہیں۔ مگر جواب بھی اسی انداز میں مل رہا ہے۔ جوڈیشل اکیڈمی جہاں پاناما کیس کی جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے، اس کے باہر جو چند سو افراد اکٹھے ہوتے ہیں اُن میں مفادات کے اسیر وزرا اور ان کے ذاتی ملازمین شامل ہیں۔ پارٹی کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے عہدیدار بھی کہیں نظر نہیں آرہے۔

بہرحال لیگی رہنماؤں اور وزرا کی تلخ بیانی بتارہی ہے کہ یہ اب پارٹی اور حکومت کی یہی پالیسی ہے۔ ڈاکٹر آصف کرمانی، حسن نواز، سعد رفیق، مشاہد اللہ خان، طلال چودھری، دانیال عزیز کا لہجہ بتارہا ہے کہ پارٹی فرسٹریشن کا شکار ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ جے آئی ٹی ان کی لائن پر نہیں چل رہی۔ وہ خود اپنی صفائی دے نہیں سکے اس لیے فیصلہ ان کے خلاف ہی آئے گا۔ اس لیے وہ پہلے ہی سے واویلا کررہے ہیں۔ بعض لوگ جن میں پیپلزپارٹی کے چودھری منظور بھی شامل ہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ ممکن ہے شریف خاندان کو کلین چٹ مل جائے۔ وہ واویلا کرکے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، بعد میں یہ پروپیگنڈا کریں گے کہ ہم سے امتیازی سلوک کرنے والی جے آئی ٹی بھی کچھ نہیں نکال سکی۔ اس وقت سعد رفیق اور ڈاکٹر آصف کرمانی کا لب و لہجہ اور جے آئی ٹی پر تحفظات دراصل جے آئی ٹی پر عدم اطمینان ہے، اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جے آئی ٹی سے انصاف نہیں ملے گا۔

جے آئی ٹی کو شریف خاندان پہلے دن سے متنازع بنانے کی کوشش میں ہے، اس کے لیے وہ ایک میڈیا گروپ کی تحقیقاتی رپورٹنگ کو بہت اچھے انداز میں استعمال کرتا رہا ہے۔ واٹس ایپ کالز کی کہانی کوئی تحقیقاتی رپورٹنگ نہیں حکومتی حلقوں کی فراہم کردہ خبر ہے جس پر وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب سپریم کورٹ سے مطالبہ کرچکی ہیں کہ وہ اس خبر کا نوٹس لے۔ اب یہ کہانی چلائی جارہی ہے کہ بعض سرکاری دستاویزات پر پرانی تاریخوں کے دستخط کرائے گئے جو یقیناًمعاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ لیکن اگر ریکارڈ وہی ہے، دستاویز بھی پرانی ہے تو ریکارڈ میں تو ردوبدل نہیں ہوا، صرف پرانی تاریخوں میں دستخط بہرحال ایک بے ضابطگی ہے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان پہلا صفحہ پڑھے بغیر دستخط کررہے ہیں۔ اب اس میں نئی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ رپورٹ کہیں اور لکھی جارہی ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے مگر متذکرہ خبر فراہم کرنے والا ادارہ اور حکومت دونوں یہ نہیں بتارہے کہ رپورٹ کہاں لکھی جارہی ہے۔ ویسے رپورٹ کہیں بھی لکھی جارہی ہو، اگر ارکان اس پر دستخط کرتے ہیں تو ذمہ داری اُن کی ہے۔ وہی جواب دہ ہیں۔

اس وقت سب سے اہم بات اسحق ڈار کا اشتعال ہے۔ وہ جے آئی ٹی میں پیشی کے فوراً بعد باہر نکل کر عمران خان پر برس پڑے۔ انہیں جھوٹا، جاہل، بزدل، جواری، ٹیکس چور اور مشرف کے جوتے چاٹنے والا قرار دیا۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے بارے میں زیادہ نہیں کہا۔ ان کا یہ اشتعال بلاوجہ نہیں وہ عام طور پر دھیمے مزاج کے آدمی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اشتعال کا مقصد واضح ہے کہ یا تو جے آئی ٹی انکوائری شریف خاندان کے خلاف جارہی ہے یا پھر اگلے مرحلے میں وہ خود اپنے آپ کو پھنستا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ حسن نواز نے بھی طنز کیا ہے کہ اب ہماری 84 سالہ وہیل چیئر پر موجود دادی کو بھی تفتیش کے لیے بلالیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو حسین، حسن یا مریم سے کوئی مسئلہ نہیں، ان کا اصل مسئلہ نوازشریف ہیں۔ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود ہمارے خلاف تفتیش چالو ہے اور الزام ڈھونڈا جارہا ہے۔ ان کے لہجے میں بھی بے اطمینانی اور طنز ہے۔

اسحق ڈار کی پیشی کے بعد لاہور کے اخبارات کی مسلم لیگ (ن) اور اسحاق ڈار کے حوالے سے لیڈ یہی ہے کہ سازش ہورہی ہے۔ یہ بات سب سے پہلے وزیراعظم نوازشریف نے کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افواہ ساز فیکٹریاں بند ہونی چاہئیں۔ انہوں نے جس سازش کا ذکر کیا تھا اب اس کا ذکر نہال ہاشمی، آصف کرمانی، سعد رفیق اور دیگر کررہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اس سازش کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) مینڈیٹ لے کر آتی ہے مگر اسے غیرقانونی طور پر فارغ کردیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن)کی قیادت جس پسِ پردہ سازش کا ذکر کررہی ہے مگر نام بتانے سے گریزاں ہے، اس کے بارے میں سیاسی دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان کا اشارہ فوج کی جانب ہے۔ وہ جے آئی ٹی پر تنقید کرکے عدلیہ پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور پیغام فوج کو دے رہے ہیں۔ اس مفروضہ میں کتنی صداقت ہے سردست کسی کو علم نہیں۔ اور اب دانیال عزیز نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ جو عدالتوں کو مطلوب ہے اسے پاراچنار کی سیر کروائی جارہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ سیر کرانے کا طعنہ کسے دیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم بھی کہہ رہے ہیں کہ جس نے ایٹمی دھماکہ کا بٹن دبایا اس کا احتساب ہورہا ہے اور وہ بھی جعلی۔ جبکہ اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ مطالبہ کر رہے ہیں وزیر اعظم بتاٗئیں کہ سازش کون کررہا ہے۔ بے شک آصف زرداری۔ خورشید شاہ یا مولانا فضل الرحمان ہی کو بتادیں۔ عمران خان پوچھ رہے ہیں کہ بتائیں کہ کیا فوج سازش کررہی ہے یا سپریم کورٹ کررہی ہے جس کے بعد نواز شریف احتیاط کے ساتھ بولے ہیں کہ اپوزیشن سازش کر ہی ہے۔ لیکن یہ محض بیان ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس مبینہ سازش کے پیچھے کوئی اور ہے۔

بہرحال مسلم لیگ (ن) یا حکومت کی موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ:

1۔ جے آئی ٹی کو اس قدر متنازع بنادیا جائے کہ یا تو وہ خود کام کرنے سے انکار کردے یا پھر اس کی رپورٹ قابلِ قبول نہ رہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک کی پریس کانفرنس بالکل واضح ہے
2 ۔ قطری شہزادے کا ہر صورت میں بیان ریکارڈ میں شامل کرایاجائے۔ آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ لندن فلیٹس کا راستہ قطر سے جاتا ہے حدیبیہ سے نہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان نہ لیا گیا تو یہ رپورٹ نامکمل ہوگی جسے عوام اور کارکن قبول نہیں کریں گے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو پاکستان بلایا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا۔ پھر جے آئی ٹی نے انہیں لکھا کہ قطر آکر پاکستانی سفارتخانے میں ان کا بیان لے سکتے ہیں، مگر قطری شہزادے نے پاکستانی سفارتخانے آنے سے انکار کردیا کہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ پھر جے آئی ٹی نے ان سے ان کے دفتر یا گھر پر ملنے کو لکھا مگر قطری شہزادے نے سوالنامہ پہلے بھیجنے کی شرط عائد کردی جو شاید جے آئی ٹی کو قبول نہیں۔
3 ۔ آخر میں پہلے جے آئی ٹی، پھر دبے اور کھلے لفظوں میں عدلیہ، اور آخرکار اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فضا بنائی جائے۔

اس حکمت عملی کے تحت ایک ٹی وی چینل پر مہم چل رہی ہے کہ قطری شہزادے کا بیان نہ آیا تو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ لیکن بعض دوسرے چینلز پر حکومتی رویوں اور اشتعال کی مذمت بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اس صورت حال میں جہاں عام پاکستانی شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں وہاں اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بری طرح گررہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی بے توقیری ہورہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب کرپشن کے ناسور کا آپریشن کرہی دیا جائے۔ یہ آپریشن ہر سطح پر اور کسی بھی تفریق کے بغیر ہو۔ کرپشن کے ہر کردار کو کٹہرے میں لاکر سزا دی جائے۔ اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے۔