عوامی صحت سے تغافل
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- جمعہ 07 / جولائی / 2017
- 5272
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ضلع نارووال کے شہریوں نے قیام پاکستان سے لےکر آج تک لاکھوں قربانیاں دیں۔ وہاں کے قبرستانوں میں پاک فوج سمیت وطن کی آبرو اور حفاظت کے لئے جان قربان کرنے والے شہداء کی قبریں، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ضلع نارووال کی تین تحصیلیں اور74یونین کونسلیں ہیں۔ تحصیل نارووال کی28 یونین کونسل ،شکرگڑھ کی 28 یونین کونسل اورظفروال 18یونین کونسلیں ہیں ۔ مقامی نمائندوں میں یونین کونسلوں میں تقریباؔ 70چیئرمین ، 450 جنرل ، لیبر ، کسان اور لیڈی کونسلر ، زکواۃ و عشر ودیگر کمیٹیوں سمیت 150چیئرمین ، 500 سے زائد ممبران ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 115 میاں محمدرشید، این اے 116دانیال عزیز، این اے 117 احسن اقبال، پنجاب اسمبلی کے پی پی 133 ابوحفص محمدغوث الدین ، پی پی 132 اویس قاسم خان ، پی پی 135 خواجہ محمدوسیم ، پی پی 136 شجاعت احمدخان، پی پی 134 رانا منان ہیں۔
علاقے کی مشہورشخصیات میں انقلابی شاعر فیض احمد فیض ، سابق وفاقی وزیر سیاستدان انور عزیز ، چوہدری نثار احمد ملہی، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اور بالی ووڈ کے اداکار ڈان آنند ، مشہورگلوکار، سیاسی رہنما اور سہارا ٹرسٹ کے چیئرمین ابرار الحق، سیاسی رہنما چوہدری محمد ریاض ادریس، ثاقب ادریس تاج، چوہدری عبدالرحیم، چوہدری محمد سرور خان، جسٹس چوہدری اعجاز احمد ، کرکٹرعدنان الیاس، لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد حمید ڈار، بیرسٹرایس ایم ظفر، مصنف افضل احسن، کالم نگار محمدافضل گجرآف شکرگڑھ، سیدعارف نوناری آف نونار ، صحافی ڈاکٹرعبدالخالق اور چودھری آف قلعہ احمدآباد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پرخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
علاقے کے تمام منتخب عوامی نمائندے شہریوں کی خدمت کے دعوے دار ہیں۔ اکثر تقریبات میں یہ الفاظ تقریروں میں بہت اچھے لگتے ہیں کہ’’تندرستی ہزار نعمت ہے ‘‘جیسے دعوے کرتے ہوئے باتیں بنائی جاتی ہیں۔ کون ہے جو انسانی صحت کی اہمیت کو جھٹلا سکتا ہے ۔ کسی بھی انسان کیلئے تندرستی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتی ۔ لیکن ضلع نارووال میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کینسر، ہارٹ اٹیک ، ہیپا ٹائٹس، ڈپریشن اور شیزوفرینیا جیسی ذہنی اور جسمانی بیماریاں امیر وغریب میں قطعاً امتیازنہیں کرتیں لہذا صحت ایک ایسی دولت ہے جس کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اسی لئے ترقی یافتہ ممالک میں انسانوں کو صحت و تعلیم کی بہتر اور مفت سہولتیں فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ ضلع نارووال میں چند سرکاری ہسپتال ہیں جن میں جونیئر ڈاکٹر تعینات ہیں۔ ہزاروں نجی ہسپتال موجود ہیں جہاں اناڑی ڈکٹروں کا راج ہے۔ لیکن علاقے کے منتخب نمائیندے خود کو کامیاب کروانے والوں کے مسائل حل کرنے سے غافل ہیں۔
عوام میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ سر کاری ملا زمت کر نے والے ڈاکٹرز کے پرائیویٹ کلینک بند کروانا کیا حکو مت کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کیا دیہا تی علا قوں کے ہسپتا لوں میں ڈاکٹرز کی کمی کو پو را کرکے علاج معا لجہ کی سہو لیا ت فرا ہم کرنا حکو مت کی ذمہ داری نہیں۔ کیا دیہا تی علا قوں میں لیڈی ڈاکٹرز کی تعیناتی یقینی بنانا اور خوا تین کے مسا ئل حل کرنا حکو متی ذمہ داری نہیں۔ کیا بڑے شہروں میں مو جود ہسپتا لوں میں صحت عا مہ کی سہولیات فراہم کر نا حکو مت کی ذمہ داری نہیں۔ کیا ہسپتالوں کی لیبارٹریز کو معیاری اور قابل اعتماد بنانا حکمرانوں کا فرض نہیں۔
ان شکایات کو دور کرنے کے لئے حکومت کو سب سے پہلے تحصیل لیول اور قصبات کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کر نا ہوگا اور ساتھ ہی ہسپتالوں کی ضرورتوں کے مطابق جراحی آلات اور مشینری فراہم کرنا ہوگی۔