ذاتی اور ملکی مفادات میں فرق

بارہا اس بات کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جہاں بسنے والے اپنے آپ کو پاکستانی اس وقت کہتے ہیں جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم جیت جاتی ہے ،  جب بھارت یا کوئی اور ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے یا پھر پاکستان کو کسی ناگہانی قدرتی آفت درپیش ہوتی ہے۔ عام حالات میں ہم پاکستان میں بسنے والے علاقائی تقسیم کو فوقیت دیتے ہیں، فرقہ واریت کو ترجیح دیتے ہیں اور لسانی مسائل پر تقسیم رہتے ہیں۔  ہم اپنے اپنے  مفادات کیلئے تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ہم ادب اور فلاحی کاموں کو بھی تقسیم کرلیتے ہیں۔

اس تقسیم در تقسیم سے  ہماری طاقت  کم ہوتی جاتی ہے اور دشمن اس کا فائیدہ اٹھاتا ہے۔  ملک کا تعلیمی نظام شہریوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے میں ناکام ہے۔  بلکہ ملک میں تعلیم یافتہ ہونا سب کچھ کرنے کا پرمٹ مل جانے کے مترادف ہے۔  ان پڑھ  تو قانون کی کچھ نہ کچھ پاسداری کر ہی لیتا ہے لیکن تعلیم یافتہ فرد  قانون کی دھجیاں اڑانا اپنا حق سمجھتا ہے۔  ہم کسی کی ترقی برداشت نہیں کر پاتے اور کسی بھی طرح سے اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔  ہم کسی کیلئے سیڑھی نہیں بن  سکتے مگر گڑھے ضرور کھودتے ہیں۔ اور یہ بھی بھول جاتے ہیں جو گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرتا ہے۔ ایسی بے شمار مثالیں دیکھتے اور سنتے بھی ہیں مگر کچھ اثر نہیں لیتے۔ عبادات بھی کرتے ہیں۔ رب کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر مفادات کی خاطر سب بھول جاتے ہیں۔ غور کیجئے تو معلوم پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہیرو پیدا نہیں ہورہے ، آخر کیوں۔ ہماری ساری کی ساری توانائیاں ان کاموں میں صرف ہو رہی ہیں جن کا تخلیق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

قائدِاعظم محمد علی جناح ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس نے ان کی جان لے لی مگر انہوں نے اس بیماری کو اپنی ذات تک ہی رکھا، اسے ملکی مسلۂ نہیں بنایا۔  اس کی تشہیر سے ڈاکٹروں کو بھی روکے رکھا۔ نوابزادہ خان لیاقت علی خان شہید نے ملک کے مفاد میں  ذاتی عیش و عشرت سے آراستہ زندگی ترک کردی اور ایک عام پاکستانی کی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی۔ راشد منہاس کے نام سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ کیوں کہ راشد منہاس پاکستان ائیرفورس کا وہ نوجوان افسر تھے جنہوں نے اپنی قیمتی زندگی ملک کے مفاد پر قربان کردی۔ اور انہیں اس قربانی کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ ایسے ان گنت  لوگ ہیں جو پاکستان کی بقا کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر تے رہے ہیں ۔ ان لوگوں میں  قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر ایک عام آدمی کی سطح تک کے لوگ شامل ہیں۔ بہت  لوگ اعلی سرکاری عہدوں پر فائز رہے مگر اپنے خاندان کو اس عہدے سے کسی قسم کا ناجائز فائدہ نہیں پہنچایا۔  ایسے بھی بہت سارے ہوں گے جنہوں نے جائز فائدہ تک نہیں اٹھایا۔ مگر ایسے لوگوں کی مقدار آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں۔

پاکستان میں پیشہ وارانہ ماحول موجود نہیں ہے جس کی ایک اہم ترین وجہ میرٹ کا نہ ہونا ہے۔  پاکستان میں اسکول ، کالج، یونیوسٹیاں ، دفاتر، کھیل کا میدان کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں سیاست نے اپنے ڈیرے نہ ڈالے ہوئے ہوں۔  سیاست ہر ادارے میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے اور اداروں کی تباہی میں بھی کسی نہ کسی طرح  حصہ ڈال رہی ہے۔ جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں عوام اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنے حکمران چنتے ہیں۔  پاکستان میں جمہوریت کا مطلب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ یہاں سیاست عوام کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ اپنی خدمت کروانے کیلئے کی جاتی ہے۔ یعنی ذاتی مفادات سب سے اہم ہوتے ہیں۔ ملک کا بجٹ بھلے ہی خسارے میں جا رہا ہو مگرکوئی سیاست دان اپنی مراعات میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کر سکتا۔ کسی محنت کش کے بچے کو بہت اچھی پوزیشن کہیں داخلہ نہیں دلوا سکتی کیونکہ محنت سے زیادہ کسی کے مفادات آڑے آجاتے ہیں۔ ہم مفادات کی رسی سے بندھے ہیں۔ کوئی پاکستان کے مفادکی بات کرتا ہے یا ادارے کے مفاد کی بات کرتا ہے تو اسے ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے۔

پاکستان میں آج کل احتساب کا عمل چل رہا ہے یہ عمل اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہر وہ پاکستانی جو پاکستان کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتا ہے دعا گو ہے کہ حقیقی اور شفاف انصاف ہو۔ یہ احتساب کسی کی جیت یا ہار کےلئے نہیں ہورہا مگر جن کا ہو رہا ہے وہ اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچتا محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان کی روش بدلنے والی ہے۔ یہ ابتداء ہے اور یہ مفادات کا استعمال کرنے والوں کے لئے انتباہ ہے کہ اب ملک کے مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا ہوگی۔