قومی سلامتی اور سازشی عناصر
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 09 / جولائی / 2017
- 4517
پاکستانی سلامتی کو جتنا خطرہ بیرونی سازشوں سے ہے ان سے کہیں زیادہ خطرات اندرونی سازشوں سے لاحق ہے۔ ان میں مختلف این جی او ایز، تنظیمیں اور گروہ سرگرم ہیں۔ افسوس اس قوم کے سادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پڑھ لکھ کر آزاد ہوگئے ہیں مگر بہت سے عناصر انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے زریعے ہمیں استعمال کر رہے ہیں۔ دین یا آزادی کے نام پر اور بہت سے طریقوں سے عوام کو ٹریپ کیا جا رہا ہے۔
سازشی گروپ اور ان کے کنٹرول کے طریقے اتنے مضبوط اور جامع ہوتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی گرفت میں آجاتا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس کی اصلاح کے لئے مزید کام کرنا ہوگا اورایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے کوششیں کرنی ہوں گی۔ ملکی سلامتی عرصہ دراز سے زیر بحث ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ملک کی عسکری و سول قیادت نے ملکی سلامتی کو سب سے زیادہ مقدم جانا ہے۔ ملکی بقاء کی خاطر مشکل حالات میں طرح طرح کی سازشوں کا مقابلہ کیا۔ بعض غلطیاں بھی سر زد ہوئیں، بعض اوقات سازشی عناصر کوغلبہ حاصل رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سازشی عناصر کی تشخیص نہیں ہو سکی۔ جیسے مرض کی تشخیص ہوجائے تو علاج کرنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والی سازشوں کی تشخیض بہت ہی ضروری اور اہم ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹ کے ماہر موجود ہوں جو ہر وقت ملک میں ہونے والی سازشوں کو بھانپیں اور متعلقہ اداروں کو ان کے بارے آگاہ کریں۔
پاکستان کی سلامتی سے جڑے چند ممالک قابل زکر ہیں۔ بھارت، افغانستان ،ایران، چین، امریکہ اور روس وغیرہ۔ موجودہ صورتحال سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور چین پاکستان کے قریب سے قریب تر ہو رہے ہیں۔ ہمسایہ ممالک بھارت، ایران اور افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ جو کہ ایشیا میں اثر رسوخ کے لئے پاکستان کو استعمال کرتا رہا ہے، اس کے نا روا رویے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھانپتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف بڑھ گیا ہے۔ امریکہ سے تعلقات کافی حد تک کم ہوچکے ہیں۔ مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق چین پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور روس و امریکہ کی جگہ پاکستان سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے ۔ چین اس لئے پاکستان کا خیر خواہ ہے کہ دونوں کا مشترکہ دشمن بھارت ہے۔ اس کے علاوہ چین براستہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی چاہتا ہے۔ سی پیک اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ دوسری طرف امریکہ بھارت کا حامی ہے اور بیک وطن بھارت اور پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ سازشوں کی دنیا کا بادشاہ ملک ہے امریکہ۔ جبکہ بھارت تو پاکستان کا ازل سے ہی دشمن ہے۔ اس کی بڑی وجہ کشمیر ہے۔
افسوس ناک امر ہے کہ ایران و افغانستان مسلمان ممالک ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس کی بڑی وجہ شاید بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را ہے۔ بھارت ایران میں چہر بہار بندرگاہ کے لئے خطیر رقم خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کی حمایت حاصل کرکے پاکستان کو خطے میں تنہا کرسکے۔ ایران اور افغانستان پاکستان کے ہمسایہ ملک ہیں اسی لئے بھارت نے ان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے تاکہ پاکستان کی سلامتی کو ٹھیس پہنچا سکے۔ اس کی مثالیں بھی سامنے آچکی ہیں۔ جیسے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری۔ پاکستان اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے منسلک ہیں باقی تمام ملک صرف سازشی عناصر کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ جن کے ماسٹر مائینڈ خود امریکہ و بھارت ہیں۔ پاکستان کو اب امریکہ نواز پالیسیوں سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنی خودمختاری کو سر فہرست لانا ہوگا۔ تاکہ ہماری سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ پاکستان کو بیک وقت افغانستان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی ضرورت ہے اوراس میں چین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنا ہوگا ۔
گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سلامتی امن اور کشمیر سمیت کلبھوشن کیس پر تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ بھارت کو دنیا میں بے نقاب کیا جائے ۔ ملکی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی ہر سازش کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ سلامتی کمیٹی کی یہ کاوش قابل توصیف ہے۔ سول قیادت کو سفارتی سطح پر سازشی عناصر کی روک تھام کرنی چاہئے۔ اسی طرح اندرونی سازشوں کی تشخیص کے لئے بھی قابل عمل اقدام کیا جائے۔ پاکستان کو اپنی خودمختاری عزیز ہونی چاہئے۔ موجودہ صورتحالپاکستان کو بھانپنا ہوگا کہ اس کے لئے غلط و درست کیا ہے۔