بحالی اعتماد کا مسئلہ

ریاست، حکومت اور شہری کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد سازی کا ہوتا ہے ۔  اعتماد سازی کا عمل ان تینوں فریقین کے درمیان تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ لیکن یہ بات مجھ سمیت بہت سے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان بداعتمادی اور خلیج بڑھ رہی ہے ۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ریاست اور حکمران طبقات کا عام آدمی کی زندگی ، ترقی اور خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس ریاستی و حکومتی نظام اس کمزور اور محروم طبقہ کو نظرانداز کرکے ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کو تقویت دیتا ہے ۔

معاشرے میں طبقاتی تقسیم  گہری ہونے سے لوگوں میں یہ احساس زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سب لوگ برابر نہیں ۔ معاشرے عمومی طور پر لوگوں کو جوڑنے سے آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے برعکس ہماری پالیسی ، طرز فکر ا رسوچ لوگوں کو جوڑنے کی بجائے تقسیم کرنے پر استوار ہو تو ریاستی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ اگرچہ اعتماد سازی کا بحران محض ریاست، حکومت اور اس کے اداروں تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر گھر، خاندان اور کمیونٹی یا محلہ کی سطح پر بھی لوگوں میں ایک دوسرے کے بارے میں بداعتمادی پائی جاتی ہے ۔ لوگوں کی اکثریت کو لگتا ہے کہ  اشرافیہ کے دعوؤں میں مصنوعی پن ، کھوکھلے نعرے ، جھوٹ ، مکاری ، لالچ اور زاتی مفادات  سیاست پر غالب  ہیں۔  لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی حیثیت محض ایک ایسے فرد یا خاندا ن کی ہے جسے ہر حالت میں سیاسی ، سماجی ، معاشی ، قانونی اور دیگر نوعیت کے معاملا ت میں استحصا ل کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔

عملی طور پر حکمرانی کا بحران ہی ملک میں رہنے والوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ جب کوئی بھی حکمرانی کا نظام منصفانہ اور شفافیت کے ساتھ  لوگوں کے  مفادات سےوابستہ  نہیں ہوگا تو لوگ اس نظام اور اس کے  چلانے والوں پر عدم اعتماد کا شکار ہوں گے۔  یہ رویہ قومی مزاج کا حصہ بنتا جارہا ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ کچھ نہیں بدلے گا۔ سب طاقت ور لوگوں کا کھیل ہے اور ان  کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ لوگوں کا یہ مزاج  اچانک نہیں بنا  بلکہ اس کے پیچھے اس حکمرانی اور ریاستی نظام کے تضادات کی تاریخ ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے پرانی غلطیوں سمیت نئی غلطیاں کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ 

ایک رویہ یہ بن گیا ہے کہ ہم بلاوجہ سارے مسائل کا ملبہ عام لوگوں پر اوران کے رویوں پر ڈالتے ہیں  لیکن مسئلہ عام لوگوں سے زیادہ خواص کا ہے جو اپنے طرز عمل اور اقدامات سے عام لوگوں کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ کیونکہ جب معاشرے کا بالادست ، خواص یا حکمران طبقہ خود اپنے آپ کو ایک مثالی فریق کے طور پر پیش کرے گا تو لوگ بھی نچلی سطح پر اس کی تقلیدکرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ لیکن جب لوگوں کو اوپر کی سطح پر روشنی نہیں ملے گی توو ہ بھی ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اوپر کی سطح پر غالب ہوتا ہے ۔  لوگوں میں مایوسی خود حکمران طبقات کے رویوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔  قیادت کا کام کمزور لوگوں کو اعتماد دے کر کھڑ کرنا ہوتا ہے، جب کہ ہمارے یہاں قیادت لوگوں کے ساتھ ایک واضح فاصلہ رکھتی ہے جو باہمی تعلق  کو اور زیادہ کمزور کرتی ہے ۔

یہ بحث ہمارے ہاں دو حوالوں سے غالب ہے کہ اول کچھ نہیں ہونا سب ٹھیک ہے۔ نظام کو ایسے ہی چلنے دیا جائے ۔ جبکہ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ نہیں یہ معاملات ایسے نہیں چل سکیں گے بلکہ اس میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے ۔ یعنی روائیت اور جددیت کے درمیان ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ یہ ٹکراؤ بعض اوقات  ایسی تقسیم بھی پیدا کررہا ہے جس سے ماحول میں تلخی  پیدا ہوتی ہے ۔ حالانکہ کوئی بھی نظام تسلسل کے ساتھ اصلاحات کو یقینی بنا کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے ۔ لیکن یہاں قیادت کا فقدان اصلاحات کے عمل کو مضبوط بنانے کی بجائے اسی روائیتی نقطہ نظر کو طاقت دے کر اپنے ذاتی مفادات کو تقویت پہنچاتا ہے ۔  میڈیا میں کافی لوگ محترک نظر آتے ہیں اور سب ہی  سب کچھ بدلنے کے دعوے بھی کرتے ہیں۔ لیکن ہماری حقیقی سمت کیا ہوگی۔ کیا راستہ اختیار کیا جائے گا اور کون کس حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جائے گا۔ اس پر  سوالیہ نشانات ہیں۔ جو لوگوں میں تبدیلی کی امید کو کمزور کرتے ہیں۔

بعض صورتوں میں محض انتظامی ڈھانچہ یا انفراسٹکچر کی تبدیلی کو ترقی کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ یہ تبدیلی کا محض ایک پہلو ہے۔  جبکہ تبدیلی ایک بڑے پیکج کے طور پر سامنے آتی ہے۔  ہماری ترجیحات میں انسان کم اور نمود نمائش پر مبنی ترقی کا خاکہ ہوتا ہے ۔ یہ عمل لوگوں کو انتظامی ڈھانچوں کی ترقی کے باوجود کمزور کرتا ہے اورانہیں  لگتا ہے کہ یہ جو ترقی ہمیں دکھائی جارہی ہے محض ہمارا مذاق آڑانے کے لیے ہے ۔ کیونکہ جو ترقی کا عمل ہورہا اس کی آپ تک رسائی نہ ہو اور اس میں آپ فوائد حاصل نہ کرسکیں تو وہ انسانوں میں اس ترقی سے لاتعلقی کا عمل پیدا کرتا ہے ۔ حالانکہ جب انسان کھڑا ہوگا اور مضبوط ہوگا  تو وہ خود بھی ترقی کے  نئے راستے تلاش کرسکتا ہے ۔ لیکن انسانوں کو نظر انداز کرکے ترقی کا عمل ترقی کم اور سماج میں بدحالی کے عمل کو زیادہ طاقت فراہم کرتا ہے ۔

یہ  تاثر عام اور کمزور لوگوں کو مل رہا ہے کہ اس معاشرے کے بالادست طبقات، حکمران اور طاقت ور افراد کا نظام مختلف اور ہمارا مختلف ہے، یہ بجائے خود ایک بڑا المیہ ہے ۔ کیونکہ جب ایک بڑے طبقہ کا تعلیم ، صحت، روزگار، ماحول ، انصاف ، تفریح اور سلوک عام افراد یا معاشرے کے بڑے طبقات سے مختلف ہوگا تو اس سے  طبقاتی تقسیم  گہری اور ریاست کا نظام  کمزور ہوتاہے ۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ طاقت ور طبقہ  اس نظام میں حکمرانی کے لیے پیدا ہوا ہے اور ہماری حیثیت محض ایک غلام کی ہے۔ یہ سوچ تبدیل ہونی چاہیے ۔ جب یہ گلہ کیاجاتا ہے کہ لوگ ساتھ  کھڑے نہیں ہوتے تو اس کی وجہ لوگوں کا قیادت پر عدم اعتماد ہوتا ہے ۔ اگر آپ طاقت میں ہوں تو آپ کو لگتا ہے کہ سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ، اور طاقت کے کھونے کے بعد آپ تنہا ہوتے ہیں ۔ لوگوں میں اعتماد کی کمی کا بڑا حصہ سیاسی جماعتوں اوران کی قیاد ت کے رویہ کے سبب ہے۔ ان کے پاس لوگوں کو  ایک بنانے ، جوڑنے اور ان کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی کا جامع منصوبہ نہیں ہوتا ۔ حالانکہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہی لوگوں میں متبادل نظام کے امکانات  کی امید پیدا کرتی ہے۔  لیکن یہاں جماعتیں حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف کا حصہ ہوں ان کی سیاست محاز آرائی ، ذاتی مفادات، اور کمزور ناقص ترجیحات کی وجہ سے  لوگوں میں مضبوط تعلق پیدا نہیں کر پاتیں۔  دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو لوگ ووٹ دیتے ہیں۔  ہم ووٹ کی بنیاد پر سیاسی نظام کو دیکھنے سے کئی اہم سوالات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اور جان بوجھ کر لوگوں کو محض ووٹ کی سیاست تک محدود کرکے اپنے خاص مفادات کو تقویت دی جاتی ہے ۔

یہ سوچ کہ پاکستان میں سب کچھ ہے ، درست ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اسی کے پاس ہے جس کے پاس اختیارات، دولت اور طاقت ہے۔ لیکن جو لوگ کمزور ہیں ان کے پاس محرومی  کے سوا کچھ نہیں ۔ اس لیے پاکستان کے موجودہ ریاستی اور حکومتی نظام میں بنیادی ضرورت معاشرے میں اعتماد سازی کے بحران کو بحال کرنا ہے۔  کیونکہ معاشرے لوگوں کے ساتھ بنتے ہیں لیکن اگر ہم طبقاتی بنیادوں تقسیم ختم کرنے کی بجائے مضبوط بنائیں گے تو پھر معاشرے سے محرومی اور بدحالی ختم نہیں ہو سکتی۔ عوام کے ساتھ رابطہ اور ان کے مسائل پر توجہ دینے سے ہی اعتماد سازی کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔