خواجہ سعد رفیق کی تقریر
خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ کے نظریاتی ورکر اور لیڈر ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں اس طرح کے کارکن اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا مقام سیاسی محنت اور لگن سے بنایا۔ اپنے والد خواجہ رفیق کی شہادت کے بعد نامساعد حالات میں طلبا سیاست سے اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے تشدد کا بھی شکار ہوئے۔ آج جب خواجہ سعد رفیق کی تقریر سنی تو جنرل مشرف کے دور آمریت کا ایک واقعہ ذہن میں آگیا۔
نواز شریف اٹک قلعہ سے جدہ پہنچ چکے تھے اور جاتے جاتے مسلم لیگ جاوید ہاشمی کے سپرد کرگئے۔ مسلم لیگ سے وابستہ بڑے بڑے راہنما مصلحت کے پیش نظر گھر پر نظر بندی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جاوید ہاشمی ایک خودساختہ مقدمہ میں جیل بھگت رہے تھے۔ میرے عزیز دوست مسلم لیگ جرمنی کے صدر چوہدری شفیق پاکستان آئے تو خواجہ سعد رفیق نے انہیں چائے پر بلای۔ا خواجہ سعد رفیق ان دنوں نواز شریف کے جنرل مشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب جانے پر مایوسی کا شکار تھے۔ وہ کہہ ہھے تھے کہ جب قیادت جمہوریت کی جنگ لڑنے کے بجائے اپنی جان بچانے کو ترجیح دے تو پھر اس ملک میں جمہوریت کا مستقبل کیاہھوگا۔ کہنے لگے کہ ان جیسے ہزاروں کارکنوں کو ہمارے راہنما کس کے رحم وکرم پر چھوڑ کر بیرون ملک جا بسے ہیں۔
یاد ماضی میں ابھرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کے وہ الفاظ اور آج ان کی سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو دھمکیوں سے لبریز تقریر سن کر میں محترم خواجہ سعد رفیق جیسے سیاسی کارکنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ ہمارے جیسے سیاسی کارکن بھی پاکستان میں جمہوریت کے غیر مستحکم ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ جب سیاسی کارکن جیالے متوالے اور فدائین بن جائیں۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کی بجائے حکمرانوں کی قصیدہ خوانی پر اتر آئیں تو جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہو جا تا ہے۔ خواجہ سعد رفیق اپوزیشن میں جیل بھگت رہے ہوں گے اور ان کے لیڈر لندن میں مزے کر رہے ہوں گے۔
سیاسی جدوجہد کے بجائے مال و دولت کے انبار اکٹھے کرنے والے تاریخ کے کوڑا دان میں جگہ پاتے ہپں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر نیلسن منڈیلا تک عظیم راہنما اپنے مال و دولت کے اثاثوں کے بجائے اپنے کردار اور عمل اور اصولوں کی بنا پر تاریخ میں زندہ و جاوید ہیں۔ پاکستان کا لیڈر وہ ہونا چاہئے جس کے مالی معاملات اور ٹیکس ریٹرن قائد اعظم کی طرح شفاف ہوں اور جو بیماری کی حالت میں قائد اعظم کی طرح بیرون ملک علاج کی غرض سے جانے کے بجائے سرکاری ایمبولینس میں دم توڑنے کو ترجیح دے۔