لندن کی زمین دوز ارواح

لندن کی زمین دوز ٹرینوں پر ایک کالم نہ لکھنا ان روحوں کی سخت حق تلفی ہوگی جو عرصے سے ان تنگ و تاریک سرنگوں میں بسی ہیں جہاں لوگ باگ ہر روز صبح و شام دفتر و اسکول آتے جاتے کئی کئی سو میٹر گہرائی میں اتر کر ان کے ساتھ چھیڑ خوانی کر تے ہیں۔ ان روحوں میں یقینا کنگ ایڈورڈ پنچم اور کوئن میری کی  روحیں بھی ہوں گی۔ جن کے لگائے ہوئے درخت سے کل ہائیڈ پارک میں ملاقات بھی ہوئی۔

پلیٹ فارم پر کھڑا میں ٹرین کا ا نتظار کر رہا تھا کہ اچانک سے گیڈر کے چیخنے کی سی آواز نے اردگرد کی بھنبھاہٹ کا گلا گھونٹ کر ماحول کو  ہیبت ناک بنا دیا۔ مجھے لگا کہ جیسے سراسمیگی پھیل گئی ہو۔ میں نے دوسری طرف دیکھا تو وہاں اندیھرے میں دو چمکتے، تیز روشن دائرے روشنی کا ہالہ بناتے نظر آئے۔ چکاچوند نظروں سے مجھے ایسا لگا کہ جیسے کوئی خطرناک گیڈر شور مچاتا میری طرف بڑھ رہا ہے۔ حواس درست ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ تو زمین دوز ٹرین تھی جو پلیٹ فارم میں داخل ہورہی تھی۔

ان زمین دوز ٹرینوں کا کیا کہنا۔ پیچ پر پیچ اور گہری اندر گہری سرنگوں میں جب بے یہ تحاشہ تیز بلکہ پاگلوں کی طرح دوڑتی ہیں تو سرنگ میں بسی روحوں کی اذیت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ اور اندر بیٹھا انسان، بیٹھے بیٹھے جھومنا شروع کر دیتا ہے۔ اور پھر  مراقبے میں چلا جاتاہے۔ ہر مذہب و مسلک کے لوگ اپنے اپنے مذہبی یا غیر مذہبی عالم نزاع یا ٹرانس میں پہنچ کر عالم بالا سے روحوں سے گفت و شنید سے مستفید ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک سراب کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ اور ان کا رابطہ عالم بالا تک نہ پہنچ سکنے والی بے چین ارواح  سے ہی ہوتا ہے جن کا ان  سرنگوں میں  مسکن ہوتا ہے۔ پتلے پتلے نصف گول تنگ مگر روشن پلیٹ فارموں پر ان زمین دوز ٹرینوں میں لگے شیشے تو آرپار دیکھائی دینے کے کام آتے ہیں۔ مگر جیسے ہی یہ ٹرینیں اندیھری سرنگ میں داخل ہوتی ہیں ان شفاف شیشوں کا نہ صرف رنگ بدل جاتا ہے بلکہ ان کے تیور اور ان کے کام بھی۔ آپ سیٹ پر بیٹھے ان شفاف مرمریں شیشوں میں،  پہلے اپنا عکس دیکھتے ہیں اور پھر آپ کی شکل ایک دم بدل جاتی ہے۔ پہلے آپ کی تصویر درمیان سے دو حصوں میں منقسم ہوکر الٹی ہو کر اس طرح جڑ جاتی ہے جیسے آپ کے سر پر ایک اور سر اگ آیا ہو۔ اسی طرح آپ کے پڑوسی اور دیگر مسافروں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ دراصل یہ وہ ارواح ہیں جو سرنگ سے نکل کر آپ میں اترتی ہیں اور آپ سے ہم کلام ہوتی ہیں۔ ٹرین برق رفتاری سے دوڑتے ہوئے جس طرح بے ہنگم انداز میں ہچکولے کھاتی ہے، وہ یقینا ان روحوں سے بچنے کے ہوتی ہوگی جو سرنگ میں کھڑی ان ٹرینوں کا راستہ روکے کھڑی ہوتی ہوں گی۔ اور جب ٹرین کنی کترا کر آگے بڑھتی ہیں تو یہ روحیں چیخ چیخ کر احتجاج کر تی ہیں۔ ایسی چیخ و پکار، آہ و بکا سننے کے لندن کے باسی تو عادی ہو چکے ہیں بلکہ وہ اس چھیڑ چھاڑ کو صبح وشام ضروری جانتے ہیں۔

لندن کی زمین دوز ٹرینوں میں طبقاتی فرق ہے۔ جو ٹرینیں محل کے آس پاس سیاحوں کی دلبستگی اور خوشنودگی کے لیے چل رہی ہیں وہ شور بھی کم کرتی ہیں ان کے پلیٹ فارم بھی صاف ستھرے چوڑے چوڑے ہیں۔ بلکہ ان میں ائر کنڈیشن کی بھی سہولت ہے۔ مگر انہی زمین دوزٹرینوں میں سے جو مشرقی لندن کے قریب و جوار میں چلتی ہیں، وہ اس قدر شور مچاتی ہیں کہ الامان الحفیظ۔۔ جارج پنچم کی روح بھی شاید یہیں کہیں مشرقی لندن کے قریب کسی سرنگ میں ہی جا بسی ہے۔ اور اپنی بے بسی کا رونا روتی ہے-  جب جارج پنجم کی روح سے ہم نے مکالمہ کیا اور پوچھنا چاہا کہ وہ بریکسٹ کو کیسا سمجھتے ہیں تو بات گول کر گئے۔ کہنے لگے ہمارے بچے کیا کر رہے ہیں سلطنت کی بادشاہت کی نیک نامی کو زک پہنچا رہے ہیں ۔۔۔ یہ ڈائینا اور کیٹ کیا کر رہی ہیں۔