روپے اور اسٹیٹ بنک کی خود مختاری
- تحریر
- منگل 11 / جولائی / 2017
- 3589
ہر روز نِت نئی خبروں کی اس قدر بہتات رہتی ہے کہ پچھلی خبریں یادداشت سے محو ہونے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ ویسے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے بعد کے ممکنہ منظر نامے میں سیاست اور میڈیا کی جان اٹکی ہوئی ہوئی ہے۔ ایسے میں کِسے یاد ہے کہ گزشتہ ہفتے بیٹھے بِٹھائے روپے کی ویلیو میں ایک ہی دن میں تین فی صد کمی آئی۔ مالیاتی مارکیٹیں اور کاروباری حلقے ہل کر رہ گئے۔ اسٹیٹ بنک کا پالیسی بیان تھا کہ روپے کی ویلیو میں یہ کمی مالیاتی مبادیات یعنی Fundamentals کے مطابق ہے ۔ بہت سے ماہرین اور برآمدی شعبے کو یہی لگا کہ دیر آید درست آید لیکن وزیر خزانہ نے اس کا سخت نوٹس لیا بلکہ اسے کسی ایک فرد کی کوتاہی اور Miscommunication سے تعبیر کرکے اسزکی ‘اصلاح ‘ کا عزم ظاہر کیا۔ اس سے اگلے روز انہوں نے بینکوں کے صدور کے ساتھ اجلاس میں انہیں بھی نیک و بد سمجھایا۔ اور یوں روپے کو معمولی ایڈجسٹمنٹ کے بعد تقریباٌ اسی پرانے لیول کے لگ بھگ لا کھڑا کیا۔
اس ایک روزہ کرنسی اتار چڑھاؤ کے بعد روپے کی قدر میں تو بظاہر ٹھہراؤ آ گیا ہے لیکن کئی ایک سوالات اپنی جگہ ابھی تک کھڑے ہیں ۔ اس ایک روزہ چڑھاؤ کا ایک فوری اثر یہ ہوا کہ مرکزی بنک کو نیا گورنر فوراٌ مل گیا۔ سابق گورنر اسٹیٹ بنک کے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد نیا گورنر تعینات کرنے کی بجائے ایکٹنگ گورنر سے کام چلانے کو ترجیح دی گئی۔ پچھلے گورنر کے بعد تین مہینے کی مدت تک حکومت نئے گورنر کو تعینات کرنے کی پابند ہے۔ یوں حکومت ابھی جولائی کے آخر تک اپنا یہ حق استعمال کرنے کے موڈ میں تھی لیکن روپے کی قدر میں یک دم اس کمی کے بعد حکومت نے جھٹ پٹ نئے گورنر کا انتخاب کرکے فوری طور پر تعینات بھی کر دیا۔ اسّی کی دِہائی میں ایک نامور بیوروکریٹ اے جی این قاضی کو پہلی بار اسٹیٹ بنک کا گورنر لگایا گیا، ورنہ بنکنگ اور بالخصوص معیشت کے تجربے کے حامل اشخاص ہی کو اسٹیٹ بنک کا گورنر لگایا جاتا رہا۔ اس کے بعد اب دوسری بار ایک بیوروکریٹ کو گورنر اسٹیٹ بنک مقرر کیا گیا ہے۔ نئے گورنر اسٹیٹ بنک ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ کے ایک کامیاب افسر ہیں۔ پنجاب کے سیکریٹری خزانہ بھی رہے، وفاقی سیکریٹری خزانہ اور ایف بی آر کے عہدوں پر بھی مامور رہے۔
اسٹیٹ بنک ایک خود مختار ادارہ ہے۔ چند دِہایاں قبل اسٹیٹ بنک وزارت خزانہ کے زیرِ اثر تھا لیکن عالمی مالیاتی اداروں کے مسلسل دباؤ کی بناء پر دھیرے دھیرے اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے کے قوانین بھی پاس ہوئے اور بہت حد تک یہ خود مختاری دیکھنے میں بھی آئی۔ اس خود مختاری سے البتہ گاہے گاہے حکومت اور اسٹیٹ بنک کے درمیان تناؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالتے وقت اسٹیٹ بنک کے گورنر ان سے پہلے ہی تعینات تھے اور اپنا کام کر رہے تھے۔ اس حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہورہی تھی، افراطِ زر سمیت کئی بنیادی اشارئیے معاشی مشکلات کے گواہ تھے، حکومت نے اپنے تئیں کئی اقدامات اٹھائے لیکن معیشت بدستور مشکل میں گھری ہوئی تھی۔ ایسے میں اسٹیٹ بنک کی سالانہ رپورٹ میں اسٹیٹ بنک نے حالات کی اصل تصویر کشی کی جس پر حکومت کی ناراضگی سامنے آئی ۔ اپوزیشن نے اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر حکومت کو رگیدنا شروع کر دیا۔ ان ہی دِنوں میں روپے کی ویلیو میں یک دم کمی ہونا شروع ہو گئی، انٹر بنک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کو پر لگ گئے۔ ماہرین اور سٹہ بازوں نے مزید کمی کو نوشتہ دیوار بتانا شروع کر دیا۔ اس وقت وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈالر کو پرانی سطح پر واپس لائیں گے کیونکہ اْس کمی میں سٹہ بازوں اور برآمد کنندگان کے گٹھ جوڑ کا کمال زیادہ تھا اور مالیاتی مبادیات کا کیا دھرا کم تھا۔ شیخ رشید نے تو اسے انہونی قرار دیا کہ اگر واقعی اسحاق ڈار روپے کی ویلیو کو پرانی سطح پر لانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ اپنی پارٹی کی قومی اسمبلی میں اکلوتی نشست سے مستعفی ہونے کا انعام پیش کریں گے ۔ اسحاق ڈار روپے کی ویلیو کو واپس لانے میں کامیاب ہوئے لیکن شیخ رشید نے استعفیٰ کو آلوؤں کی قیمتوں کو بھی واپس پرانی قیمت پر لانے سے مشروط کر دیا۔ رات گئی بات گئی۔
سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، اسے اپنے تمام اقدامات کی وجہ سے ہر طرف بہتری کو ثابت کرنا اور کریڈٹ لینا ہوتا ہے۔ معیشت مگر بڑی ظالم شے ہے، کبھی حکومت کی حسبِ خواہش بہتری ہوتی ہے اور کبھی اس سے الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بنک کو سہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ رپورٹس معیشت کے بارے میں جاری کرنا ہوتی ہیں۔ بس یہیں وہ مقام آتا ہے کہ اسٹیٹ بنک کی خودمختاری کی آزما ئش شروع ہو جاتی ہے۔ حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ سب اچھا لکھا جائے لیکن عالمی ادارے اور ماہرین کی خواہش کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا والا معاملہ ہو۔ ایسے میں اسٹیٹ بنک کو اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنے کے لئے بڑی احتیاط اور ہمت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ سیاسی حکومتوں کا اپنا مزاج ہوتا ہے، ایسے میں درپردہ دباؤ اور انتظامی اختیارات کی ڈوریاں ہی حکومت کے کام آتی ہیں۔ مرکزی بنک کی نظامت کے لئے انتہائی اعلیٰ درجے کے مالیاتی، معاشی اور بنکنگ کے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عالمی مالیاتی اور بنکنگ نظام وقت کے ساتھ ایک دوسرے سے مربوط اور انتہائی حساس ہوتا جا رہا ہے۔ پالیسی معاملات میں حکومت وقت کے اپنے قلیل مدت سیاسی اہداف مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مرکزی بنک سے یہی توقع کی جا تی ہے کہ وہ اپنی آزادانہ حیثیت میں پالیسی معاملات پر پوزیشن لے۔ گزشتہ دو دِہائیوں میں جو بری بھلی خودمختاری اسٹیٹ بنک نے حاصل کی، نئے گورنر کا چیلنج ہوگا کہ وہ کس طرح اس خودمختاری کی حفاظت کر پاتے ہیں۔
روپے کی قدر معمولی ایڈجسٹمنٹ کے بعد اپنے لیول کے قریب واپس آگئی ہے۔ اس واپسی میں انتظامی اقدامات اور وزیر خزانہ کی ذاتی کوششیں شامل ہیں لیکن ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روپے کی اصل ویلیو کی بجائے اسے مصنوعی طور پر زیادہ ویلیو پر رکھ کر معیشت کی خدمت نہیں ہو رہی ۔ معیشت میں اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم بہت زیادہ ہے۔ تین فی صد کی ڈی ویلیوایشن سے قرضوں کے بوجھ میں روپوں کی صورت میں 230 ارب کا اضافہ ہوا۔ کرنسی کی ویلیو کو اسی سطح پر رکھنے کا اصرار کا یہ ایک پہلو ہے جبکہ دوسری طرف معیشت اور مالیات کے اپنے تقاضے ہیں۔ اصولاٌ کرنسی کی ویلیو دیگر کرنسیوں اور مالیاتی مبادیات کی بناء پر مارکیٹ کے خودکار نظام کے تحت متعین ہونی چاہئے ۔ مصنوعی طور پر روپے کی ویلیو کم رکھنے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ برآمدات کو عدم مسابقت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ دوسری طرف تجارتی پالیسیوں کی ترجیحات ہمیں اس مقام پر لے آئی ہے کہ ایک عام فروٹ شاپ پر سیب نیوزی لینڈ اور چین کا دستیاب ہے۔ کیلا بھی چین اور جنوبی افریقہ کا دستیاب ہے، جوتے کپڑوں سے لے کر روزمرہ کی ہر شے درآمد شدہ ہے۔ بیس کروڑ آبادی کے ملک میں زراعت اور صنعت کا مناسب ڈھانچہ ہونے کے باوجود کے باوجود درآمدات کی بیش بہا آسانی نے ملکی معیشت کو بقول کچھ ماہرین کے ٹریڈنگ مارکیٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ بیس پچیس سالوں سے ایسی پالیسیوں کا تسلسل اب ہمیں یہاں لے آیا ہے کہ گزشتہ سال تجارتی خسارہ تیس ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا جبکہ کل برآمدات فقط بیس ڈالرز کے لگ بھگ رہیں۔
تسلیم کہ روپے کی مستحکم ویلیو سے بیرونی قرضوں کا حجم بیٹھے بٹھائے نہیں بڑھتا۔ درآمدات پر بے تحاشا انحصار کے باوجود روپے کی ویلیو پر کنٹرول کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ قدرے کنٹرول میں ہے۔ اسٹیٹ بنک اور حکومت افراطِ زر کی اس کم شرح کو معاشی نظامت کے استحکام کا ایک انڈیکیٹر بتاتے ہیں لیکن معاشی اور مالیاتی انڈیکیٹرز کے اپنے قدرتی تقاضے ہیں جس میں روپے کی ویلیو مارکیٹ کے مطابق مقرر ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں ہمارے مقابل ملکوں کی کرنسیوں میں اسی بناء پر ایڈجسٹمنٹ ہوتی رہتی ہے لیکن روپے کی ویلیو کو مصنوعی طور پر فکس کرنے سے اب پاکستانی کرنسی بقول آئی ایم ایف اور ماہرین اوور ویلیو ہے جو برآمدات اور معیشت کے لئے اچھا شگون نہیں ہے ۔
اگر حکومت روپے کے ویلیو کو اپنی انا اور سیاسی پوزیشن کا مسئلہ بنانے پر مصر رہی تو جلد یا بدیر حکومت، معیشت اور عوام کو اس کے تکلیف دہ اثرات کا سامنا کرنا ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ معیشت کو معیشت اور مالیات کے اساسی اصولوں پر ہی چلایا جائے۔