دورہ پونچھ: مشاہدات و تاثرات
یوں تو برطانیہ سے واپسی کے بعدپونچھ میں متعدد اجتماعات و تقریبات میں شرکت کی لیکن یہ دورے صرف جائے تقریب تک محدود رہے۔ کئی بار مختلف دوست احباب نے ذاتی دعوتیں دیں مگر حالات نے اجازت نہ دی ۔ میری بڑی بیٹی دس سالہ مومنہ نے چار سال کی عمر میں ہمارے ساتھ بن جوسہ کی سیر کی تھی ۔ اس نے اپنی چھوٹی بہنوں چھ سالہ امینہ اور چار سالہ سلویہ کے ساتھ کشتی سواری کا کئی بار زکر کیا ۔ ان کا اصرار تھا کہ وہ بھی بن جوسہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ ذاتی زندگی کے حوالے سے یہ تین معصوم بیٹیاں میری کل کائنات ہیں جن کی ہر جائز خوائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
پونچھ کے متعدد دوستوں کی طرف سے وقتا فوقتا دعوتیں ملتی رہتی تھیں۔ لہذا میں نے دوستوں اور بیٹیوں کی خواہش کو ایک کمبائنڈ وزٹ کے طور پر پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ طویل اور مشکل سفر کے باعث اپنے مخلص دوست صحافی شہزاد ملک سے بات کی۔ شہزاد ملک کھوئیرٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کا تعلق ایک تحریکی خاندان سے ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی عرفان انجم المعروف ثاقب وطن عزیز کی آزادی کی خاطر موجودہ تحریک کے دوران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ میں ہمراہ بیٹیوں اور اہلیہ اپنے اس مخلص دوست اور ان کی اہلیہ کے ساتھ نو جولائی کو کھوئیرٹہ سے پونچھ کے لیے نکلا۔ تتہ پانی پل کوٹلی اور پونچھ کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریسٹ ہاؤس ہے۔ یہ ریسٹ ہاؤس دریائے پونچھ سے کچھ ہی فٹ کی بلندی پر ہے۔ دریا کے ساتھ ہی ایک چشمہ ہے جہاں صدیوں سے اتنا گرم پانی نکلتا ہے کہ بقول سیاحوں کے لوگ اس کے اوپر برتن رکھ کر انڈے پکا لیتے ہیں۔ یہ بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ گرم پانی خارش اور دیگر کئی جسمانی بیماریوں کے لیے باعث شفاء ہے۔
ایک گھنٹہ قیام کے بعد ہم تتہ پانی ریسٹ ہاؤس سے سعودی عرب سے آئے اپنے ایک تحریکی دوست طاہر یعقوب کے گھر نمب گئے۔ طاہر یعقوب طائی گاؤں کی سڑک پر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ طائی گاؤں کے پانچ فوجی سن پینسٹھ کی جنگ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ پاکستانی فوج نے ان کے خاندانوں کے نام ان فوجیوں کی شہادت کے سرٹفکیٹ بھی جاری کر دئیے تھے لیکن ہم نے کشمیر کی آزادی کی جب تحریک شروع کی تو ہمارے کچھ ساتھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گرفتار ہوئے جنہوں نے بتایا کہ مذکورہ پانچ فوجی بھارتی جیلوں میں زندہ ہیں۔ میں نے اپنے کالموں اور بی بی سی کے ذریعے ان بد قسمت کشمیری قیدیوں کا مسئلہ اجاگر کیا تو تتہ پانی سے تعلق رکھنے والے شاہد ملک نے میرے ساتھ رابطہ کیا۔ جنہوں نے بعد ازاں ان فوجیوں کے خاندانوں کے ساتھ میری ملاقات کروائی اور میں نے بی بی سی کے نمائندہ محمد ذوالفقار کی ان خاندانوں سے تفصیلی ملاقات کروائی ۔ بی بی سی نے ایک مفصل رپورٹ نشر کی۔ انسانی حقوق کے وکیل بھیم سنگھ رکن اسمبلی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ متعدد خطوط کا تبادلہ ہوا۔ انہوں نے بھارتی عدالت میں ان کشمیری فوجی قیدیوں کو پیش کرنے کے لیے رٹ کی۔ بھارتی حکومت ٹال مٹول کرتی رہی۔ میں نے اس وقت کی پاکستان کی وزیر داخلہ حنا ربانی کھر کو خط لکھا اور حزب اختلاف کی بڑی پارٹی مسلم لیک (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق سے ملاقات کی مگر پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ (ن) نے بھی اقتدارمیں آ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
اس بار جب ان قیدیوں کے گھروں کے قریب سے گزرا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہمارے میزبان طاہریعقوب کا ایک نوجوان بھائی ستمبر الیون والے دن بھارتی گولہ باری سے اپنے گھر کے صحن میں اپنی ماں کے سامنے شہید ہو گیا تھا۔ یہ دکھ بھری روئیداد بھی سنی اور اب آئے روز پاک بھارت دو طرفہ گولہ باری کی داستان بھی سنی۔ ہم نے ان درختوں کے نیچے کھڑے ہو کر تصاویر بنوائیں جن میں سے کچھ بھارتی گولہ باری کا نشانہ بن چکے تھے۔ طاہر یعقوب کی والدہ کو کو جب پتہ چلا کہ میں بھی 22 سال سزا کاٹ چکا ہوں تو وہ میری اہلیہ کے پاس بیٹھ کر روتی رہیں۔ میری خواہش تھی کہ پونچھ کے تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ پر دوران سفر کچھ تحقیقی کام بھی کر لوں لیکن باغ سے راجہ مبشر ارشاد خان کا فون آیا کہ ان کے والد راجہ محمد ارشاد خان جو کوٹلی میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں اور اس وقت چیف ایڈمنسٹریٹر محکمہ زکوۃ ہیں، وہ سوموار صبح مظفرآباد ڈیوٹی پر واپس چلے جائیں گے اور ان کی خواہش ہے کہ ہم رات باغ چلے آئیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث ہم نے مدار پور کا لمبا روٹ لیا۔ میزبانوں نے مشورہ دیا کہ مدار پور سڑک بہ نسبت بہتر مگر ان دنوں گولہ باری کے باعث خطرناک سڑک ہے۔ ہم نے کہا اگر ہمارے ہم وطن بہن بھائی بندوق کے سائے تلے زندگی گزار سکتے ہیں تو ہم کار کے چند منٹ سفر سے کیوں خائف ہو جائیں۔
مدار پور پل پر ہماری کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا تو پاس سے گزرنے والے ایک مرد نے کہا یہاں زیادہ دیر نہ رکیں۔ چند افراد کو کسی جگہ اکٹھا دیکھ کر بھارتی فوجی فائرنگ کر سکتے ہیں۔ شام آٹھ بجے ہم ارجہ پہنچے جہاں سرکاری ہسپتا ل کے بہئر مبشر ارشاد خان ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہمیں اپنی کار وہاں کھڑی کرنا پڑی کیونکہ راجہ محمد ارشاد خان کے خوبصورت علاقہ کلس جانے والی سڑک پکی نہیں ہے۔ زلزلہ کے بعد باغ میں بہت ہی معیاری سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ وہاں کے رکن اسمبلی سردار عتیق احمد خان نے دانستہ طور پر اس علاقہ کو نظر انداز کررکھا ہے۔ راجہ ارشاد خان کوٹلی میں ڈی سی رہنے کے بعد باغ میں ڈویلمنٹ افیسر کے فرائض بھی سر انجام دے چکے ہیں۔ اگر وہ بھی کرپٹ سیاستدانوں کی تقلید کرتے تو شاید اپنے ادارہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سڑک تعمیر کرنے یا کروانے کا کوئی راستہ نکال لیتے۔ مگر لگتا ہے ان کی دیانتداری آڑے آئی۔
رات کو ہم نے راجہ ارشاد خان صاحب کے گھر قیام کیا۔ حکومت کے اس بڑے افسر کا دیسی ماحول ہمیں بہت پسند آیا۔ یہ ان کے اخلاق کا نتیجہ ہی تھا کہ پہلی باران کے گھر جانے والی میری کم عمر بیٹیاں چند لمحوں میں پوری فیملی کے ساتھ گھل مل گئیں۔ راجہ محمد ارشاد خان ایک بازوق اور باوقار شخصیت ہیں۔ ان کے سارے بیٹے اعلی تعلیم یافتہ اور ایک بہو جج ہیں۔ ناشتہ کے بعد ہم اپنی بیٹیوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے بن جوسہ چلے گئے راستہ میں قلم کار سردار جاوید خان کی دعوت پر راولاکوٹ ٹورازم ہوٹل پر چائے کے لیے رکے۔ بن جوسہ پہنچے جہاں پنجاب سے آنے والے سینکڑوں سیاح موجود پائے۔ بن جوسہ آزاد کشمیر کا انتہائی خوبصورت سیاحتی مقام ہے جہاں گرمیوں میں قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ یہاں متعدد ریسٹ ہاؤس ہیں جن کے اندر شاید ماحول قدرے بہتر ہوگا لیکن باہر کا ماحول دیکھ کر سیاحوں کے سامنے ایک عزت دار شہری کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس خوبصورت علاقے کی طرف جانے والی ہر سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پارکنگ ایریا کیچڑ سے بھرا پڑا تھا۔ کنٹین اور کیفے کے سامنے ایریا بھی کچا ہے ۔ جگہ جگہ پانی رکا ہواہے جس سے بد بو آتی ہے۔ ٹائلٹ اور اس کے دروازے کی کنڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ایک فرد اندر پیشاب کرنے جائے تو دوسرے کو باہر پہرا دینا پڑتا ہے۔ ڈسٹ بن نہ ہونے کی وجہ سے سیاح کھا پی کوڑا کرکٹ گھاس پر یا جھیل کی نذر کر دیتے ہیں۔ بلند و بالا درختوں کے علاوہ ہر وہ چیز جس پر انسانوں کے ہاتھ پہنچ سکتے ہیں وہ گندی نظر آتی ہے۔
باوقار قوموں نے صحراؤں کو بھی قابل ا میں بدل دیا ہے لیکن افسوس کہ ہم نے اپنے وطن کے قدرتی حسن کو بھی تبا ہ و برباد کر دیا ہے ۔ دیکھنے والوں کے ذہنوں میں یقیناًہماری ذہنی صحت کے بارے میں کئی سوالات جنم لیتے ہوں گے۔ حکومت سے کوئی زیادہ توقع تو نہیں لیکن پھر بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان فوری طور پر وزیر سیاحت کو سیاحتی علاقوں کا دورہ کرنے کا حکم جاری کریں اور ٹورازم انڈسٹری کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
میرپور ڈویژن کے نسبت پونچھ کے جنگلات کٹائی سے محفوظ ہیں جس کے لیے پونچھ کے باشعور عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ موسم کی اچانک خرابی کے باعث آثار قدیمہ پر تحقیقی کام اور پونچھ کے دوسرے تاریخی مقامات کی سیر کا ارادہ ترک کرکے ہم واپس کھوئیرٹہ آ گئے لیکن وقت اورحالات نے ساتھ دیا تو انشااﷲ پونچھ کے باقی دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی اور ریاست جموں کشمیر کے اس تاریخی خطے کے تاریخی ورثہ پر بھی تحقیقی کام ہو گا۔