پاناما فیصلہ نئے بحران جنم دے گا

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ آنے بعد بھی نئے نئے خدشات اور سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ جن پر سپریم کورٹ، جے آئی ٹی کے ارکان اور اُن کے ادارے، پانامہ کیس کے فریقین، حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں غور کر رہی ہیں اور عوام بھی ان سے لاتعلق نہیں ہیں بلکہ اُن کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات بھی عوامی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ خدشات اور سوالات اپنے جوابات چاہتے ہیں۔ کچھ جوابات سپریم کورٹ کاحتمی فیصلہ آنے پر سامنے آ جائیں گے اور باقی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منظر پر آتے رہیں گے۔ تاہم یہ سوالات اور اِن سے جڑے ہوئے خدشات عوام کے ذہنوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ یہی پریشانی آج ایک بحران کی شکل میں ہمارے سامنے ہے اور بڑا سوال یہی ہے کہ کیا حتمی فیصلہ آنے کے بعد یہ بحران ختم ہو جائے گا، یا اُس کی کوکھ سے نئے بحران جنم لیں گے۔ زیادہ خدشات یہی ہیں کہ بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ نئے بحرانوں کو جنم دے گا۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ فیصلے کے بعد کیا ہو گا۔

سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ ابھی تک قطری شہزادے کا بیان، دبئی قطر، جدہ اور لندن کے بینکوں اور ٹیکسوں کا مکمل ریکارڈ اور کئی دوسرے متعلقہ افراد اور اداروں کے بیانات اور ریکارڈ آنا باقی ہیں۔ ایک سوال یہ بھی کہ اگر شریف خاندان یہ سمجھتا ہے کہ لندن فلیٹس کا راستہ قطر سے ہو کر جاتا ہے تو کیا انہوں نے یہ منی ٹریل فراہم کر دی ہے اور اگر جے آئی ٹی ان خطوط پر کام کر رہی تھی کہ لندن فلیٹس کا راستہ حدیبیہ شوگر ملز سے ہو کر جاتا ہے تو کیا انہوں یہ منی ٹریل تلاش کر لی ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ کی طرف سے اٹھائے گئے 13 کے 13 سوالات کا جواب فراہم کردیا ہے اور کیا یہ شافی جواب ہے۔ ایسا جواب جس سے سپریم کورٹ مطمئن ہو جائے۔

اگر رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ ابھی رپورٹ مکمل نہیں ہے یا اس میں متذکرہ 13 سوالات کے شافی جوابات نہیں ہیں تو سپریم کورٹ جے آئی ٹی کو مزید تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرسکتی ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی شافی رپورٹ کے بعد اپنا فیصلہ سنا دے گی یا اس رپورٹ پر مدعیان اور شریف خاندان کے وکلا کو اپنے اپنے دلائل دینے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ سپریم کورٹ وکلا کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دے گی تاکہ کسی کو اعتراض نہ رہے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے اور انصاف ہوتا ہوا نظرآئے۔

اس دوران فریقین بعض نئے نکات بھی اٹھائیں گے۔ خاص طور پر شریف خاندان جے آئی ٹی کے رویے، اُس کی غیر جانبداری، پیشہ ورانہ مہارت، تفتیش کے انداز، مخالفین کے الزامات کو مبینہ طور پر رپورٹ کی بنیاد بنانے یا اُن کو اہمیت دینے جیسے اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ اِن نکات، اعتراضات اور تحفظات کو کوئی اہمیت دے گی یا نہیں۔ اگر اعتراضات سنے گئے تو کیس میں کچھ طوالت آ جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو متعلقہ فریق کے تحفظات میں ایک اور اضافہ ہو جائے گا۔ خیال یہی ہے کہ سپریم کورٹ ان تحفظات کو سنے گی تو ضرور مگر انہیں جلدی جلدی نمٹا دے گی تاکہ فیصلے میں تاخیر نہ ہو۔

اب اگلا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دے گی اور اُس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اس سے قبل ایک قانونی نکتہ یہ بھی ہے کہ چونکہ پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے 5 رکنی بنچ کے دو ارکان وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ دے چکے ہیں تو اگر موجودہ تین رکنی بنچ کے ایک رکن بھی اس طرح کا فیصلہ دیتے ہیں توکیا اسے پانچ رکنی بنیادی بنچ کا حصہ سمجھتے ہوئے اکثریتی فیصلہ مانا جائے گا یا یہ فیصلہ اس وجہ سے غیرمؤثر ہو جائے گا کہ یہ موجودہ بنچ کا اقلیتی فیصلہ ہوگا۔ اگر موجودہ بنچ کے دو یا تینوں ارکان وزیراعظم کی نااہلی ضروری نہیں سمجھتے تو یہ فیصلہ موجودہ اور سابقہ دونوں بنچوں کا اکثریتی فیصلہ ہو کر موثر ہوجائے گا اور اس سے وزیراعظم بچ جائیں گے اور اگر دو یا تینوں ارکان نااہل ضروری سمجھتے ہیں تو یہ دونوں بنچوں کا اکثریتی فیصلہ بن جائے گا اور اگربنچ کے ایک رکن نے نااہلی کا فیصلہ دیا تو یہ قانونی نکتہ پیدا ہوگا کہ یہ مؤثر ہے یا نہیں، کیونکہ یہ موجودہ بنچ کا اقلیتی تاہم سابقہ بنچ کا اکثریتی فیصلہ ہو جائے گا۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ فیصلہ کیا آتا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق تین طرح کے فیصلے آ سکتے ہیں۔ وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ انہیں کلین چٹ مل جائے یا پھر کچھ تنبیہ اور سرزنش کے بعد کام کرنے کی اجازت مل جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تینوں کے اثرات کیا ہوں گے۔ اور کیا ان میں سے کوئی فیصلہ آنے سے بحران ٹل جائے گا یا نہیں۔

اگروزیراعظم کو کلین چٹ مل جاتی ہے تو اپوزیشن فیصلے کو ماننے کے رسمی اعلان کے باوجود مشتعل اور متحرک ہو جائے گی۔ وہ حکومت کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی فضا تیار کرے گی اور اس فیصلے کو انتخابی ایشو بنا دے گی۔ ایسی صورت حال میں حکومتی حلیفوں اور حریفوں میں نئی صف بندی ہوگی۔ کچھ حکومتی حلیف اپوزیشن میں جا سکتے ہیں اور کچھ حریف اپوزیشن کو چھوڑ سکتے ہیں۔ میڈیا کو گڑھے مردے اکھاڑنے کا موقع مل جائے گا۔ حکومت اپنے جاری ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرے گی مگر اس کی ساری توجہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ پر ہوگی۔ خاص طور پر سی پیک منصوبے کی رفتار متاثر ہوگی۔ اس ہنگامہ خیزی میں غیرملکی سرمایہ کاری کا رجحان بھی کم ہو جائے گا جبکہ حکومت اگلی پیش بندی کے طور پر ہر ادارے میں اپنے حامی تلاش کرے گی یا تعینات کرے گی جو اپوزیشن کو ایک موقع فراہم کر دے گا۔
اور اگر فیصلہ تنبیہ اور سرزنش کی صورت میں آتا ہے تو اس سے نہ حکومت مطمئن ہوگی نہ اپوزیشن۔ حکومت ڈر ڈر کر کام کرے گی اور اپوزیشن نئی منصوبہ بندی کرے گی اور نئے ایشوز تلاش کرے گی یا بنائے گی۔ ایسی صورت میں اپوزیشن اتحاد بہتر اور موثر ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف قریب آ سکتی ہیں۔

تاہم اگر فیصلہ وزیراعظم کی نااہلی کی صورت میں آتا ہے تو یہ یقیناً بہت بڑا فیصلہ ہوگا اور اس کے اثرات بھی اتنے ہی بڑے اور دیرپا ہوں گے۔ اپوزیشن خوشی کے شادیانے تو بجائے گی، مگر ہر پارٹی کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گی جس سے اپوزیشن اتحاد پہلے غیر موثر اورپھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ حکومت اس فیصلے کوقبول نہ کرتے ہوئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت کے طور پر میدان میں اترے گی اور یکایک حکومتی جماعت ایک اپوزیشن جماعت میں بدل جائے گی۔ اس کے لہجے میں تلخی آئے گی۔ مسلم لیگ (ن) کوایک مشکل مرحلے کا سامنا ہوگا۔ اُس کے بہت سے ELECTABLES دوسری جماعتوں میں چلے جائیں گے۔ تاہم اُسے نئے اور پُرجوش کارکن بھی مل جائیں گے۔ اگرچہ اُس کے کچھ کارکن مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے، لیکن کچھ مشتعل ہو کر سرگرم و متحرک ہو جائیں گے۔ ایسے میں موجودہ ترقیاتی منصوبے عملاً رُک جائیں گے۔ نئی بننے والی حکومت کی ترجیحات میں بھی یہ منصوبے شامل نہیں ہوں گے۔

چینی حکومت یقیناً سی پیک منصوبے کو آگے بڑھانا چاہے گ، لیکن ظاہر ہے کہ وہ نئی حکومت یا انتظامیہ کے ساتھ اُس طرح کام نہیں کر سکے گی۔ اسے اس سطح تک آنے کے لیے یقیناً کچھ وقت لگے گا۔ نئی حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانا بھی چاہے گی تو اسے یہ یقین دلانے اور اعتماد حاصل کرنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئی آزمائش سے گزریں گے اور اُس کے لیے پہلے سے مختلف حکمت عملی سامنے آئے گی۔ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا پڑے گا۔ جبکہ امریکہ، چین اور روس بھی پاکستان کے حوالے سے اپنی نئی ترجیحات متعین کریں گے۔ اس لیے لگتا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ بھی آئے ہمارا بحران ٹلے گا نہیں۔ شاید نئی شکل اختیار کر لے!