پانامہ، جے آئی ٹی اور حکمران

عملی طور پر پانامہ کا مقدمہ پاکستان کی داخلی سیاست میں ایک بڑے گیم چینجر کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس مقدمہ کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی ۔  کیونکہ ہمارا ذہن عمومی طور پر نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور ہم روائیتی انداز میں معاملات کو دیکھنے کے عادی  ہیں ، اس لیے نئے فہم کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ایک عمومی خیال یہ تھا کہ پانامہ کے مقدمے میں سپریم کورٹ ، ریاستی ادارے ، جے آئی ٹی نظریہ ضرورت کے تابع ہوکر وہی کچھ کرے گی جو ماضی کی سیاست کا حصہ تھا ۔ لیکن اب  جو کچھ ہورہا ہے کہ یہ روائیتی سیاست اور نتائج کے برعکس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ان معاملات کو قبول کرنے میں کافی مشکل کا سامنا ہے ۔

سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کے مقدمہ میں قائم کی گئی ’’ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ‘‘ یعنی جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے نتائج شریف خاندان اور حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور قانونی دھچکا ہے ۔ رپورٹ کے نتائج شریف خاندان کے لیے غیر متوقع نہیں تھے ۔ اس لئے حتمی رپورٹ کے نتائج سے قبل ہی اس کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے سیاسی رفقا کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ جنگ کسی بھی صورت قانونی محاذ پر نہیں جیتی جاسکے گی ۔ اسی خطرہ کے پیش نظر وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی ٹیم نے اس جنگ کو قانونی محاذ سے نکال کر سیاسی محاذ پر لے گئی تھی۔  پانامہ اور جے آئی ٹی کو سازشی کھیل ، اسٹیبلیشمنٹ اور مخالفین کے گٹھ جوڑ سے جوڑ کر اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ معاملہ احتساب کا نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا ہے ۔

اگرچہ جے آئی ٹی کی یہ حتمی رپورٹ اوراس میں دی گئی سفارشات کی حیثیت محض ایک تفتیشی ٹیم کی رپورٹ ہے اور فیصلہ ہر صورت میں ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے ہی کرنا ہے ۔ یہ پانامہ کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی اور قانونی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ بن کر سامنے آیا ہے ۔ اس کا جو بھی حتمی نتیجہ سپریم کورٹ دے گی وہ موجودہ سیاسی صورتحال میں  بڑے بھونچال  پیدا کرے گا ۔ حکومت نے فوری طور پر جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے نتائج کو مسترد کرکے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اصولی طور پر تو حکومت کو اگر واقعی اس جے آئی ٹی پر اعتراض تھا تو اسے بہت پہلے ہی اسے چیلنج کرنا چاہیے تھا ۔ لیکن اب جب جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ دے چکی ہے تو اس کو چیلنج کرنا خود سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد سمیت حکومت میں شامل افراد نے پانامہ کے تناظر میں اپنی صفائی میں جو کچھ عدالت اور جے آئی ٹی میں پیش کیا اس کی صحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا ہے ۔ جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے تمام افراد پر لگائے گئے تمام الزامات کی تصدیق کی ہے  جو  شریف خاندان اور ان کی حکومت کی سیاسی ، قانونی، اخلاقی  ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ نیلسن ، نیکسول کی مالک مریم نواز کا ہونا، جعلی ٹرسٹ ڈیکلریشن کا جمع کروانا ، ذرائع آمدن کو ثابت نہ کرسکنا، نواز شریف ، مریم ، حسین ، حسن کے خلاف نیب کو ریفرنس بھیجنے کی سفارش، چیرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کے خلاف دستاویزات میں ردوبدل پر مقدمہ  ،وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی دولت اور ذرائع آمدن میں واضح فرق، یو اے ای کی وزرات کا قطری شہزادے کے خط کے جواب میں جوابی خط، قطری شہزادے کو بطور گواہ پیش نہ کرنا، نواز شریف کی جانب سے کاروبار نہ کرنے کے موقف کا مسترد ہونا، اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ  اثاثوں اور ڈکلیر اثاثوں میں واضح فرق ، لندن فلیٹس کی ملکیت ، تحفے تحائف ، قرضوں سمیت رقوم کی منتقلی میں  بے ضابطگیاں ، حدیبیہ ملز سمیت نئے مقدمات کا ری اوپن ہونا ، مریم نواز کا خود آف شور کمپنیوں کا بینیفیشر ہونا ، نواز شریف کی اپنی آف شور کمپنی ، شریف خاندان کی جانب سے پیش کردہ جعلی خریداری کے معاہدے کی توثیق، حسین نواز اور مریم نواز کی جانب سے دستخط شدہ ٹرسٹ ڈیڈ کا جعلی ہونا سمیت کی معاملات شامل ہیں ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے طے شدہ ساٹھ دنوں میں جو سب سے زیادہ اہم کام دستاویزاتی شکل میں کیا ہے، ان میں ان معاملات کی تصدیق، فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی برٹش ورجن آئی لینڈ، جبل علی فری ٖزون اتھارٹی ، متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف، برطانیہ کے فارنسک ماہرکی رپورٹ کے مطابق شامل ہے جو جے آئی ٹی نے اپنی شفافیت کے حوالے کروائی ہے ۔ جے آئی ٹی نے تمام ثبوت، شواہد، دستاویزات، ویڈیوز اور دیگر ضروری لوازمات سپریم کورٹ میں جمع کرواکر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ گیند اب سپریم کورٹ کے کورٹ میں ہے۔  حتمی رپورٹ کے نو والیم میڈیا میں زیر بحث ہیں، اس سے شریف خاندان کی مشکلات سمیت لوگوں کو بھی اندازہ ہوا ہے کہ شریف خاندان کے پاس اپنی صفائی میں کوئی ٹھوس شواہد پر مبنی مواد نہیں ۔

اگرچہ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ یہ تفتیش پر مبنی رپورٹ ہے اور سپریم کورٹ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ تفتیش کے ان تمام نکات کو من وعن تسلیم کرے ۔ لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ عدالت اپنی ہی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر کوئی بہت زیادہ چیلنج کرسکے ۔ کیونکہ جو رپورٹ آئی ہے اس میں محض کمنٹری ہی نہیں بلکہ دستاویز پر مبنی شواہد بھی ہیں ۔ اب اگر نواز شریف اور ان کے خاندان کو اس رپورٹ کو چیلنج کرنا ہے تومتبادل شواہد دینے ہوں گے ۔ جے آئی ٹی کو محض متنازعہ کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ حکومت اس تاثر کو مضبوط بنارہی ہے کہ صرف احتساب نواز شریف اور ان کے خاندان کا ہورہا ہے ، اس عمل کو کسی بھی صورت ایک خاندان تک محدود نہیں رہنا چاہیے ، احتساب بلاتفریق سب کا ہونا چاہیے۔

اب جیسے ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ دوبارہ اپنی کارروائی شروع کرتی ہے تو اس میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ایک ٹکراؤ بھی نظر آرہا ہے جس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو چیلنج کرنا ، موجودہ بنچ پر اعتراض، فل بنچ کی تشکیل جیسے معاملات بھی شامل ہیں ۔ اگرچہ اب حکومت قانونی محاذ پر بھی لڑے گی ، لیکن اس کی اصل حکمت عملی سیاسی میدان ہے ۔ حکومت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ قانونی محاذ ان کا کمزور ہے اور سیاسی محاذ پر اس مسئلہ سے بچا جاسکتا ہے ۔ قانونی ماہرین کے بقول اب نواز شریف کا سیاسی ، اخلاقی ، قانونی مقدمہ کافی کمزور ہوگیا ہے اور ان پر بطور وزیر اعظم مستعفی ہونے کا دباؤ یا نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ وہ شاید ہی اس سے بچ سکیں گے ۔ لیکن کیا وہ کوئی متبادل راستہ  اختیار کرتے ہیں یا ٹکراؤ کی پالیسی ، یہ فیصلہ ان کو کرنا ہوگا ۔

جیسے جیسے عدالتی کاروائی بالخصوص حدیبیہ ملز، حدیبیہ انجیرنگ سمیت ایس ای سی پی کے معاملات آگے بڑھیں گے تو شہباز شریف سمیت  خاندان کے دیگرافراد بھی اس کے شکنجے میں آسکتے ہیں ۔ ایک مسئلہ پارٹی کو برقرار رکھنا ہے ، کیونکہ اگر کوئی فیصلہ نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو اس میں بڑا امتحان پارٹی کو بچانا ہوگا۔ تاریخ یہ  بتاتی ہے کہ مسلم لیگ ایک بڑا دھڑا ہمیشہ سے بحران میں مبتلا قیادت کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے متبادل راستہ اختیار کرتا ہے ، جو نواز شریف کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔

نواز شریف کے  آپشن محدود ہورہے ہیں ، وہ بری طرح پانامہ کیس میں جکڑے ہوئے ہیں۔ نکلنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ اگر واقعی وہ جمہوری نظام کا تسلسل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت بھی برقرار رہے تو ان کے پاس تین آپشن ہیں ۔ اول وہ سیاسی اور اخلاقی طور پر خود کو وزرات اعظمی سے مستعفی ہوکر اپنی جماعت میں سے نئے وزیر اعظم کا اعلان کردیں ۔ دوئم وہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوکر جے آئی ٹی کے لگائے گئے الزامات کا جواب دے کر اپنی شفافیت کو ثابت کریں ۔ سوئم فوری طور پر نئے انتخابات کا راستہ اختیا ر کریں۔ لیکن اگر وہ محاز آرائی یا ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے جمہوری نظام متاثر ہوگا اور اس کی بڑی ذمہ داری خود نواز شریف پر ہوگی ۔