حالاتِ حاضرہ کو کئی سا ل ہو گئے

  • تحریر
  • جمعہ 14 / جولائی / 2017
  • 6633

ماہرین ہمیں ہمیشہ اعدادوشمار کی مدد سے بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے یعنی ساٹھ فی صد کے لگ بھگ۔ ان میں سے پندرہ سے چوبیس سال کے زیادہ تر نوجوانوں کی اکثریت پڑھی لکھی بھی ہے اور ہنگامہ خیز شہروں میں رہتے ہوئے حالاتِ حاضرہ کے بار ے میں دلچسپی بھی رکھتی ہے۔ ایک خصوصیت اس جواں عمر آبادی کی یہ بھی ہے کہ اس نے ماضی کے بہت سے واقعات کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا ہوتا ۔ لہٰذا ہر نئے سیاسی یا سماجی بکیھڑے پر ان کی حیرت دیدنی اور جذباتی وارفتگی بڑی شدید ہوتی ہے۔ عمر کی چند سیڑھیاں زائد چڑھنے کے بعد انہی واقعات کی بار بار موجودگی یا دوہرائے جانے کے عمل کی وجہ سے قدرے بڑی عمر کے لوگوں کا ایسے واقعات پر ردِعمل اس قدر حیرت اور جذبات سے پْر نہیں ہوتا جس پر وہ اکثر جواں عمر طبقے کی تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں کہ یہ بے حس ہیں یا جذبے سے عاری۔

اکثر نوجوانوں نے سیاسی جوار بھاٹا اور الزامات کی بارش کو پہلی بار اس قدر قریب سے دیکھا بلکہ چوکس اور مستعد میڈیا کی مدد سے لمحہ بہ لمحہ دیکھا۔ خبروں میں گندھی خواہشیں، پروپیگنڈا اور مخصوص رنگ سمیت حالاتِ حاضرہ اور خبروں کی بہتات نے ہم سے اکثر کے اندر تحرک یعنی Activism کو مہمیز کر دیا ہے۔ اللہ بھلا کرے ہر سمارٹ فون کے ساتھ سوشل میڈیا کی دستیابی نے خبروں کی وصولی اور ان پر تبصروں کی ترسیل کو انتہائی سہل بنا دیا ہے۔ موبائل فونز کے انتہائی پر کشش کال اور ڈیٹا پیکیجز کی وجہ سے سوشل میڈیا کا وزن بھی جیب پر کوئی خاص نہیں پڑتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس سے قبل اپنے ہوش میں اتنے زیادہ اہلِ درد اور سیاسی حِسیات سے لبریز تبصرہ نگاروں کی اتنی بڑی تعداد نہیں دیکھی۔ نہ صرف یہ بلکہ اتنی بڑی تعداد ایسے تبصرہ نگاروں کی بھی پہلی بار دیکھی جنہیں اپنی رائے کے حتمی ہونے کا اس قدر پختہ یقین ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ معاملہ کچھ اس قدر بے لچک رہتا ہے کہ مائی وے یا ہائی وے۔ دوسری طرف حالاتِ حاضرہ ہیں کہ ان میں روز نئی آن نئی شان کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اور یوں سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ حالاتِ حاضرہ اور اس پر تبصرے یوں مسلط ہیں کہ ہم ایسے سادہ لوح کا اپنی رائے اور عزتِ سادات بچا کر نکلنا کارِدارد ہو گیا ہے۔

حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہمارے عزیز دوست اور پاکستان ٹیلی ویژن کے حالات حاضرہ پروگراموں سے کئی دِہائیاں منسلک رہنے والے افتخار مجاز نے ہمیں اس موضوع پر ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ پاکستان کی ڈرامہ نویسی کی تاریخ میں ایک قد آور نام خواجہ معین الدین کا ہے۔ 1924 میں حید آباد دکن میں پیدا ہوئے، تقسیم کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔ کمال کے آرٹسٹ بھی تھے اور مصنف بھی۔ ڈرامہ کچھ اس قدر گھٹی میں رچا ہوا تھا کہ طالب علمی میں استاد کا سوانگ بھر کر استاد کا کردار ادا کرتے۔ بہت سے نقادوں کا خیال ہے کہ آغا حشر کے بعد وہ اردو کے دوسرے سب سے بڑے قد آور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کے مشہور ترین ڈراموں میں مرزا غالب بند روڈ پر اور لال قلعے سے لالو کھیت تک شامل ہیں۔ دونوں ڈراموں میں تقسیم اور ہجرت کا پسِ منظر اور مسائل کی تلخی گندھی ہوئی تھی۔ ان کا ایک ڈرامہ تعلیمِ بالغاں کے نام سے تھا جو شاید سب سے زیادہ مشہور ہوا۔

اس ڈرامے کی ڈرامائی تشکیل کا معاملہ کیا رہا۔ افتخار مجاز کو اس ڈرامے کے پروڈیوسر آغا ناصر ، جو بعد میں پی ٹی وی کے ایم ڈی بھی رہے ، نے یہ روداد کچھ یوں سنائی۔ 1956 کے لگ بھگ آغا ناصر ریڈیو کراچی میں پروڈیوسر تھے۔ انہیں ایک ڈرامہ پروڈیوس کرنے کا کہا گیا۔ انہوں نے خواجہ معین الدین سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اپنے ڈرامے تعلیمِ بالغاں کا اسکرپٹ ان کے حوالے کر دیا۔ معمول کے مطابق آغا ناصر نے اسکرپٹ کی منظوری کے لئے اسے اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا۔ چند ہفتوں بعد اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسکرپٹ نامظور کرتے ہوئے واپس کر دیا کہ اس میں موجود طنز اور بیانیے کی حالات سے اس قدر مطابقت ہے کہ سرکاری ادارہ ہونے کے ناطے ریڈیو پر تنقید ہوگی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ چند سال بعد دوبارہ ایک اچھے ڈرامے کی فرمائش ہوئی تو آغا ناصر نے پھر خواجہ معین الدین سے درخواست کی ، انہوں نے پھر وہی اسکرپٹ انہیں تھما دیا کہ ابھی تک اس کے نشر ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ ایک بار پھر اسکرپٹ متعلقہ شعبے کو سپرد کیا گیا۔ اسے اتفاق کہیئے یا پالیسی کا استقلال، اسکرپٹ پھر مسترد کر دیا گیا۔

بعد ازاں آغاناصر ٹیلی ویژن میں چلے آئے۔ سیاسی حالات نے انگرائی لی۔ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت آئی تو سیاسی آزادیوں اور اظہار رائے کی باتیں بھی چل نکلیں۔ اسی ابتدائی دور ہی میں آغا ناصر کو یہ ڈرامہ نشر کرنے کی سوجھی۔ اس بار البتہ انہوں نے یہ کیا کہ اسکرپٹ کو منظوری کے لئے متعلقہ شعبے کو نہیں بھیجا ۔ خود سینئر پوزیشن پر تھے اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود ہی اسے کر ڈالنے کا رسک لے لیا۔ ڈرامہ پروڈیوس ہوا اور آن ائر چلا گیا۔ بلا اجازت پروڈیوس کرنے اور ایسے اسکرپٹ کو نشر کرنے پر جس کا ایک ایک ڈائیلاگ حالاتِ حاضرہ پر گہرا طنز تھا، اس کے نشر ہونے پر آغا ناصر اندر سے مضطرب تھے کہ افسرانِ بالا سے کیا رسپانس آتا ہے۔ ڈرامہ آن ائر گیا تو دھوم مچ گئی۔ ڈرامہ بے حد کامیاب ہوا، نشر مکرر کی فرمائشیں آئیں اور ڈرامہ نشرِ مکرر ہوا۔ اس دوران میں جن حکومتی حلقوں سے سخت تنقید کا ڈر تھا ، ان کی جانب سے پسندیدگی اور تعریف نے افسرانِ بالا کو بھی تعریف پر مجبور کر دیا۔ آغا ناصر نے وفورِ جذبات سے خواجہ معین الدین کو فون کیا اور مبارک باد دی۔ کہا کہ جس طرح اس چودہ پندرہ سال پرانے لکھے ڈرامے پر رسپانس آیا ہے، یہ سارا کمال آپ کے اسکرپٹ کا ہے۔ خواجہ معین الدین ہنسے اور گویا ہوئے۔ ارے صاحب اسکرپٹ سے زیادہ ان حالاتِ حاضرہ کا کمال ہے جو اِن سالوں میں نہیں بدلے اور یوں ناظرین نے اس ڈرامے کو آج بھی تازہ اور حسبِ حال پایا۔

ہم نے یہ ڈرامہ اسّی کی دِہائی میں دیکھا اور آج تک اس کے سحر میں مبتلا ہیں، بعد میں بھی ایک بار دیکھا تو وہی کیفیت رہی، تازہ، شگفتہ اور حسبِ حال۔ حالاتِ حاضرہ پر اس سے عمدہ ڈرامہ ہم نے اسٹیج پر دیکھا اور نہ ٹی وی پر۔ یہ ڈرامہ تقسیم کے چند سال بعد کی معاشرتی اور سیاسی تصویر ہے۔ محلے کا ایک ٹوٹا پھوٹا مدرسہ ہے۔ نمایاں کرداروں میں سے ایک استاد مولوی صاحب ہیں۔ ان کی بیوی اور ایک قصاب شاگرد کے ساتھ دیگر کردار ہیں جن میں ایک حجام، وکٹوریہ والا خان صاحب، دودھ والا، دھوبی اور ایک ملواڑی۔ کرداروں میں تین گھڑے بھی شامل ہیں، اتحاد، تنظیم اور یقین محکم۔ پورا ڈرامہ شاگردوں کے ایسے شوخ سوالوں کے جوابات پر آگے بڑھتا ہے جن میں سیاسی اور معاشرتی طنز رچا ہوا ہے۔ ایک ایک جملے کی کاٹ ایسی کہ ہنسی روکے نہ رکے اور دل میں ٹیس بھی روکے نہ رکے۔ گھڑوں کو علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ مولوی صاحب اپنے شاگردوں کو ڈانٹ پلاتے ہوئے گھڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، کم بختو ! اتحاد تو ٹوٹ چکا، تنطیم کا گلا بھی تم لوگوں نے گھونٹ دیا اور رہا یقین ، تو اب اسے بھی بے پیندہ کر دیا۔ اس ڈائیلاگ کے وقت وہ اپنی چھڑی مخصوص انداز میں شاگردوں پر لہراتے ہیں۔ ۔۔

ملک ایک بار پھر نازک دوراہے پر ہے ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سیاست میں ایک بار پھر بھونچال ہے۔ ایک بار پھر استعفیٰ ہی واحد حل ہے ۔ ایک بار پھر اپوزیشن متحد ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ کوہالہ پْل پر پھانسی سے کم کچھ گوارا نہ تھا۔ ایک وقت تھا کہ عہدے پر براجمان وزیر اعظم سیکیورٹی رسک تھی۔ پھر دوسر وزیراعظم بھی اہلیت کے ٹیسٹ میں پاس نہ ہوسکا اور اس کی گھر روانگی پر ہی معاملہ نمٹا۔ نوے کی دِہائی میں تو ہر دو اڑھائی سال بعد اقتدار کی میوزک چئیر رہی۔ چور، لٹیرے، احتساب، کرپشن، ماورائے آئین اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔ ہم اپنی عمر رسیدگی کی وجہ سے اس واقعے کو پہلا اور آخری سمجھنے میں متامل ہیں۔ دوست احباب کو اپنی رائے دینے سے بھی گھبراتے ہیں، کیوں۔ دلاور فگار کی زبان میں کچھ یوں ہے کہ
حالاتِ حاضرہ میں اب اصلاح ہو کوئی
اِس غم میں لوگ حال سے بے حال ہو گئے
حالاتِ حاضرہ نہ سہی مستقل مگر
حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے