جےآئی ٹی رپورٹ ، چور مچائے شور
- تحریر سید انور محمود
- جمعہ 14 / جولائی / 2017
- 4988
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے چھ مئی کو کام شروع کیا، دو ماہ کے عرصے میں جے آئی ٹی کے 59 اجلاس منعقد ہوئے اور اس دوران اس نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سمیت 23 افراد سے تفتیش کی۔ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے10 والیم پر مشتمل اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔ رپورٹ 4 ہزار 18صفحات پر مشتمل ہے۔ والیم 8 اور9 دو دو جلدوں پر مشتمل ہیں ۔ نمبر10کو جے آئی ٹی نے پبلک نہ کرنے کی سفارش کی تھی، والیوم دس کے علاوہ پوری رپورٹ عام کردی گئی ہے۔
جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے دوران تفتیش عدم تعاون کا مظاہرہ کیا، جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف سے 14 سوالات پوچھے۔ نواز شریف کے جوابات کا زیادہ تر حصہ سنی سنائی باتوں پر مشتمل تھا۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا اور زیادہ تر سوالات کے اطمینان بخش جواب نہیں دیئے۔ نواز شریف اپنی انکم اور ویلتھ ٹیکس سے متعلق تحفظات کی وضاحت نہ کرسکے اور جے آئی ٹی ارکان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ تحقیقاتی عمل کے شروع میں تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کے بیانات سامنے آتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اندازہ ہوتا گیا کہ جے آئی ٹی کے ممبران نہ بکنے والے ہیں اور نہ ہی جھکنے والے تو وہ تلخ ہوتے چلے گئے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے پہلے ہی وزیراعظم کے درباریوں نے اپنے الزامات کا رخ عمران خان، فوج اور عدلیہ کی جانب کردیا تھا۔ سارے درباریوں کی مثال ’چور مچائے شور‘ والی تھی اور ہے۔ دس جولائی کی شام رپورٹ کو بغیر پڑھے نواز شریف کے وزرا نے رپورٹ کو ردی قرار دے دیا اور اسے عمران نامہ کہہ کر مسترد کردیا۔
جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں اچانک مصنوعی کمی آئی اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی لائی گئی ۔ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو ڈرانے کے لیے پہلے مسلم لیگ (ن) کے نہال ہاشمی نے دھمکیاں دیں۔ پھر وزراء نے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ مریم نواز نے جے آئی ٹی میں حاضری کے بعد میڈیا کے سامنے سخت موقف اختیار کیا جو ایک طرح کی تنبیہ تھی ۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاناما انکوائری کی وجہ سے ملکی معیشت کو بارہ بلین ڈالر کانقصان ہوا ہے۔ اس طرح کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکمران یہ جتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو، پاناما کیس کی وجہ سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ اس طرح کی حرکتیں کرکے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر ہمارے خلاف کارروائی ہوئی، تو ملکی معیشت پر بہت منفی اثرات پڑیں گے۔ لیکن یقیناً سپریم کورٹ اس طرح کے بیانات سے یا روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اب تک نواز شریف کے تین اہم ترین ترجمان، سعد رفیق، آصف کرمانی، اور طلال چوہدری عدالتی کارروائی کے دائرے میں آچکے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمودخان اچکزئی اور ملتان کے مخدوم جاوید ہاشمی نواز شریف کو معصوم کہہ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ پانامہ کیس کی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ یہ کرپشن کا خاتمہ ہے، نواز شریف کو سزا دینا ہے یا پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ متنازع ہو چکی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے چیرمین کا کہنا تھا کہ ہم ببانگ دہل نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ محمودخان اچکزئی نے کہا ہے کہ نوازشریف کےساتھ ہمارا اتحاد جمہوریت کےلئےہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نواز شریف سےکوئی اورمقبول و معروف رہنما نہیں ہے۔ ملک معمولی غلطی کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے اکیس جون 2017 کو ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک طویل بیان دیا تھا۔ اس بیان میں انہوں وزیراعظم نواز شریف کے پانامہ پیپرز کیس میں ملزم بن جانے پران کی حمایت یہ کہہ کر کی تھی کہ عمران خان کی بدعنوانیاں ، نواز شریف سے زیادہ ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ کوئی جج، جرنیل یا سیاستدان صادق و امین نہیں۔ گاڈ فادر، مافیا کہہ کر آپ نے فیصلہ دےدیا۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی سپریم کورٹ کا بینچ سماعت کا حق کھو چکا ہے۔ کیس کی سماعت نیا بینچ کرے۔
مولانا فضل الرحمان، محمودخان اچکزئی اور جاوید ہاشمی کے کردار کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ مولانا فضل الرحمان موقع پرست سیاستدان ہیں ، آج کل نواز شریف کے دسترخوان پر روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ ان کے بیان کی سیاسی طور پرکوئی اہمیت نہیں ہے۔ محمودخان اچکزئی مفاد پرست اور پاکستان مخالف سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ نواز شریف نے ان کو اور ان کے خاندان کے دس افراد کو سرکاری عہدوں پر لگا رکھا ہے اس لیے ان کا نواز شریف کی حمایت کرنا اپنی روٹیاں پکی کرنا ہے۔ جاوید ہاشمی جو باغی تو کیا ہوں گے، سیاسی لوٹے ہیں۔ ان کا نواز شریف کے حق میں بیان دینا سراسر مفاد پرستی ہے۔ پی ٹی آئی چھوڑنے کے بعد وہ راندہ درگاہ ہیں اس لیے وہ واپس مسلم لیگ میں جانا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، محمودخان اچکزئی اور جاوید ہاشمی دراصل ’چور کے بھائی گرہ کٹ‘ کے مصادق ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد پہلے کابینہ اجلاس میں مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے استعفے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے انتخابات میں ان تمام جماعتوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لیے۔ بی بی سی، اردو، لندن کی ویب سائٹ پر ’ڈنڈہ ڈولی‘ کے عنوان سے محمد حنیف کا ایک مضمون شایع ہوا ہے اس کا آخری پیراگراف کچھ یوں ہے کہ ’’تو اب جبکہ ان کی پچھلی اور آنے والی نسلوں کی کرپشن اور جھوٹ ثابت ہو چکے، تو ان پرمقدمہ چلنا چاہیے، جیل ہونی چاہیے، ڈس کوالیفائی ہونا چاہیے اور اگر وہ استعفیٰ دینے پر تیار نہ ہوں تو ڈنڈا ڈولی والے آپشن پر غور کیا جائے۔ اس دفعہ میڈیا سے چھپانے کی بھی ضرورت نہیں۔ میڈیا اس نیک کام میں خود ہاتھ بٹانے کے لیے بےقرار ہے‘‘۔ رپورٹ آنے کے بعدانگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم نواز شریف کو جمہوریت کی خاطر درست فیصلہ کرتے ہوئے بھلے ہی عارضی طور پر سہی، مگر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ جےآئی ٹی کی رپورٹ میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف کافی سنگین اور براہ راست الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں اس قدر شکوک و شبہات کی زد میں موجود شخص کو وزارت عظمیٰ پر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن نواز شریف شاید لڑائی جاری رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ دنیا کا کوئی بھی جمہوری نظام کرپشن کے مقدمات میں مصروف وزیر اعظم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد پاکستان کی ایک یا دو سیاسی جماعتوں کے علاوہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وزیراعظم نواز شریف کو بدعنوان سمجھ کر ان سے استعفی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ سب کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم کے منصب کو چھوڑ دیں۔ جواب میں مریم نواز شریف نے اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر آپ نے اسے ایک سیاسی جنگ بنا دیا ہے تو مسلم لیگ (ن) سے بہتر اسے کوئی نہیں لڑسکتا ہے‘۔ چلئے تھوڑا سا انتظار کرلیتے ہیں کیونکہ بال اب سپریم کورٹ کے کورٹ میں ہے۔