آذاد کشمیر کے صدر اور مسئلہ کشمیر
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- جمعہ 14 / جولائی / 2017
- 5453
صدر ریاست آزاد جموں کشمیر سردار مسعود احمد خان کے حالیہ دورہ برطانیہ کے بعد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے ان کی کوششوں پر کئی حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ خود صدر ریاست کو برطانیہ میں مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں مقیم کشمیریوں نے ان سے آزادکشمیر حکومت کے کردار پر سوالات کئے۔ روزنامہ اوصاف لندن کی خبر کے مطابق صدر آزادکشمیر کے اعزاز میں ہونے والی ایک تقریب میں برطانوی رکن پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین کے والد اور ممتاز کشمیری رہنما چوہدری الطاف حسین نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں رواں سال مسئلہ کشمیر پر ہونے والی بحث میں آزادکشمیر حکومت کا کوئی کردار نہیں۔
اس پر تقریب میں بد مزگی بھی پیدا ہوئی جس کا ازالہ صدر آزاد جموں کشمیر مسعود احمد خان نے بعد میں ہونے والی ایک تقریب میں معافی مانگ کر کیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اور اس میں مسعود احمد کا کیا قصور ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ جب سردارمسعود احمد خان کو آزاد جموں کشمیر کی کرسی صدارت پر بٹھایا گیا تو لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے کیونکہ وہ بین الاقوامی امورکے ماہر ہیں۔ وہ چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں اوربین الاقوامی حالات کو بہت اچھی طرح سمجھنے کے ساتھ مشکل حالات میں سفارت کاری کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔ وہ اپنے ان ذاتی اوصاف اور خوبیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر نہیں کرسکتے اور اس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ اصل مسئلہ حکومت آزاد جموں کشمیر کی حیثیت کا ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کشمیری رہنما سید صلاح الدین کودہشت گرد قرار دینے کے خلاف صدر آزاد کشمیر مسعود احمد خان نے ایک اپنا تفصیلی رد عمل میڈیا کو جاری کیا ہی تھا کہ ان سے اسلام آباد نے وضاحت طلب کرلی آپ یہ کیسے کرسکتے ہیں۔ کہا گیا کہ اپنا بیان واپس لیں۔ مجبوراَ انہیں اپنا بیان واپس لینا پڑا اور میڈیا سے درخواست کی کہ اسے شائع نہ کیا جائے۔
سردار مسعود احمد خان کوآزاد جموں کشمیر کے منصب صدارت پر بٹھایا گیا تب 20 اگست 2016 کے اپنے کالم بعنوان ‘صدر بنایا ہے تو کردار بھی دیں‘ میں انہی خدشات کے پیش نظر گزارشات کی تھیں کہ انہیں اس عہدے کا کردار اور اختیارات بھی دیئے جائیں بصورت دیگرسفارت کاری کا تجربہ اور ذاتی صلاحیتیں کسی کام کی نہیں۔ جہاں تک بیرونی دوروں اور ان کی اپنے میڈیا میں تشہیر کا تعلق ہے تو یہ کام ساٹھ سال سے جاری ہے اور اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی اثر ہوگا۔ یورپ میں کشمیری لوگوں کے اجتماعات میں شرکت ، سفارت خانہ پاکستان میں ہونے والی تقاریب اور کچھ یورپی نمائدوں سے ملاقاتیں، کوئی قابل ذکرکارکردگی نہی۔ں کیونکہ بہت سے کشمیری رہنما اپنے طور پر یہ کام کررہے ہیں۔ ایک ریاست کے صدر اور عام سیاسی رہنما کے دوروں میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک بے اختیار ریاست کا صدر کرہی کیا سکتا ہے۔
ساڑھے چار ہزار مربع میل پر مشتمل خطہ جسے آزاد ریاست جموں کشمیر کہا جاتا ہے اور جسے تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ قرار دیا گیا تھا لیکن یہ ایک برائے نام ریاست ہے جس کے پاس مقامی معاملات کے بھی اختیارات نہیں ۔ ایک چھوٹے سے خطہ پر چار حکومتیں مسلط ہیں ۔ ان چار حکومتوں میں آزادکشمیر حکومت، کشمیر کونسل، وزارت امور کشمیر اور وفاقی حکومت شامل ہیں ۔ صدر اور وزیر اعظم محض نمائشی ہیں اور اصل اختیارات تو چیف سیکریٹری کے پاس ہیں۔ دنیا میں اگر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے اور عالمی حمایت حاصل کرنے سے قبل آزاد کشمیر حکومت کی حیثیت کا تعین اور اسے با اختیاربنانا بہت ضروری ہے تاکہ وہ خود عالمی سطح اپنا مقدمہ پیش کرسکے۔ ہماری حکومت ترکی سے بہت متاثر ہے، اس لئے انہیں چاہیے وہ کہ ترکی سے ہی سبق سیکھ لیں اور جو طریقہ اس نے شمالی قبرص کے لئے اپنایا ہے، وہی حکومت پاکستان آزادکشمیر کے لئے اختیار کرلے۔ یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
پالیسی سازوں کو اچھی طرح علم ہے کہ دنیا کشمیر کی بات جب کشمیریوں کی زبان سے سْنتی ہے تو اس پر توجہ بھی دیتی ہے لیکن جب پاکستان بین الاقوامی دنیا میں کشمیر کی بات کرتا ہے تو اْسے کوئی شنوائی حاصل نہیں ہوتی ۔ دنیا اسے پاک بھارت تنازعہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تنازعہ سے ہٹ کر کشمیری عوام کے غیر مشروط حق خود آرادیت کی بنیاد پر عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ کشمیر میں بہنے والے خون اور جاری تحریک کو سفارتی محاذ پر سرگرمی سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔