ٹیسٹ ٹیوب لیڈر شپ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 15 / جولائی / 2017
- 4511
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کابینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے اور ایک سازشی ٹولہ اُن کے خلاف برسرپیکار ہے اور وہ اس ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہوں نے اس ٹولے کو جمہوریت فروش قرار دیتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا اور کہا کہ ہمارے خاندان نے سیاست سے کمایا کچھ نہیں، کھویا بہت کچھ ہے۔
انہوں نے اپنے خاندان کی کاروباری تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ہم 1937سے کاروباری ہیں۔ کابینہ نے اُن کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے عملاً ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد شریف خاندان 1980 کے بعد پہلی مرتبہ ایسے بحران کا شکار ہے جس میں نوازشریف اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد اور شریف خاندان کے سیاسی ہراول دستوں میں شامل ترجمانوں کو شریف خاندان کی تجارت، دولت اور سرمائے کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ خود وزیراعظم نے کابینہ کے اسی اجلاس میں جس طرح اپنے خاندان کی تجارت اور سرمائے کا دفاع کیا ہے، وہ پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ انہوں نے تو اپنے اس خطاب میں یہاں تک کہا کہ سیاست میں انہوں نے بنایا کچھ نہیں اور کھویا بہت کچھ ہے۔ میاں نوازشریف، پاکستان کے دس امیرترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دس امیر لوگوں میں اُن کا شمار اس بیان کردہ White Capital سے ہے جو پاکستان میں ریکارڈ پر ہے۔ اگر اُن کی ثابت شدہ آف شور کمپنیوں اور اس کے علاوہ سرمائے کو شامل کرلیا جائے تو یقیناً وہ پاکستان کے سب سے امیر شخص ہیں۔
سیاست میں اُن کی آمد گورنر جیلانی کے مرہونِ منت ہے اور اس کا سبب اُن کے خاندان کا تجارتی پس منظر تھا، سیاسی نہیں اور پھر اسی بنیاد پر وہ 1985 میں جنرل ضیا کے نیم جمہوری نظام میں پنجاب کے طاقتور وزیراعلیٰ بن کر سامنے آئے۔ اُن کے مقابلے میں پنجاب کے جاگیردار پس منظر رکھنے والے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار مخدوم حسن محمود کو بری طرح شکست ہوئی۔ 1985 کے غیرجماعتی انتخابات میں اُن کا سرمایہ ہی تھا جس نے ان کو وزارتِ اعلیٰ تک رسائی دی۔ وفاق پاکستان میں پنجاب سب سے بڑی معاشی، سیاسی، اقتصادی اور حکمرانی کی طاقت رکھتا ہے۔ اور اس طرح خود بحیثیت صوبہ اس پر حکمرانی وفاق کی طاقت سے کچھ کم نہیں۔
آمرانہ سائے میں جنم دی گئی ٹیسٹ ٹیوب جمہوریت Test Tube Democracy میں پنجاب کی اس قیادت کا ظہور سراسر طاقت اور سرمائے کے بَل پر ہوا اور جب وزیراعظم جونیجو کے فوجی حکمران جنرل ضیا سے اختلافات کی آخری حدوں کو چھو گئے تو جنرل ضیا نے پنجاب کی حکومت اور اس کے حکمران وزیراعلیٰ نوازشریف کا دفاع اور فخر کرتے ہوئے کہا تھا، ’’میرا پنجاب میں کلّہ بڑا مضبوط ہے۔‘‘ مرکز میں جنرل ضیا نے جناتی طاقت سے اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو چلتا کیا مگر پنجاب میں میاں نواز شریف پر دست شفقت رکھ کر مزید مہربانی فرما دی۔ اگست 1988 میں وہ ایک فضائی حادثے کے سبب اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے اور ملک میں نئے انتخابات کا اعلان ہوا جو صدر غلام اسحاق خان نے کروائے۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد ( آئی جے آئی) قائم کیا گیا جس کے قیام پر مرحوم جنرل حمید گل مرتے دَم تک نازاں تھے۔ اس اتحاد کی انہی طاقتوں نے آبیاری کی جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا تھا۔ آئی جے آئی کی قیادت کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف کے سر سجایا گیا۔ انہی سالوں پاکستان کے ڈاکٹرز نے جہاں پہلے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا کامیاب تجربہ کیا تو وہیں پاکستان کے سیاسی ماسٹرز نے Test Tube Leadership کو بھی جنم دیا۔ پنجاب کی ابھرتی مرکنٹائل کلاس کی قیادت۔
ایک نیم صنعتی اور مکمل دکان دار خاندان، شریف فیملی سیاسی ماسٹرز کے سایہ میں سیاسی اور تجارتی دونوں سطح پر دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا ۔ مرحوم جنرل حمید گُل کی سرپرستی میں قائم آئی جے آئی نے وسائل اور طاقت سے حقیقی جمہوری چشمہ بہانے کی مکمل کوشش کی مگر وہ اس میں پوری طرح کامیاب نہ ہو پائے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ آئی جے آئی کے ماسٹرز پنجاب میں اپنے Test Tube Baby کو پنپنے کے مواقع فراہم کرگئے۔ اور یوں پنجا ب میں پاکستان پیپلزپارٹی حکومت بنانے میں ناکام اور میاں نوازشریف کامیاب ہوئے۔ یہ حالات و واقعات اور صورتِ حال پنجاب کے وزیراعلیٰ کے اعتماد کا سب سے بڑا سبب تھا اور اسی بنیاد پر پنجاب وفاقی حکومت تنازع شروع ہوا جس میں پنجاب کے حکمران میاں نوازشریف نے وفاقی حکومت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو Tough Timeدیا۔ آخرکار وفاقی حکومت تحلیل کر دی گئی اور انتخابات کے بعد تخت لاہور کے حکمران اسلام آباد کے تخت تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جے آئی کے خلاف ایئر مارشل اصغر خان کا کیس عدالت میں ابھی بھی فیصلے کا منتظر ہے جس میں اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ پر مختلف لوگوں میں رقم تقسیم کرنے کا الزام بھی ہے۔
1985 سے 1988 تک میاں نواز شریف اور شریف خاندان کی تاریخ 1988 سے 1990 تک کی تاریخ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اقتدار کے مراکز کے مرہونِ منت۔ شریف خاندان کا یہ بیٹا جو اب پاکستان کے وزیراعظم ہیں، 1977 میں ایئرمارشل اصغر خان کی جماعت تحریک استقلال میں شامل ہوا۔ خورشید محمود قصوری اور مہناز رفیع اُن کی پارٹی میں شمولیت کے گواہ ہیں کہ کیسے وہ پارٹی میں آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومیائی جانے والی صنعتوں میں شریف خاندان کی صنعت بھی شامل تھی۔ اس صنعت کی واپسی جنرل ضیا کی ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی کے تحت ہوئی بلکہ اس خاندان پر خصوصی کرم فرمائی ہوئی۔ 1985 سے 1988 تک شریف خاندان کی تجارت اور سیاست کو اس قدر بھاگ لگے کہ آج اس خاندان کا سپوتِ اوّل میاں نوازشریف، پاکستان کا امیرترین شخص ہے اور سیاست واقتدار میں اپنی مثال آپ رکھتا ہے۔ احتیاط سے کہا جائے تو چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف، اُن کے صاحب زادے حمزہ شہباز اور میاں نوازشریف کی صاحب زادی مریم نواز سمیت اُن کے پینسٹھ سے زائد اہل خانہ اور رشتہ دار سیاست کے بازار میں سرگرمِ عمل ہیں۔ بھٹہ مزدوروں یا کسانوں کی سیاست نہیں بلکہ اقتدار اور حکمرانی کی سیاست۔ آج شریف خاندان جہاں پاکستان کا امیرترین خاندان ہے، وہیں ’’سیاست کا بھی امیر‘‘ ہے۔ سیاست میں امیری، حکمرانی سے جڑی ہے۔ اب مجھ جیسے عام شخص کے لیے یہ بات قابل غور ہے کہ جب شریف خاندان کے سپوتِ اوّل میاں نوازشریف وزیراعظم پاکستان، کابینہ میں سیاست کو گھاٹے کا سودا قرار دے رہے ہیں کہ انہوں نے سیاست میں آکر کچھ بنایا نہیں بلکہ گنوایا ہی ہے۔ بیرونِ ملک اُن کے صاحبزادگان برطانیہ کے بڑی رئیل سٹیٹ تاجروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جلاوطنی، جو ہم نے کبھی سنی تھی، مولانا عبید اللہ سندھی جیسے رہبروں کی جو در در، ملک ملک، تنگ دستی اور تکلیفوں بلکہ سینکڑوں میل کا پیدل سفر کرتے تھے۔ آج کے یہ جلاوطن جب جنرل مشرف سے معاملات طے کرکے حجازِ مقدس روانہ ہوتے ہیں تو وہاں ایکڑوں پر قائم جدید ملوں اور بیٹے بیٹی ولایت میں فلیٹوں کے مالک اور آف شور کمپنیوں کے ڈائریکٹرز بنتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ گھاٹا کہاں ہوا۔ خالص دکان داری اصطلاح ہے، ’’گھاٹا‘‘۔ بیرون ملک سرمایہ، اندرون ملک حکمرانی، تو گھاٹا کہاں!
عدالتوں اور اُن کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کو جھوٹ کا پلندا قرار دینا ایک وزیراعظم کے لیے آسان ہے۔ کاش گاؤں کے کسی مسلی کو بھی یہ حق دے دیا جائے کہ وہ اس نظام کو جھوٹ، ناانصافی ، استحصال اور ظلم پر مبنی قرار دے پائے۔ جنرل مشرف دور کے اقتدار کے بٹیروں سے بھری یہ کابینہ پچھلی ہر حکومت میں موجود رہی ہے۔ وہ اپنی ہی تقریریں سنتے اور سر سے سر ملا کر ہاں ہاں کرتے چلے آئے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف اس بحران کا سبب ہیں، جس میں وہ اُن حقائق کو ماننے سے انکاری ہیں جو پانامہ لیکس اور عدالت میں ثابت ہوچکے ہیں۔ اس کا اب سیاسی حل ہونا چاہیے تھا۔ ایک جمہوری روایت قائم کرتے ہوئے اپنے آپ کو اقتدار سے علیحدہ کرکے انصاف اور سیاست کی جنگ ہونی چاہیے تھی۔ لیکن اب یہ بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے، بحران کی چنگاریاں الاؤ میں بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔ کاش ہم جمہوریت اور جمہور کو مضبوط کرنے اور خاندانوں کی تجارت کا دفاع کرنے کی بجائے عوام سے اتحاد کرتے ہوئے عوام میں واپس آنے کے فلسفے پر یقین رکھتے تو ایسے بحران کبھی پیدا نہ ہوں۔ مگر نہیں۔ ہمارے حکمران ابھی جمہوری نہیں اور ہماری جمہوریت ابھی جمہوریت نہیں، حکمرانیت ہے۔ ووٹ عوام کے، حکمرانی خاندان کی۔