بدعنوانی کے خلاف کام کوانجام تک پہنچایا جائے

پاناما مقدمہ اور اس پر ہونے والی سیاسی و عدالتی پیش رفت پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس نے پوری ملکی سیاست کو ایک سال سے زائد عرصہ تک اپنے گرد گھمایا ہے۔ اپریل 2016 میں انٹرنیشنل کنسورشیم فار انوسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے ذریعے کیے جانے والے انکشافات نے دنیا کے کئی ممالک میں طوفان اٹھائے، لیکن پاکستان میں اٹھنے والا یہ طوفان اب تک نہیں تھم سکا۔ کئی ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور دیگر عہدیداروں نے  استعفے دے کر اپنے ملکوں کو بحران سے بچایا اور اپوزیشن نے معمول کی تحقیقات پر اکتفا کرلیا۔ لیکن پاکستان میں ایک طرف حکمران الزامات کے باوجود اقتدار سے چمٹے رہے تو دوسری طرف اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس معاملے کو مُردہ نہیں ہونے دیا۔

حکمرانوں کی ضد اور قابلِ قبول صفائی نہ دینے کے رویّے کے پیش نظر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے انصاف کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ  بہت سی امیدیں اور اس سے زیادہ خدشات لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت گئے تھے، جس نے پہلے 5 رکنی بینچ بناکر ایک فیصلہ سنایا اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعے مزید تحقیق اور تفتیش کا حکم دیا۔ 6 ملکی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اس جے آئی ٹی پر پہلے اپوزیشن اور پھر حکومت نے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔ لیکن وہ اپنا کام کرتی رہی اور 60 دن کی مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔ یہ رپورٹ اب سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے ہے جس کو اس رپورٹ کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنانا ہے۔ اب اس رپورٹ کا بڑا حصہ میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے آچکا ہے۔ اگرچہ جے آئی ٹی نے 10جلدوں پر مشتمل رپورٹ کی جلد نمبر10 پبلک نہ کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن لگتا یہ ہے کہ ساری کی ساری رپورٹ میڈیا کے ہتھے لگ چکی ہے یا بآسانی میڈیا تک پہنچا دی گئی ہے، جو 10 جولائی کی سہ پہر سے اس رپورٹ کے مندرجات تسلسل کے ساتھ نشر کررہا ہے۔ اور اس پر اپنے تیار کردہ ماہرین سے تبصرے بھی آن ایئر کررہا ہے۔

 اس کے علاوہ اس رپورٹ پر ٹاک شوز بھی ہورہے ہیں اور سیاسی، معاشی، قانونی ماہرین (جو زیادہ تر ماہرین کے بجائے کھلے فریق ہیں) کی آرا بھی نشر کررہا ہے۔ 11جولائی کے اخبارات جے آئی ٹی کی رپورٹ، اس کی تفصیلات اور ان پر تبصروں اور رائے زنی سے بھرے پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ میڈیا جس نے اس کیس کو اب تک اتنا اچھالا ہے اب اس رپورٹ کی تلاش میں ہوگا۔ لیکن پاکستانی صحافت سے وابستہ سینئر ترین صحافی اور ملکی معاملات کو سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس ملک کے تمام صحافی اور تمام صحافتی ادارے مل کر بھی اگر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتے تب بھی وہ اس رپورٹ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، جو آج ان کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ رپورٹ انہیں باقاعدہ فراہم کی گئی ہے۔ ورنہ اتنی جلدی ساری رپورٹ سامنے آجانا ممکن نہیں تھا۔ جو میڈیا گروپس اور بڑے بڑے رابطوں کے دعویدار صحافی 60 روزہ تفتیش کے دوران ایک سطر کی خبر نہیں نکال سکے وہ یک لخت اتنے ہوشیار اور پیشہ ور ہوگئے کہ ساری رپورٹ ہی لے آئے۔ پھر یہ رپورٹ کسی ایک کے نہیں، سب کے ہاتھ میں ہے، جسے اب وہ ٹی وی اسکرین پر لہرا لہرا کر عوام اور اداروں کو مرعوب کررہے ہیں۔

جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران اندر کی خبریں بہت کم باہر آئیں، جو باہر آئیں وہ کسی فریق خصوصاً طلب کیے گئے افراد کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھیں۔ یہاں ایک اور اہم بات غور طلب ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ 10جولائی کی دوپہر سپریم کورٹ میں جمع کرائی لیکن یہ رپورٹ ایک بڑے میڈیا گروپ نے اسی صبح یعنی سپریم کورٹ میں جمع کرانے سے بھی چھے سات گھنٹے قبل اپنے اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع کردی اور اس سے بھی پہلے اپنے ٹی وی چینلز پر نشر کی۔ یہ بائی لائن اسٹوری یہ تفصیلات بتاتی ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کیا لکھا ہے۔ اس خبر کی اشاعت اور نشر کیے جانے کا سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا ہے اور متذکرہ اخبارات کے چیف ایڈیٹر، پرنٹر، پبلشر اور متعلقہ رپورٹر کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ جو اب تک باقاعدہ معافی شائع بھی کر چکا ہے اب شاید اس گروپ کے طلب کردہ افراد کو یہ بتانا پڑے کہ انہوں نے یہ رپورٹ کہاں سے حاصل کی ہے یا کس نے انہیں کن مقاصد کے لیے فراہم کی ہے۔ شاید اس موقع پر اس میڈیا گروپ کو یہ بھی بتانا پڑجائے کہ وہ جے آئی ٹی میں ہونے والی کارروائیوں کی نم نہاد خبریں کہاں سے حاصل کرتے تھے یا یہ خبریں انہیں کون فراہم کرتا تھا۔ واٹس ایپ اور ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی اسٹوری بھی اسی گروپ کی تھی جس کے بارے میں پوری صحافتی برادری کا اتفاق ہے کہ یہ کسی رپورٹر کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ فراہم کردہ خبر ہے۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس طرح کی انتہائی حساس خبریں یہ میڈیا گروپ اپنے رپورٹرز کے نام سے کیوں شائع کرتا رہا ہے۔ جبکہ یہ اُن کی اوقات سے بڑی خبریں تھی۔ ماضی میں کسی غلط یا مشکوک خبر کی اشاعت پر یہ گروپ اپنے رپورٹرز کے ساتھ جو کچھ کرتا رہا ہے وہ پوری صحافتی برادری جانتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد یہ معاملہ کسی انجام تک پہنچا تو یہ ایک اور ڈان لیکس یا شاید اس سے بڑا اسکینڈل ہوگا، جس کا پس پردہ مقصد بادی النظر میں ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنا ہی ہوسکتا ہے۔

بہرحال جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آچکی ہے، حکومت اور حکمران جماعت اسے ماننے سے انکار کرچکی ہے اور ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ تاہم ابھی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے جس کو پہلے مرحلے پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو قبول یا مسترد کرنا ہے۔ بظاہر امکانات یہی ہیں کہ سپریم کورٹ اپنی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو قبول کرلے گی اور اسی کی بنیاد پر فیصلہ دے گی۔ اس دوران حکمران جماعت، شریف خاندان اور حکومت بھی سپریم کورٹ میں مختلف درخواستیں لے کر جائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ ان پر کیا اقدامات کرتی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ، حکومت کا واویلا اور دوسرے قرائن سے یہی لگتا ہے کہ فیصلہ حکومت کے خلاف ہوگا۔ ایسی صورت میں کم از کم نوازشریف کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نوازشریف کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ باب بند ہوجائے گا جو بنیادی طور پر کرپشن اور بدعنوانی کا باب ہے، یا کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ مزید اقدامات تجویز کرے گی اور ملک سے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کا حکم دے گی۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا تعلق ہماری موجودہ ہی نہیں، آنے والی نسلوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ پاناما کیس بنیادی طور پر ایک کرپشن کیس ہے کہ دنیا بھر کے امیر کبیر اور برسراقتدار افراد نے اپنی دولت پاناما کی آف شور کمپنیوں میں لگائی ہوئی تھی۔ یہ دولت نہ صرف غیر اعلانیہ اور خفیہ تھی بلکہ یہ ناجائز ذرائع سے حاصل بھی کی گئی تھی۔

ملک میں جاری سیاسی ہنگامہ لگتا ہے کہ شریف خاندان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد تھم جائے گا، کیوں کہ ہم بطور قوم معاملات کو انجام تک پہنچانے کے عادی نہیں۔ جذباتی طور پر کسی ایشو کو اٹھاتے ہیں اور اس کے جزوی انجام ہی پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ اور بسا اوقات تو اس انجام کے خلاف ہی کچھ عرصہ بعد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ اس طرح کے معاملات سے بھری پڑی ہے۔  معاشرے کا سوچنے سمجھنے والا طبقہ اب زیادہ فکرمند ہے۔ مگر سیاسی قیادت اب بھی سطحی معاملات کو دیکھ رہی ہے۔ حکمران خاندان کے خلاف فیصلہ آنا یا اُس کا اقتدار سے الگ ہوجانا مسئلے کا حتمی حل نہیں ہے۔ یہ اس حل کا بالکل ابتدائی مرحلہ ہے۔ محض اقتدار سے علیحدگی کوئی سزا نہیں ہے، ان کے خلاف مکمل تحقیقات کے بعد کارروائی ہونی چاہیے، ملزمان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس آنی چاہیے اور حکمرانوں کو اس لوٹ مار میں مدد دینے والے تمام افراد اور ادارے بھی اس انکوائری اور تفتیش سے گزرنے چاہئیں کہ وہ یہ غلط کام کرنے پر مجبور تھے یا انہوں نے بھی خدمت کے عوض مراعات، ترقیاں اور مالی و سیاسی فوائد حاصل کیے ہیں۔ کیوں کہ اگر یہ افراد اور ادارے سزا سے بچ گئے تو یہ سلسلہ تھوڑے وقفے بعد پھر شروع ہوجائے گا۔

اس مرحلے پر یہ تحقیقات بھی ہونی چاہئیں کہ جن سرکاری افسروں کی بیگمات، بیٹیوں، بہوؤں اور بہنوں کو مخصوص نشستوں پر منتخب کرایا جاتا ہے یا ان کے جن کے بھائیوں، بیٹوں، دامادوں اور بھتیجوں کو عام انتخابات میں ٹکٹ دیے جاتے ہیں کہیں یہ ان کی انہی قسم کی خدمات کا عوضانہ تو نہیں! شریف خاندان، اُن کے وزرا اور کاروباری شراکت داروں اور ان کے سرکاری مددگارو ں کے خلاف کارروائی ہی پر یہ معاملہ بند نہیں کرنا چاہیے بلکہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے اس مطالبے کو قوم کی آواز سمجھنا چاہیے کہ پاناما کیس کے تمام کرداروں کا بے رحمانہ احتساب ہونا چاہیے۔ پاناما کیس میں پاکستان کے 450 سے زائد افراد کا نام آیا ہے۔ جن کی کمپنیاں ہیں اُن میں سیاست دان، حکمران، سرکاری افسران، اپوزیشن جماعتوں کے ارکان، ڈپلومیٹس، کاروباری اور تجارتی خاندان اور میڈیا مالکان بھی شامل ہیں۔ ان سب کے معاملات کی تفتیش ہونی چاہیے اور انہیں اور ان کے مددگاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچنا چاہیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث دوسرے افراد اور خاندان چاہے اُن کے نام پاناما میں نہیں ہیں، کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ گویا اب سپریم کورٹ مستقل بنیادوں پر کرپشن کے معاملات کو انجام تک پہنچانے اور ان کے مددگاروں اور سرپرستوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فریضہ اپنے زمے لے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے ورنہ ہم اسی گرداب میں چکر لگاتے رہیں گے۔