کیا میاں اور خان دونوں ناک آؤٹ ہونے والے ہیں

دروغ برگردن راوی کہ سعودی شہنشاہ اپنے سابق زیرکفالت نواز شریف کو گستاخی کی سزا دینا چاہتے ہیں۔ اس کے اشارے تو اس وقت نظر آنا شروع ہو گئے تھے جب ٹرمپ کی زیر صدارت عرب اسلامی کانفرنس میں پاکستانی وزیرآعظم نواز شریف کو نظر انداز کرکے سابق پاکستانی آرمی چیف راحیل شریف کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ شہنشاہ کی ناراضی بجا کہ نواز شریف نے ٹرمپ اور بادشاہ سلامت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایران کو سب سے بڑا دہشت گرد کیوں قرار نہ دیا۔

یہ گستاخی کیا کم ہے کہ یمن پر حملہ کرنے کے لئے پاکستانی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا۔ گستاخ کا حوصلہ یہاں تک بڑھ گیا کہ بادشاہ سلامت کے زیرکمان دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد میں شمولیت کی حامی نہیں بھری۔ راوی یہ بھی کہتا ہے کہ نواز شریف اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں سی پیک پر اختیارات حاصل کرنے کی کشمکش دن بدن شدید ہوتی جارہی ہے۔ درمیانہ راستہ نکالنے کی کئی کوششیں ابھی تک بے نتیجہ رہی ہیں۔ اسی سازشی تھیوری کا حصہ یہ بھی ہے کہ کیا آئی ایس آئی اور ایم آئی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی منشا اور آشیرباد کے بغیر ایک لفظ بھی جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل کر سکتی تھیں۔

ایک اہم سوال کہ کیا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو منسوخ شدہ آرٹیکل 58، 2ب کا متبادل بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ کیا پانامہ کے ہنگامہ کے پردہ میں اعلیٰ عدلیہ اور اسٹبلشمنٹ کی ملی بھگت سے سول جمہوری اداروں کو بے اثر اور زیردست بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اگر ایسی صورت حال بنائی جا رہی ہے تو اعلیٰ عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ عوام اور جمہوریت پسند حلقوں کی یہ خوش فہمی بھی دم توڑ جائے گی کہ اعلی عدلیہ نے جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشوں کی ساجھہ داری کرنی چھوڑ دی ہے۔  جے آئی ٹی رپورٹ میں جہاں نواز فیملی کے کاروباری گھپلوں اور ہیرا پھیریوں کے متعلق کچھ سچائیاں سامنے لائی گئی ہیں، وہاں رپورٹ مرتب کرنے والے خفیہ کاریگر اپنے سیاسی عزائم چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جے آئی ٹی رپورٹ ایک ایسی سیاسی دھند ہے جس کے پردے کے پیچھے کئی قوتیں اپنے اپنے سیاسی عزائم لئےگھات لگائے بیٹھی ہیں۔ اس ڈرامہ کا اختتام کیسے ہوگا اور کس کو کیا حاصل ہوگا، اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ تیل دیکھیں اور تیل کی دھار۔       

اس میں کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزیرآعظم نواز شریف کے لئے وزارت عظمی کانٹوں کا بستر بن گئی ہے۔ سیاسی ہلچل اور کشمکش سے حکومت پر نواز شریف کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور سیاسی عدم استحکام سے ملک کی معاشی صورت حال دن بدن گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ مگر یہ سب پس پشت ڈال کر نواز شریف وزارت عظمی پر براجمان رہتے ہوئے عدالتوں میں قانونی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ جارحانہ سیاسی لڑائی لڑنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ چوہدری نثار کھل کر بروٹس کا کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بروٹس کے کابینہ اجلاس میں کھلے حملے کے بعد نواز شریف کو مستقبل قریب کے سیاسی نقشے کی دھندلی تصویر زیادہ واضع نظر آنا شروع ہو چکی ہوگی۔ بروٹس کے اسٹیبلشمنٹ سے قریبی رشتے ناطوں سے کون آگاہ نہیں۔    

سیاسی بحران کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بظاہر اس کے رخ کا تعین عدالت عظمیٓ کے فیصلے سے ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی فیصلے منتخب پارلیمنٹ کو مزید خودمختاری کی طرف قدم بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے یا اسے 62 اور 63 کے شکنجے میں جکڑ کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ گٹھ جوڑ کا زیردست ادراہ بنانے کا ذریعہ بنیں گے۔  کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہےہیں کہ اگر نواز شریف کو ایک عدالتی فیصلے سے ناک آؤٹ کیا گیا تو دوسرے فیصلے سے عمران خان کو کلین بولڈ کرنے کا بندوبست بھی ہو رہا ہے۔ 62 اور 63 کی تلوار چلے گی تو مستقبل میں عوام کس کو اپنا لیڈر منتخب کریں، اس کا فیصلہ پھر کوئی اور کرے گا۔ عوامی ووٹ صرف ایک دھوکا ہوگا۔ اگر یہ انہونی سچ ثابت ہوئی تو یہ عوامی جمہوری قوتوں کے لئے ایک نئے کھٹن دور کا آغاز ہوگا۔ اور ساتھ ہی میاں، عمران اور زرداری کے سیاسی انجام کا آغاز بھی۔