قومی سالمیت کے لئے خود غرضی چھوڑ دیجئے

پاکستان اس وقت سنگین بحران کا شکار ہے مگر بحران سے نکالنے والے خود اس بحران کو پیدا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ذاتی نوعیت کے اس بحران کو پورے وطنِ عزیز پر مسلط کردیا گیا ہے جو کہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تعلیم یافتہ طبقہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ذاتی نوعیت کے بحران سے سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے نمٹا گیا۔ اس کیلئے سرکاری ذرائع استعمال کئے گئے اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو بھی گھسیٹا گیا۔

اب جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک تاریخی دستاویز  ملک کی اعلی ترین عدلیہ کہ حوالے کردی ہے اور عدالت  سوموار کو اپنا تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے تو کیا یہ سیاسی اخلاقیات کا تقاضہ نہیں ہے کہ وزیرِاعظم صاحب اور ان کے اہل خانہ سرکاری امور سے اپنے آپ کو الگ کرلیں۔ مگر انہوں نے تواس بحران کو اور بڑھاوا دینے کی ٹھان رکھی ہے ۔  وزیرِاعظم  اب یہ کون ثابت کرے گا کہ آپ پر لگائے گئے تمام کے تمام یا کچھ الزامات محض الزامات اور مفروضے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والا بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ جس کی حکومت ہوتی ہے پاکستان میں وہ ہر چیز کا مالک ہوتا ہے۔ اب آپ کی حکومت میں ہوتے ہوئے پوری کی پوری کارروائی ہوئی ہے (جوکہ سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے)۔ پھر آپ کس طرح سے الزامات کو غلط کہہ رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے سیاسی ماحول میں ویسی گرما گرمی نہیں ہے جیسی کے ہونی چاہئے تھی۔ باقی تمام سیاسی جماعتیں بہت دھیمے لہجے میں وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آخر یہ لہجے اتنے نرم اور دھیمے کیوں ہیں۔ کیا باقی تمام لوگوں کو بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے جیسا کہ موجودہ وزیراعظم کے ساتھ ہورہا ہے۔ یقیناً اس ملک میں صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ اور بہت سارے اشرافیہ اسی فہرست میں شامل ہیں جس پر نواز شریف ک موجودگی ان کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔  پاکستانی قوم نے ہمیشہ محنت کی  لیکن رہنماؤں نے قرضوں اور بد عنوانی کے ذریعے اس قوم کو کمزور کیا۔  پاکستان کو اس وقت انا کے بتوں نے جکڑ رکھا ہے اور کوئی بھی اس بات پر دھیان نہیں دے رہا کہ ان کی انا کی بھینٹ پاکستان اور پاکستان کے غریب عوام چڑھ رہے ہیں۔

بعض لوگ جمھوریت کو بچانے کا راگ الاپ رہے ہیں۔  دوسری طرف دشمن اپنی چالیں چل رہا ہے۔ لوگ کلبھوشن کو بھول گئے ہیں کیا آپ کا یہ کوئی سیاسی حربہ تو نہیں ہے۔ دوسری طرف ریمنڈ ڈیوس کو لے آئے مگرپانامہ پر سے دھیان نہیں ہٹا سکے۔ وزیرِ اعظم صاحب نے اپنی کرسی سے محبت کی، کرسی تک پہنچانے والوں کو بھول گئے۔ اور  خوشامدیوں کے جھرمٹ میں پھنس گئے۔ لیکن اللہ کی گرفت ہوتی ہے خواہ  دیر سے ہو۔ لیکن ہم لوگ بھول جاتے ہیں اور تاریخ کا سبق یاد نہیں رکھتے۔

اب بھی وقت ہے کہ سب  اپنی اپنی ضرورتیں پاکستان پر قربان کردیں۔  پاکستان رہے گا تو تمہاری سیاست چلے گی ورنہ کوئی نام لینے والا بھی نہیں ہوگا۔ ایسا کچھ کر کے جاؤ کے اچھے لفظوں سے یاد کیا جائے۔ ورنہ کہاں پہنچ جاؤ گے یہ تو سب کو ہی پتہ ہے۔ ہر شے فنا ہونے والی ہے۔ پاکستان کی سالمیت کی خاطر سب ایک ہوجائیں تو  بہترہے۔