دہشت گردی اور دہشت گردوں کو وسائل کی فراہمی!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 18 / جولائی / 2017
- 4902
افغانستان میں امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ بین الاقوامی نیٹو فورسز اور افغان فوجیوں نے جنوبی افغانستان میں منشیات کے اسمگلروں کو ہلاک کرکے بہت بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی ہیں۔ فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلمند صوبے کے مرجہ گاؤں میں چار دن کی کارروائی کے دوران یہ کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پوست کے 92 ٹن بیج اور چھ ٹن دوسری منشیات قبضے میں لی گئی ہیں جس سے منشیات کا ایک بہت بڑا گروہ ختم کر دیا گیا ہے۔ طالبان نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بات یاد رکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ ہلمند صوبہ میں پوست بڑی تعداد میں کاشت کی جاتی ہے اور اس صوبے سے دنیا کو فراہم کی جانے والی منشیات کا 90 فیصد حصہ آتا ہے۔ ادھر تہران میں گزشتہ دنوں ایران اور افغانستان کی ایک روزہ کانفرنس میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے منسلک دوسرے معاملات زیر غور آئے ہیں جبکہ افیون کی پیداوار سے لاحق خطرات پر بھی گفتگو ہوئی کہ طالبان (افغانی) اپنی کارروائیوں کےلئے پوست کی کاشت سے رقم فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں نیٹو ممالک کے وزرا دفاع کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ طالبان افیون کی تجارت سے سالانہ ایک سو ملین ڈالر کما رہے ہیں جس سے وہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف لڑنے کیلئے اسلحہ خریدتے ہیں۔ قبل اس کے نیٹو کے آپریشنز کمانڈر امریکی جنرل جان کراڈوک نے نیٹو کے 26 ممالک سے درخواست کی تھی کہ وہ افغانستان میں طالبان کے حملوں کی روک تھام کیلئے وہاں قائم افیون کی فصل، لیبارٹریوں، اسمگلروں کے نیٹ ورک اور منشیات کے اسمگلروں پر بمباری کی اجازت دے۔ جنرل جان نے یہ بھی کہا کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی طالبان کی امداد کا بڑا ذریعہ ہے اور اس کو ختم کئے بغیر افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے اتحادی کمانڈروں کو بتایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں ہیروئن کے کاروبار میں ملوث بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور ان لیبارٹریوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ طالبان کو جنگ کے لئے مالی وسائل مہیا نہ ہو سکیں جبکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق افغانستان کی 50 فیصد معیشت منشیات کے دھندے پر ہی منحصر ہے۔
ان ’’بڑی مچھلیوں‘‘ کے ذکر کے حوالے سے نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے بھائی ولی کرزئی منشیات کے بڑے تاجر ہیں۔ لیکن حامد کرزئی اپنے بھائی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ٹھوس ثبوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ منشیات کی تجارت میں حامد کرزئی کے بھائی کے ملوث ہونے کے الزامات کے پس منظر میں امریکی عہدے داروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تاثر کہ حامد کرزئی اپنے بھائی کا تحفظ کر سکتے ہیں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 2004 میں قندھار کے باہر ایک ٹریکٹر ٹرالی سے منشیات کی بہت بڑی تعداد برآمد ہوئی تھی۔ افغانی فوج کے مقامی کمانڈر حبیب اللہ جان نے بڑی تیزی کے ساتھ منشیات سے بھری ٹرالی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ لیکن کمانڈر کے بقول کچھ ہی دیر میں انہیں صوبائی کونسل قندھار کے صدر احمد ولی کرزئی کا اور صدر حامد کرزئی کے ایک دوست شیدا محمد کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ ٹرک اور منشیات کو چھوڑ دیں جس کی انہوں نے تعمیل کی۔ اس طرح کمانڈر حبیب اللہ جان بعد میں رکن پارلیمنٹ بن گئے اور اسی طرح بعد میں انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
نیویارک نے مزید لکھا ہے کہ اس کے بعد 2006 میں امریکی اور افغان اہلکاروں نے کابل کے مضافات میں منشیات سے بھرا ایک اور ٹرک پکڑا جس کی اطلاع حکام کو حاجی امن خیری نامی مخبر نے دی تھی۔ ایک سال کے بعد اسی حاجی امن خیری کو افغان نائب صدر کے قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ 2007 میں افغان صدر کرزئی کو امریکی سفیر اور سی آئی اے کے اسٹیشن چیف نے ایک بریفنگ دی جس میں انہیں ان کے بھائی احمد علی کرزئی پر الزامات کے بارے میں بتایا گیا لیکن حامد کرزئی نے امریکی حکام سے ثبوتوں کا مطالبہ کر دیا۔ اخبار کا کہناہے کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی حکام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ احمد ولی کرزئی منشیات کی تجارت میں ملوث ہیں تاہم کسی ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے احمد ولی پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان الزامات سے کرزئی کی ساکھ کو امکانی نقصان کے علاوہ امریکی انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ اس قسم کے تاثرات کرزئی حکومت کو مستحکم بنانے کےلئے امریکی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ کرزئی حکومت پہلے ہی دشمنوں اور طالبان کی کارروائی میں گھری ہوئی ہے اس صورت حال کو منشیات کی رقم نے اور بھی بدتر بنا دیا ہے۔ اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ افغانستان جو منشیات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے کو اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ بلکہ پورے خطے میں پڑیں گے۔
یہی وجہ ہے اقوام متحدہ کے انسداد منشیات کے سربراہ انٹونی ماریہ کوسٹر نے گزشتہ دنوں برسلز (بلجیم) میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی طرف سے انسداد منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کے سدباب کےلئے کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے اور بتایا ہے کہ 3500 ایرانی سکیورٹی اہلکار ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ انٹونی ماریہ کوسٹر نے پریس کو یہ بھی بتایا کہ افغانستان کے سرحدی علاقے اس وقت منشیات فروشی اور ہیروئن اسمگلنگ کے گڑھ بنتے جا رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان کے صرف 12 صوبے منشیات کی اسمگلنگ سے بچے ہوئے ہیں جبکہ باقی کے تمام صوبے اس لعنت میں براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ 2012 کی نسبت 2015 میں ہیروئن اور دوسری منشیات کی پیداوار میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے اور طالبان کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ منشیات اور اسمگلنگ ہے۔
افغانستان میں محض دس ہزار طالبان موجود ہیں۔ اور ایک ’’طالب‘‘ پر آنے والا خرچ 40 سے 50 ہزار روپے تک ہے تو اس طرح سالانہ دو سے تین ارب تک رقم خرچ ہو رہی ہے، یہ رقم یہاں سے آ رہی ہے؟
میں بھی سوچتا ہوں، آپ بھی سوچئے.....
’’ستائے گی کسی دن بادباراں میں نہ کہتا تھا‘‘