بڑے ضروری کم لگّے آں
- تحریر
- منگل 18 / جولائی / 2017
- 5010
شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے ایک نمایاں منظر رکشے اور ٹرکوں کی پشت پر لکھی دلچسپ شاعری بھی ہے۔ اپنے اپنے مزاج اور رنگ کی مظہر۔ اس شاعری میں وزن کا اہتمام تو نہیں ہوتا البتہ جذبات کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ ممتا کے لئے ایک نمایاں ترین قول یوں لکھا پایا: ماں کی دعا ، جنت کی ہوا۔ کچھ قانون پسند یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہارن دو راستہ لو لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو سماج کے عام چلن پر ہی خود کو کاربند بتلاتے ہیں، پاس کر یا برداشت کر۔ کچھ ڈرائیورز ہمسفر ناظرین کو اپنے وطن آنے کی دعوت یوں دیتے ہیں ، کبھی آؤ نہ ہمارے شہر ! جنہیں تاریخ سے کچھ شغف ہوتا ہے ان کے ہاں سابق صدر ایوب کی تصویر کے ساتھ اکثر ایک قول یوں درج پایا، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔ کچھ مزاحیہ اقوال بھی مقبولِ عام دیکھے جن میں ایک کچھ یوں ہے، پپو یار تنگ نہ کر!
یہ فقرہ ایک ضرب المثل کی طرح مشہور ہوا۔ اردو اور پنجابی کے طرح دار مزاحیہ شاعرانور مسعود کی ایک خوب صورت نظم اسی فقرے سے تحریک پا کر لکھی گئی۔ اس نظم کا ابتدائی بند حد درجہ ‘مصروفیت‘ کے بعد ایک اور مصروفیت میں الجھے ہوئے شخص کی پپو کو پیار کی جھڑکی ہے:
پپو سانوں تنگ نہ کر توں
بڑے ضروری کم لگے آں
سوچی پئے آں ہن کیہہ کریے
ہر خاص و عام کو کچھ عرصے سے پانامہ کیس اور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یوں محو پایا کہ کسی اور موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کسی انجانی ہتک کا ڈر رہتا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر نان سٹاپ تبصرے اور جوابی تبصروں کے معرکے برپا ہیں۔ میڈیا پر ممکنہ منظر ناموں پر سیر حاصل بحث ہو رہی ہے۔ اپنی اپنی سیاسی پسند اور خواہش کے مطابق چینل لگایا جاتا ہے اور تبصرہ سنا اور دوسروں سے منوایا جاتا ہے۔ اپوزیشن کے نئے نئے اتحاد کا ایک نکاتی مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں۔ پریس کانفرنسوں اور ملاقاتوں کے دور پہ دور چل رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور اس کی اتحادی پارٹیاں دہائی دے رہی ہیں کہ سازش کی بو انہیں اس قدر شدت سے محسوس ہو رہی کہ ان کا دماغ پھٹا جا رہا ہے۔ پانامہ کیس اب آخری مرحلے میں سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ عدالت کے اندر فیصلہ ہونے میں تو وقت لگے گا لیکن عجلت پسند ہر روز کچہری لگا کر اپنی اپنی مرضی کا فیصلہ اور ا سکے لئے دلائل دیتے بے حال ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی حال سے بے حال کر دیتے ہیں۔
اس قدر حال مست احباب نے اْن اہم خبروں اور واقعات کو بھی اسی لئے مونہہ نہیں لگایا گو ان کا ہمارے حال بلکہ مسقبل سے بھی پانامہ کی طرح گہرا تعلق ہے۔ اگر کوئی انہیں باور کروانے کی کوشش کرے بھی تو کچھ اسی طرح سننے کو ملتا ہے، پپو یار سانوں تنگ نہ کر۔ چلئے میڈیا کا تو دھندہ ہی خبر اور تبصرے ہیں لیکن اللہ بھلا کرے سمارٹ فون سے لیس لاکھوں بلکہ کروڑوں تبصرہ نگار جس محویت سے پانامہ اور اس کے ممکنہ فیصلے کے ڈی این اے پر الجھے ہوئے ہیں، انہیں ان پھیکی اور بدمزہ خبروں سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کی جس معروف کمپنی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کو بہتر شرح نمو اور معاشی اشاریوں میں بہتری کی بناء پر اپ گریڈ کرکے B3 کیا تھا، اس نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک وضاحتی تبصرے میں بتلایا کہ تسلیم کہ پاکستان کی شرح نمو بہتر ہوئی ہے لیکن معیشت کو لاحق خطرات کے بادل اب بھی قریب ہی منڈلا رہے ہیں۔ مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.7 اور 5% کے درمیان ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں کمی کے بْوبی ٹریپ سے بھی خیر کی توقع نہیں۔ رہے زرِ مبادلہ کے ذخائر ، تو یہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی درآمدات کے لئے عالمی معیار کے حساب سے ناکافی ہیں۔ شرح نمو ضرور بہتر ہوئی ہے لیکن بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی قرضے پریشانی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ تان اس وضاحتی نوٹ کی یہاں ٹوٹی کہ معاشی ترقی کی کہانی میں یہ جو سیاسی عدم استحکام کا نیا موڑ آیا ہے یہ سب سے خطر ناک اور سب پر بھاری ہو سکتا ہے۔
کچھ اسی طرح کی رپورٹ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی بھی تھی۔ کاروباری رکھ رکھاؤ کے مطابق رپورٹ میں پاکستانی معیشت کے مثبت پہلوؤں کا تفصیلی ذکر ہے مگر اس کے بعد یہ اندیشے رپورٹ میں چھائے ہوئے ہیں کہ دور رس اور اصلاحات پر مبنی پالیسیوں کے عمل درآمد میں سستی در آئی ہے اور معیشت کے کئی بنیادی اشاریوں میں خطرناک منفی رجحانات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ریکارڈ مالیاتی خسارہ اور زرِ مبادلہ پر بڑھتا ہوا دباؤ خیر کی خبرنہیں۔ گو حکومت کا خیال ہے کہ سی پیک کی وجہ سے درآمدات میں مشینری وغیرہ کی وجہ سے درآمدات میں یہ بے محابہ اضافہ عارضی ہے ، لہذٰا گھبرانے کی بات نہیں۔ آنے والوں دنوں میں مالی خسارے کو قابو رکھنے کے لئے حکومت کو بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ خلاصہ ان اندیشوں کا یہ ہے کہ نوزائیدہ شرح نمو کو کئی خطرات لاحق حاصل ہیں، اس لئے مشتری ہوشیار باش رہے۔
گزشتہ ہفتے امریکہ میں کانگریس کے ایک پینل نے پاکستان کی فوجی امداد پر پابندیاں لگانے اور اسے مشروط کرنے کی سفارشات منظور کیں جنہیں منظوری کے لئے کانگر یس میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی پینل نے شکیل آفریدی کو عالمی ہیرو قرار دیا اور اس کی جلد رِہائی کا مطالبہ بھی کیا ۔ اسی دوران ایوانِ نمائندگان نے دفاعی بجٹ کی منظوری کے دوران پاکستان کو دی جانے والی دفاعی امداد پر کڑی شرائط عائد کرنے کی منظوری دی جن کے مطابق پاکستان کو بقول اس کے افغانستان میں کاروائیاں کرنے والے گروپوں کی بیخ کنی میں موثر کردار ادا کرنا ہوگا ۔ امداد کی فراہمی سیکریٹری دفاع کی سالانہ تصدیق سے مشروط ہو گی۔ ماضی میں بھی یہ تصدیق نامہ امریکی دباؤ کا یک ہتھکنڈہ رہا ہے۔ ٹرمپ انتطامیہ افغانستان میں اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہی ہے جس کے تحت زمینی فوج میں چند ہزار فوجیوں میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سیکریٹری دفاع جنرل میٹیس نے یہ کنفر م کیا کہ نئی پالیسی میں علاقائی تناظر بھی اہم عنصر ہوگا۔ اس اعتبار سے پاکستان کا کردار بھی زیر غور ہے۔ مجموعی طور پر اس پالیسی میں پاکستان سے ڈو مور کی مزید توقع کی جا رہی ہے۔
علاقائی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی نازک اور پیچیدہ ہے ۔ پاک بھارت سرحد پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ افغانستان کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تناؤ برقرار ہے۔ ایران کے ساتھ سرحد پر شدت پسندوں کی وجہ سے مسائل ہیں۔ گزشتہ ہفتے جائنٹ چیفس آف سٹاف نے کراچی میں لگی لپٹی رکھے بغیر بتلایا کہ بھارت بلوچستان میں شر انگیز کاروائیوں سے باز نہیں آرہا ۔ ملک کے اندر دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد فوج نے اتوار کو خیبر ایجنسی میں نیا آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد کا راستہ روکا جا سکے۔
یہ سب کچھ دیکھنے سننے کا اکثر کے پاس وقت ہے نہ ترجیح۔ حکومت اپنے بچاؤ میں مصروف ہے اور اپوزیشن اس کی روانگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ کل سے عدالت میں کیس دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور اسکے ناطرین و صارفین کے پاس تو سر کھجانے کا بھی وقت نہیں۔ اب ایسے میں معیشت اور سلامتی کے مسائل کے لئے وقت کہاں سے لائیں، کیوں لائیں۔ اس الجھن پر مسعود انور کی اسی نظم کے دو بند بہت ہی حسبِ حال ہیں:
رزق، سیاست، عشق کوِتّا
کجھ وی خالص رہن نہ دِتّا
ساری کھیڈ ونجا بیٹھے آں
دودھ وچ سرکا پا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہن کیہہ کریے
سودا کوئی پجھدا ناہیں
کوئی رستہ سجھدا ناہیں
رستے وچ آ بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہن کیہہ کریے
( رزق، سیاست، عشق اور شاعری، کچھ بھی تو خالص نہیں رہنے دیا۔ سارا کھیل ہی خراب کر بیٹھے ہیں، بالکل ایسے جیسے دودھ میں سرکہ ملا کر خراب کر بیٹھے ہوں۔ اور سوچ رہے ہیں کہ اب کیا کریں۔ کوئی بھی حل نہیں سوجھتا اور نہ کوئی راستہ دِکھائی دیتا ہے۔ اِسی ادھیڑ بن میں راستے کے بیچ آن بیٹھے ہیں اور سوچے جا رہے ہیں کہ اب کیا کریں )