قانون کی بالادستی کا وقت ہے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 19 / جولائی / 2017
- 5131
اجارہ داری کے لغوی معنی ہیں بلا شرکت غیرتسلط جبکہ بالادستی کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ طے شدہ اور واضح کردہ اختیار کا بھرپور استعمال ۔ جہاں اجارہ داری ہوتی ہے وہاں فرد یا افراد اپنی من مانی کرتے ہیں اور معاشرہ ابتری کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں بدلاؤ کسی مخصوص سوچ کا محتاج ہوتا ہے ۔ دوسری طرف باہمی رضامندی اور افہام و تفہیم سے مرتب کردہ معاشرے کیلئے باقاعدہ ایک دستاویز کا مرتب دینا اور اس دستاویز کے مطابق معاشرے کو چلانا بالادستی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک کائناتی دستاویز (قرآن مجید ) موجود ہے اور اس پر چل کر ہی ہم فلاح پاسکتے ہیں اور معاشرے کا نظم و نسق بہترین انداز سے چلا سکتے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں رہنے والوں کیلئے قوانین وضع ہوتے ہیں اور ان پر عمل معاشرے میں امن اور سلامتی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ ہر ملک میں قانون بنانے والے ادارے ہوتے ہیں جہاں جمہوری طرزِ عمل سے ہونے والے انتخابات میں منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے عوام کی سہولت اور ملک کی بہبود کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔ ان منتخب شدہ نمائندوں پر بھی اپنے بنائے ہوئے اور مروجہ قوانین کا احترام واجب ہوتا ہے۔ وہ ان قوانین کی بالادستی میں حائل ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ رویہ کسی معاشرے کے استحکام کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی کامیاب طرزِ حکومت نہیں رہا جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان آزادی سے لے کر آج تک دہرے نظام کا شکار رہا ہے۔ یہاں جمہوریت کم اور فوجی شخصی حکومت زیادہ نافذ رہی ہے۔ سیاستدانوں کی تربیت و نشونما بھی اسی آمرانہ ماحول میں ہوئی ہے۔ اس لئے وہ منتخب تو جمہوری طریقے سے ہوتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کےبعد آمرانہ طز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اتخابات تو جمہوری طرز سے ہوتے ہیں مگر ان کے نتائج کون سے طریقے سے نکلتے ہیں یہ آج تک کوئی بھی نہیں جان سکا۔ جلسے جلوسوں میں کسی اور کی جیت دکھائی دیتی ہے اورجب ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے تو جیت کوئی اور جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں جسے اقتدار ملتا ہے وہ مکمل حاکمیت اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور خوشامد پسندوں کے جھرمٹ میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اپنے ہی بنائے ہوئے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے پاکستان زوال کا شکار رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے باوجود احترام اور وقار حاصل نہیں کرسکا۔
پاکستان میں موجودہ صاحبِ اقتدار پر بین الاقوامی سطح پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہیں دنیا پانامہ لیکس کے نام سے جانتی ہے ۔ان الزامات کی زد میں دنیا کے اور بہت سارے سیاست دان و حکمران اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آئے ہیں۔ پاکستان کے سوا اکثر ملکوں میں ایسے افراد نے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیار کی اور اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کیا۔ عہدوں سے سبکدوشی شاید قانون کی رو ضروری نہ بھی ہو مگر اخلاقی طور پر ایسا کرنا لازمی تھا۔ البتہ پاکستان میں اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریز کیا گیا۔ اب پانامہ کا معاملہ طویل مسافت طے کرتا ہوا منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے ۔ الزامات کی صحت کے بارے میں کچھ واضح نہیں کہا جاسکتا مگر اخلاقی طور پر صاحب اقتدار اور ان کے اہل خانہ قصور وار قرار پا چکے ہیں۔ یہ ایسا جرم ہے کہ ایک غیرت مند قوم اب انہیں اپنا حکمران تسلیم نہیں کرے گی۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہوں گی۔ تاہم آج پاکستان میں قانون اجارہ داری کی ایک طویل قید سے نکل کر بالادستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ صاحب اقتدار کا احتساب ہو رہا ہے۔ نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ مگر ایک خوف ہے جو پریشانی کا سبب ہے۔ کہ آنے والے انتخابات میں لوگ پھر قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے والوں کو جتوادیں گے۔ قانون اور قانون پر عمل کرانے والے اسی خوف سے انصاف نہیں کر پاتے ۔ پاکستان کو بدلنے کا اس سے بہتر موقع شاید ہی پھر کبھی پاکستانیوں کو میسر آئے۔ قانون اب بااثر لوگوں کی ملکیت سے آزادی چاہتا ہے اور اپنی بالادستی قائم کرنے کو تیار ہے۔