برلن کا ادبی اور ثقافتی سفر

پندرہ جولائی کو بزمِ ادب برلن نے شامِ افسانہ کی محفل کا اہتمام کیا جس میں دنیا کے کئی نامور افسانہ نگاروں نے شرکت کی۔ مجھے اس تقریب کی صدارت کرنے کا موقع دیا گیا۔ یوں تو برلن میرا پہلا سفر تھا لیکن برلن کو دیکھنے کا شوق برسوں سے تھا۔  کیوں کہ  برلن دنیا کا ایک تاریخی شہر ہے جس سے ہم اور آپ انکار نہیں کر سکتے ہیں۔

جرمنی کا جب بھی ذکر آتا ہے تو ہٹلر کا نام لئے بغیر بات نامکمل سی محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے تو اب بھی کئی لوگوں کو ہٹلر کی ہمدردی میں بات کرتے ہوئے پایا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کافی ظلم کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اب بھی بہت سارے لوگ ہٹلر کے اس قدم کی سراہتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جب ایک قوم اور مذہب کے لوگوں سے نفرت کی جائے تو دوسری قوم اور مذہب کے لوگ ایسے اقدام کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ آدمی شاید اس قوم کی زیادتی یا جبر سے پریشان اور عاجز ہو کر ایسی باتیں کر رہا ہے۔ لیکن میں اس طرح کے اقدام کو کسی بھی صورتِ حال میں غیر ضروری اور زیادتی سمجھتا ہوں ۔ انسان کی جان اگر اس بات سے لی جائے کہ وہ ایک خاص فرقے، مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہے تو میں ایسے اقدام کو انسانیت کے نام پر کلنک سمجھتا ہوں۔ ایک انسان خواہ وہ کتنا ہی طاقتور یا اثرو رسوخ والا کیوں نہ ہو اسے کسی بھی انسان ، فرقہ ، مذہب یا نسل کے لوگوں کے جان لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس کی عمدہ مثال ہم نے جرمنی کی راجدھانی برلن میں پائی۔ برلن میں ہٹلر کا کوئی نام و نشان ہم نے نہیں پایا اور نہ ہی کسی کو ہٹلر کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھا۔ معلوم کرنے پر پتہ یہ چلا کہ دراصل ہٹلر کو نازی تحریک کا سربراہ مانا جاتا تھا اور نئی نسل نے ہٹلر کے اصول کو مسترد کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جرمنی ایک مضبوط اور یورپ کی رہنمائی کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ہم نے جرمنی کے لوگوں کو صابر، روادار، نرم خو، مہذب اور مدد گار پایا۔ جس سے ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ ہٹلر کی جارحانہ اور نسل پرستی کو لوگوں نے ٹھکرا دیا ہے ۔ لوگوں کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے جرمنی نے اتنے برسوں میں دنیا کے سامنے ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا ہٹلر جیسے ظالم کو کبھی قبول نہیں کرےگی۔

جمعہ 14 جولائی کی شام لندن کے گیٹ ویِک ائیر پورٹ سے روانہ ہو کر دو گھنٹے کے سفر کے بعد تاریخی شہر برلن پہنچا۔ یوں تو برلن میں کئی ائیر پورٹ ہیں لیکن ہمارا  جہاز شونے فیلڈ پر اترا۔ امیگریشن کی کارروائی  کے بعد باہر نکلا تو ایک صاحب نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا میں انور ظہیر ہوں۔ دراصل انور ظہیر سے میرا غائبانہ تعارف تو تھا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ انور ظہیر بزمِ ادب برلن کے سیکریٹری سرور غزالی کے بھائی ہیں۔ انور ظہیر تیزی سے برلن کی خوبصورت سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہے تھے اور کچھ رسمی گفتگو کے بعد میں نے ان سے سرور کے بھائی انور کو جاننے کی لاعلمی کا اظہار کرتا رہا۔ مجھے اپنی اس نادانی پر حیرانی کم اور ہنسی زیادہ آرہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم اپنے ہوٹل پہنچ گئے اور انور ظہیر رہبر ہم سے کل ملنے کا وعدہ کرکے جدا ہوگئے۔

سنیچر پندرہ جولائی کی صبح ہم تیا ر ہو کر سرور غزالی کے ہمراہ نکل پڑے۔ ہم نے سرور بھائی سے درخواست کی کہ ہمیں شہر گھومنے کے لئے ہوپ آن اور ہوپ آف والی بس پر چڑھا دیں۔ سرور بھائی نے گزنڈ برونن علاقے سے کھلی چھت والی بس پر چڑھا دیا۔ بس سیّاحوں سے بھری ہوئی تھا اور ہم برلن شہر کی تاریخی عمارتوں اورایک جرمن گائیڈ  سے  جرمنی کے تاریخ سے لطف اندوز ہو نے لگے۔ ان میں روٹے راتھ ہاؤس، نیچچون برنن، اورانین برگر اسڑاسے، ناؤ سینا گوگے، ہاؤ پٹ بان ہوف، دیوارِبرلن، آکراسٹرا سے، خندق گیزنڈ برنن، ماور پارک، شون ہاؤ ذر آلے، شیو یڑ اسڑاسے، الیکزئینڈر پلٹس، کال مارکس، آلے، ایسٹ سائیڈ گلیری اور اوسٹ بان ہوف اہم جگہ ہیں۔ ان میں دیوارِ برلن نے مجھے سب سے  زیادہ متاثر کیا کیونکہ یہ وہ دیوار تھی جس نے ایسٹ اور ویسٹ برلن کو یکجا کیا تھا۔

ہفتہ پندرہ جولائی کی صبح ہم تیار ہو کر سرور غزالی کے ہمراہ نکل پڑے۔ ہم نے سرور بھائی سے درخواست کی کہ ہمیں شہر گھومنے کے لئے ہوپ آن اور ہوپ آف والی بس پر چڑھا دے۔ سرور بھائی نے گزنڈ برونن علاقے سے کھلی چھت والی بس پر چڑھا دیا۔ بس سیّاحوں سے بھری ہوئی تھی اور ہم برلن شہر کی تاریخی عمارتوں اورایک جرمن گائیڈ کے ذریعے جرمنی کے تاریخ سے لطف اندوز ہو نے لگے۔ ان میں روٹے راتھ ہاؤس، نیچچون برنن، اورانین برگر اسڑاسے، ناؤ سینا گوگے، ہاؤ پٹ بان ہوف، دیوارِبرلن، آکراسٹرا سے، خندق گیزنڈ برنن، ماور پارک، شون ہاؤ ذر  ہیں۔ ان میں دیوارِ برلن نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ یہ وہ دیوار تھی جس نے ایسٹ اور ویسٹ برلن کو یکجا کیا تھا۔

شام کو بزمِ ادب برلن کی شامِ افسانہ کی محفل میں شرکت کی اور اس کی صدارت کا شرف مجھے حاصل ہوا ۔ جن لوگوں نے اپنے افسانے سنائے ان میں جرمنی سے ششیلا شرما، ڈاکٹرعشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر، ہما فلک، عزیز اور ارشاد صاحب کے نام اہم ہیں ۔ ناروے سے تشریف لائے فیصل نواز چودھری اور مانچسٹر سے سید احمد نظامی نے بھی اپنے افسانوں سے سامعین کو محظوظ کیا۔ نظامت کے فرائض میزبان سرور غزالی نے بحسنِ خوبی ادا کئے۔ آخر میں ہم نے اپنا افسانہ’ رکشہ والا‘ سنایا۔

اتوار سولہ جولائی کو ہم حمزہ واصف کے ہمراہ برانڈن برگ گیٹ، ریستیگ بلڈنگ اور چیک پوائینٹ چارلی دیکھنے گئے۔ چارلی پوائینٹ پر سیّاحوں کا ہجوم تصویریں اتروانے میں مصروف تھے جو شاید ان دنوں کو یاد کر رہے تھے جب مشرقی جرمنی والوں کو مغربی جرمنی آنے کے لئے پاس رکھنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ شام کو د یسی دھوم ریڈیو کی دعوت پر ہمارا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ جس میں میری زندگی ، شوق اور ادب کے حوالے سے سوالات کئے گئے۔ سرور غزالی کی اصرار پر میں نے کہانی لال کرسی بھی سنائی۔

سوموار سترہ جولائی کی صبح انور ظہیر رہبر نے ہمیں پوسٹ ڈام شہر دکھانے کی خواہش ظاہر کی اور ہم ان کے ہمراہ نکل پڑے۔ راستے بھر انور ظہیر اور میں جرمنی کی تاریخ اور حالاتِ حاضرہ پر تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ پوٹس ڈام پہنچ کر انور ظہیر نے مجھے اس کی تاریخ سے متعارف کرایا۔ اس کے بعد مشہور سن سوسی محل میں داخل ہوئے  ۔ ابھی ہم محو گفتگو تھے کہ میری نظر ایک قبر پر پڑی جس پر کئی تازہ آلو رکھے ہوئے تھے۔ اس کے متعلق انور ظہیر نے مجھے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ یہاں کے بادشاہ نے سب سے پہلے آلو کو جرمنی میں متعارف کرایا تھا۔ جس کے بعد لگ بھگ تین سو قسم کے آلو اگائے جاتے ہیں۔ اسی لئے بادشاہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے روزانہ ان کی قبر پر تازہ آلو رکھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بادشاہ کے قبر کے پاس ہی ان کے گیارہ کتّوں کو بھی دفنایا گیا ہے۔ پوسٹ ڈام دریائے ہافل کے کنارے واقع ہے۔ یہ برلن شہر سے پندرہ میل کی دور ی پر ہے۔ پوسٹ ڈام 1918تک پہلے پروسئین بادشاہ اور اس کے بعد جرمن قیصر کی رہائش گاہ تھی۔ سن سوسی محل کی خوبصورتی اور اس کے باغیچے قابلِ ستائش ہیں۔ پورا علاقہ سر شبز اور انگور کے پیڑ سے سجا ہوا ہے۔

سہ پہر کے لگ بھگ  ہم انور ظہیر رہبر کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پر واپس آ گئے۔ انور ظہیر کی بیگم ڈاکٹر عشرت معین سیما جو کہ ایک معروف ادیبہ ، افسانہ نگار اور شاعر ہیں انہوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈاکٹر سیما نے مجھ سے پوچھا کہ آپ بریانی پسند کرتے ہیں۔ میں نے برجستہ جواب دیا کہ ’ بریانی ہماری مذہبی اور قومی غذا ہے لہٰذا میں اسے شوق سے کھاؤں گا۔ میری بات پر دونوں ہنس پڑے اور ہم نے لذیز کھانے کا خوب مزے لیا۔ اس طرح برلن کا ایک یادگار سفر کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔